پشاور کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے سب سے بڑے منشیات فروش اور مچھر کالونی کے بدنام زمانہ گینگ کے سرغنہ ماما یعقوب منشیات فروش و اسلحہ کو آخر کار کے پی کے پولیس نے بڑی کارروائی کے دوران اسلحہ سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔ سالوں سے کراچی میں موت بانٹنے والا یہ درندہ نہ صرف مچھر کالونی بلکہ پورے شہر میں منشیات کی ترسیل کا بڑا اڈہ چلا رہا تھا، جس کے پیچھے پولیس افسران کی مکمل سرپرستی اور بھاری رشوت کا سلسلہ جاری تھا۔ گرفتاری کی خبر سنتے ہی ماما یعقوب کا بیٹا اور اس دھندے کا دوسرا بڑا کردار وقاص موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ مچھر کالونی میں آج بھی منشیات ایسے بیچی جارہی ہیں جیسے کریانے کی دکان پر ٹافیاں فروخت ہوتی ہیں۔اندرونی ذرائع نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ ماما
یعقوب نے اپنے نیٹ ورک کو بچانے کے لیے اپنے بھتیجے پولیس اہلکار راشد علی کو مستقل طور پر اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا، جو اس گینگ کے تحفظ کے لیے ڈھال کا کام کرتا رہا۔ حیران کن طور پر، وہی ڈاکس تھانے کا پورا عملہ جو منشیات مافیا کی پشت پناہی پر معطل کیا گیا تھا، چند ہی دنوں بعد دوبارہ اسی تھانے میں تعینات کردیا گیا۔ اس شرمناک تعیناتی نے صاف ظاہر کردیا ہے کہ ڈاکس تھانے کے افسران اور اہلکار براہِ راست ماما یعقوب کے سہولت کار ہیں اور ہر روز بھاری رقم اپنی جیبوں میں ڈال کر عوام کے بچوں کو نشے کے اندھیروں میں دھکیلنے کا جرم کررہے ہیں۔یہ کھلا راز ہے کہ مچھر کالونی میں پولیس کی مرضی اور سرپرستی کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہل سکتا، اور ماما یعقوب جیسے بدنام کردار اپنی جیبیں بھر کر نہ صرف تھانے کے عملے بلکہ اعلیٰ افسران تک کو حصہ پہنچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے اڈے آج تک بند نہ ہوسکے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اندھے، بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کے پی کے پولیس کارروائی کرسکتی ہے تو آخر کراچی پولیس کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؟کراچی کے شہریوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ساوتھ اور کیماڑی کے ایس ایس پی سے سخت سوال کیا ہے کہ کیا پولیس کا کام عوام کی حفاظت ہے یا ماما یعقوب جیسے منشیات فروشوں کی دلالی؟ یہ شہر کب تک ایسے بھیڑیوں کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف مچھر کالونی اور ڈاکس تھانے میں منشیات کے دھندے کو جڑ سے اکھاڑا جائے بلکہ ان پولیس افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے جو سہولت کاری کرکے اپنے وردی کو بدنام کررہے ہیں۔ اگر بروقت سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ گندا نیٹ ورک مزید پھیلے گا اور کراچی کا مستقبل تباہی کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

