کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی میں سپر ہائی وے میمن گوٹھ کے قریب سے تین خواجہ سراؤں کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے لیاابتدائی طور پر ریسکیو حکام نے بتایا کہ سپر ہائی وے میمن گوٹھ سے 3 لاشیں ملی ہیں جاں بحق افراد خواجہ سرا ہیں جنہیں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا بعدازاں پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچیپولیس حکام نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کے پاس سے کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے شناخت ہو سکے مقتولین کو سر سینے
اور ہاتھوں پر گولیاں لگیں ہیںایس ایچ او میمن گوٹھ جاوید ابڑو نے کہا کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں جائے وقوعہ ویران جگہ ہے گولیوں کے خول تلاش کر رہے ہیںپولیس حکام نے کہا کہ لگتا ہے خواجہ سرا سڑک کنارے لفٹ کیلیے کھڑے تھے کوئی فائرنگ کر کے فرار ہوگیا کرائم سین یونٹ کی ٹیم جائے وقوعہ پر موجود ہے اور واقعے کی تفتیش جاری ہے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تفصیلات طلب کر لیں اور آئی جی کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات دے دیےمراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ قاتلوں کو ہر صورت گرفتار کر کے مجھے رپورٹ پیش کی جائے خواجہ سرا وہ مظلوم طبقہ ہے جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے، ریاست کسی مظلوم اور معصوم شہری کا قتل برداشت نہیں کرے گیواضح رہے کہ جولائی میں پشاور کے علاقے تہکال میں نامعلوم حملہ آوروں نے خواجہ سرا کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا تھا، تہکال پلازہ کے کمرے سے مقتول کی لاش برآمد ہوئی تھیپولیس حکام کا کہنا تھا کہ نامعلوم قاتل واقعے کے بعد فرار ہوگئے تاہم مقتول خواجہ سرا کی لاش پوسٹ مارٹم کیلیے بھجوا دی گئیپولیس نے بتایا تھا کہ اس کے جسم کے اوپری حصے اور کھوپڑی پر گولیوں کے متعدد زخم آئے تھے جو جان لیوا ثابت ہوئے
