گلوبل پِنڈ( محمد نواز طاہر)۔ جیب میں پیسہ نہ ہو یا کم ہو تو جینا اور آگے بڑھنا مشکل کام ضرور ہے ناممکن نہیں ، تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کسمپُرسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے ، اسے ضربِ عضب لگائی اور آپریشن بنیان المرصوص کیا وہ فاتح قرار پائے ۔ یہ کیمرے کے ٹِرک والے یا بیانات اور شوبازیوں والے نہیں حقیقی ہیرو اور رہبرِ ترقی ہوتے ہیں ، یہ اسلام کے نظام مساوات اور غیر اسلامی قرار پانے والے مساوی حقوق کے داعی سوشلزم کے پیروکار ہوتے ہیں اور اس پر عملی زندگی میں نئے پودوں کی آبیاری کرتے یا کم از کم کرنے کی کوشش اور اس راہ پر چلنے والوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔یہ کہیں چھپے ہوئے نہیں ہوتے ، ہماری نظروں کے سامنے ، آس پاس گردو نواح میں ہی ہوتے ہیں ، پیشہ صحافت میں مجھے خوش بختی سے ایسے ہی ایک ہیرو نثار عثمانی کی قربت رہی ، جس نے پیسہ کمانے کی ترجیح پر سماج سدھار کوشش کی لگن پیدا کرنے کی
’گمراہی ‘ اور دلدل میں دھکیل دیا ، بس پیسہ نہیںلیکن جذبہ ہمیشہ وسیلہ بنایا، اس میں وقتاً فوقتاً حسین نقی ، سی آر اسلم ، تاج الدین حقیقت ، الطاف ملک اور پھر قمر اللہ چودھری جیسے احباب کی تبلیغ بھی ان لوگوں سے فاصلہ رکھنے میں معاون رہی جواس پیشے میں مروجہ طریقِ کار( لفافہ شریف اور سفارشی کاموں کے عوض) کے تحت پیسہ کمانے کو جائز ، درست اور اپنا حق قراردیتے تھے ۔چار عشرے کے فلیش بیک میں ایسے لوگوں کی تعداد غربت میں اضافے کی شرح سے بھی زیادہ بڑھتی نظر آتی ہے ، اب جو سارا دھن یہیں چھوڑے ابد کو پدھار چکے ہیں ، اسپتالوںکے چکر لگاتے ہیں ، بے کس ، بے بس پڑے ہیں ، لیکن ان میں سے کوئی بھی اچھی مثال نہیں ، اس کے برعکس جیب میں ٹکے آنے کے بغیر جہدِ مسلسل پپ قائم رہتے ہوئے ان کے آنے کی خاطر مٹی کے ساتھ مٹی ہوئے اور پھر ان سے دور بھاگنے والے آنے ہی ان کے پیچھے بھاگے ، یہ ان کی محنت اور استقامت کا ثمر تھا۔ایسے کچھ ہیرو خالص محنت اور تنخواہ( اگر وقت پر مل جائے ) پر گذارا کرنے والے نوجوان صحافی سجاد عباسی نے اپنی کتاب ’ صحافت بیتی ‘ میں دور حاضر میں’اوور نائٹ‘ ترقی کرنے اور پیسہ کمانے کی خواش رکھنے والے صحافیوں کے سامنے لا کھڑے کیے ہیں اور ضبطِ تحریر میں لائے بغیر پوچھا ہے کہ بتاﺅ نام کس نے کیسے کمایا ، کون محترم اور مثالی ہے؟ یہ کتاب بنیادی طور پر ان صحافیوں کی جدوجہد کی کہانی ہے جو ان کی اپنی زبانی سامنے آئی ، روزنامہ’ امت ‘میں ان کے شائع ہونے والے مفصل انٹریوز پر مرتب یہ کتاب انہوں نے خودداری مقدم رکھنے کا درس دینے والے والدین ، قلمی ہنر مند بنانے والے اساتذہ اور ان حقیقی صحافیوں کے نام کی ہے جو مظلوم کی آواز بنے مگر ان کی آواز ’ آزادی صحافت ‘ کے نعروں میں دب گئی ۔ایسا نہیں کہ جدوجہد کرنے والے یہ تمام افراد تہی دامن اور قلاش تھے، کچھ کوتین وقت کی روٹی آسانی سے بھی میسر تھی اور صرف روٹی ان کا مسئلہ نہیں تھا مگر انہوںنے کٹھن منزل کے دشوار راستے کا انتخاب کیا ۔ آج کے سینئر بمراد پیدائشی سینئر خاص طور پر، شائد جانتے بھی نہ ہوں کہ کوہ سلمان کی رودکوہیاں پینے والا چرواہا ، کتاب کو حسرت سے دیکھنے ، کتاب بین بننے اور کتاب بننے
والا نذیر کیسے اکیلا لغاری مصائب پر بھاری ہوا، نذیر لغاری کس ڈائجسٹ کی داستاں ہیں ؟ ؟ ڈوگرہ راج کے مظالم ، پھر بھارتی گولہ بھاری میںآبلہ پا عارف الحق عارف نے دور افتادہ کشمیری جنگلوں سے کیا کیا مشکلات و مسائل جھیل کر ان دیکھے دور درازانسانوں کے ہجوم والے شہر ، پھر گورے کے دیس میں کیسے آشیانہ بنایا اور کس میڈیاہاﺅس کے آﺅٹ لیٹ پر سجا یا گیا ہے، ؟
ٹیلوں کی ریت کی چمک اور لسانیا ت کے سمندر میں بھٹک ،جسم سے کیسے دھول ہٹاتا ہوا انور سن رائے کس اشاعتی و نشریاتی ادارے کا ’مارکہ ‘ ہے؟درِ شاہی میں عشرت سے دور رہنے والے زاہد حسین کون ہیں ؟، بحیرہ عرب کے کنارے بسنے ،حالات و واقعات اورخیالات کے سمندر کو پیش کرنے اور سمیٹنے والے وسعت اللہ خان میں گہرائی اور وسعت روہی کی ہے ؟ ۔ پٹیالہ سے مٹیالہ، کس طرح مال گاڑی کے لال ڈبے سے بھی سرخ نہر میں موت کے ساتھ تیرتا ہوا ، رومان کی پہچان جھنگ پہنچا ،ارسطو دواخانے کی آمدن سے اور اپنی قلمی جہد سے سفر کرتا طارق کیسے محمود شام اور ’صحافتی ارسطو‘ بنا ؟ تعلیم فروشی والے ملک میں تدریسی خاندان میں آنکھ کھولنے والے مظہر عباس نے پروفیسر یا فوجی افسر بننے پر صحافتی سپاہی بننے کو کیوں ترجیح دی ؟ ۔یہ ترجیحات کس قدر مشکلات ، تکالیف اور امتحانات کی داستانیں ہیں ، وہ ’صحافت بیتی“ میں بیان کی گئی ہیں ۔ بظاہر پہلے سے شائع ہوچکے انٹرویوز کو ری پرنٹ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن اگر ایسا کیا گیا ہے تو اس کی کوئی وجہ تو ضرور ہوگی؟ اور وہ صرف اور صرف یہی ایک وجہ ہے کہ مطالعے اورجدوجہد سے شوقیہ دوری رکھنے، من پسند تڑکے کے بھاشن دینے والے ( سبھی نہیں ) آج کے سینئر اور ’ہیرو ‘ اپنی حیثیت اور اوقات بھی دیکھ لیں ،موجودہ کے ساتھ ساتھ اگلی پیڑھی بھی جان لے کہ نکل پالش سے چمکنے والے پیتل ، سونے اور کندن میں فرق کیا ہے ؟ ہیرے اور ہیرو کون ہیں ؟یقیناً صحافت کا طابعلم شائع اور نشر ہونے والی ہر چیز سے واقف نہیں ہوسکتا لیکن اس کے استاد کیلئے پیشے کی تاریخ سے واقف ہونا اور اپنی جماعت میں تاریخ سے آگاہی کے منتظرین کو روشناس کروانا اولین ذمہ داری ہے ، ہاں! اگر استادصاحب کیلئے کسی کی جدوجہد کو قبول کرنا ناگوار لگتا ہو تو وہ اس کتاب کا حوالہ دے سکتا ہے ، پڑھنے والے خود پڑھ لیں گے ، اگر پڑھانے والا مروجہ مالی منفعت کی صحافت کا مبلغ ہے تو وہ اس سے گریز کرسکتا ہے ۔ بہر حال شوق ، ذوق ، منشا ، خواہش ضرورت اپنی اپنی لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ میرے فیلوز کو ایک بار اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔

