• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

سجاد عباسی صاحب نے اپنی زندگی کی اس پہلی کاوش صحافت بیتی میں تنقید کی گنجائش نہیں چھوڑی

تحریر :سردار رب نواز

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
ستمبر 22, 2025
in کالمز
0
سجاد عباسی صاحب نے اپنی زندگی کی اس پہلی کاوش صحافت بیتی میں تنقید کی گنجائش نہیں چھوڑی
0
SHARES
5
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

صحافت بیتی کا مطالعہ چھوٹی بڑی چار نشستوں میں تکمیل کو پہنچا ۔میری دانست میں تو اس کتاب پر تفصیلی تبصرہ کے لیئے بھی شاید کتاب ہی لکھنی پڑے ۔سجاد عباسی صاحب سے کتاب وصول کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ حضور والا پیشگی معذرت چاہونگا کہ میں اپنے زیرِ مطالعہ چیزوں کو بالعموم ایک تنقید نگار کے زاویے سے دیکھتا ہوں تو موصوف نے انتہائی خندہ پیشانی سے مسکراتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ میں آپ کے تنقیدی تبصرے کو اپنے علم میں اضافہ اور ایک بہترین رہنمائی سمجھوں گا ۔۔۔اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ سجاد عباسی صاحب نے اپنی زندگی کی اس پہلی کاوش صحافت بیتی میں تنقید کی گنجائش نہیں چھوڑی ۔۔۔شعبہ صحافت، علم ادب اور ذرائع ابلاغ کے لیئے اس کتاب کا سبجیکٹ، مضامین اور اسلوب ایک درسی نصاب جیسی حیثیت رکھتے ہیں ۔صحافت بیتی میں موضوع گفتگو بننے والے یہ معزز اور سینیئر ترین صحافی اپنے شعبے سے کس قدر مخلص رہے مطالعہ میں یہ بہت متاثر کن رہا اور ساتھ ہی اطفالِ مکاتبِ صحافت کو یہ سمجھنے میں وقت نہیں لگتا کہ ان افراد کے شب و روز قلم ، کتاب اور سوچ و فکر کے مدار میں ہی گھومتے رہے اور یہ لوگ اس شعبے کے ایسے درویش نابغے ہیں جنہیں موجودہ صحافت اور زمانے کی چکا چوند روشنیاں مائل نہ کرسکیں ۔
الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا اپنی برق رفتار شہرت ، دولت کی ریل پیل اور دیگر آسائشات اور وسائل کے باوجود ان حضرات کے مزاج ، علم و ہنر اور درویشی کو متزلزل کرنے میں ناکام رہا ۔
صحافت بیتی کے پہلے سبجیکٹ محمود شام کو پڑھنے سے ایسا لگا جیسے ساری صحافت یہاں سے شروع اور یہیں پر ختم ہوجاتی ہے اور اگر کتاب کا موضوع صرف محمود شام ہی ہوتے تو بھی بہت تھا لیکن آفرین ہے رائٹر کو کہ کوزے میں سات دریا بند کر لیئے ۔۔۔
سجاد عباسی کے ایک سوال کے جواب میں محمود شام کے یہ الفاظ دل میں اتر گئے۔پہلے ادیب، شاعر اور رائٹر اپنے مواد کے لیئے سماعتیں پیدا کرتے تھے اب سماعتوں کے لیئے مواد پیدا کرتے ہیں۔یعنی مارکیٹ میں جس چیز کی ڈیمانڈ ہے وہی کرتے ہیں۔اور کوئی شک نہیں کہ علم و ادب سے متعلق شعبوں بالخصوص صحافت میں بھی کمرشل ازم آگیا ڈیمانڈ & سپلائی والا بزنس چل پڑا ۔۔۔سوچ و فکر ، احساس و امتیاز ، عدل و توازن اور تحقیق و تخلیق کی جگہ مشینی پراڈکٹس جیسی مصنوعات پیش ہو رہی ہیں ۔نذیر لغاری کی ابتدائی زندگی کی اسٹوری ان کی پریکٹیکل زندگی سے زیادہ دلچسپ تھی ایک مرحلے پر دل میں یہ خیال آتا ہے کہ نذیر لغاری صاحب کے پیروں کو ضرور دیکھنا چاہیے جنہوں نے پنجاب سندھ اور بلوچستان کی پیدل خَاک چھانی۔
کراچی سےتربت تک پیدل چلنا تو ایک ریکارڈ کے طور پر یاد رکھنا چاہیے ۔
لغاری صاحب کی غربت کی لکیر سے بھی نیچے اٹی اور دبی ہوئی سلو موشن زندگی بذات خود ایک حیرت انگیز سفرنامہ ہے ۔۔۔
یہاں بھی ایک جگہ سجاد عباسی صاحب نے کمال لکھا نذیر لغاری جب سکھر کے لیئے روانہ ہوتےہیں تو ان کا ایک دوست کہتا ہے کہ لغاری صاحب سکھر میں دو کام کرنا ایک تو شیخ ایاز سے ملنا اور دوسرا سکھر بیراج پر جانا سنا ہے دونوں اندر سے ٹوٹ رہے ہیں ۔
سجاد عباسی صاحب نے یہاں ایک لائن میں سماں باندھ دیا۔سجاد عباسی صاحب نے صحافت کے مخصوص شعبے تک محدود مضامین اور شخصیات کو اتنی خوبصورتی سے اپنے الفاظ کی ترتیب میں پرویا کہ اس کتاب نے غیر صحافتی طبقات کی مطالعاتی دلچسپی بھی سمیٹ لی۔سجاد عباسی صاحب کی صحافت بیتی کے لیئے انتخاب کردہ شخصیات کی کامیابیوں کے پیچھے میں نے کچھ مشترکہ عوامل نوٹ کیئے ہیں جو ان رول ماڈل شخصیات کی پیشہ ورانہ زندگیوں میں قابل غور اور قابل تقلید ہیں ۔۔۔ان شخصیات نے انتہائی غربت اور نامساعد حالات میں بھی تعلیم سے تعلق کو منقطع نہیں ہونے دیا۔
دوسری مشترکہ چیز ان شخصیات کا ذاتی کردار ہے جس میں انتھک محنت ، ایمانداری ، شہرت اور دولت کی ہوس سے پاک زندگی دیکھنے میں آتی ہے ۔۔۔
مصنف نے اپنے تئیں ایک انوکھے اور خوبصورت موضوع کو جہاں ایک کتاب میں سمیٹا وہیں تشنگیء مطالعہ کو مزید کھول دیا سجاد عباسی نے صحافت بیتی کا خوبصورت اور سحر انگیز آغاز تو کردیا لیکن لگتا ہے کہ یہ صحافت ایک سمندر ہے اور اس طویل موضوع پر دیگر مصنفین کو بھی قلم پکڑنی چاہیے ۔۔۔

سجاد عباسی آپ کے لیئے ڈھیر ساری نیک تمناؤں کے ساتھ

کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیر
پہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریر
ہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالا
کچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریر
ہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہ
اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ ۔۔۔!!
فیض احمد فیض

پچھلی پوسٹ

واٹر کارپوریشن انتظامی غفلت پر پانی سیوریج کے واجبات 124ارب روپے تجاوز کرگیا

اگلی پوسٹ

این آئی سی وی ڈی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس 24 ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
این آئی سی وی ڈی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس 24 ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر

این آئی سی وی ڈی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس 24 ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper