رحیم یار خان ( نمائندہ خصوصی)پاکستان کی تاریخ میں غیرت کے نام پر ایک اور لرزہ خیز قتل – سینئر صحافی صدیق احمد کے چھوٹے بھائی سعید احمد کو رحیم یار خان کے علاقے ظاہر پیر ، خورشید آباد میں تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا – سعید احمد نے کچھ
عرصہ قبل مقامی معروف با اثر شخص ڈاکٹر خان وزیر پٹھان کی بیوہ بھتیجی سے اس کی مرضی سے عدالت میں نکاح کیا تھا – نکاح کے بعد خاتون اپنے بچوں کے ساتھ اپنے پہلے شوہر کے گھر میں رہائش پذیر تھی – سعید احمد گزشتہ شب سودا سلف دینے کی غرض سے اپنی بیوی کے گھر گیا جہاں سے واپسی پر اس کے بھائی عمر اور دیگر نامعلوم افراد نے سعید احمد کو روک کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کردیا – لواحقین کا کہنا ہے کہ جب سعید احمد نے عدالت میں نکاح کرلیا اس کے بعد ہمیں شادی کا علم ہوا اور ہم نے لڑکی کے خاندان والوں سے کئی بار رابطہ کیا جس پر انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان وزیر جیل میں ہے وہ آئے گا تو وہی فیصلہ کرے گا ۔ ڈاکٹر خان وزیر جو ایک لڑکی کے کیس میں کافی عرصے سے جیل میں تھا اس کے جیل سے باہر آنے کے چند دن بعد یہ واردات ہوگئی ۔ لواحقین کے مطابق قتل کی اس لرزہ خیز واردات میں قاتلوں کو لڑکی کے چچا ڈاکٹر خان وزیر پٹھان ، دوسرے چچا بہادر خان اور لڑکی کے ماموں قلات خان کی مکمل پشت پناہی اور سپورٹ حاصل ہے ۔ جس کی وجہ سے لڑکی کے بھائی عمر نے کچھ دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر سعید احمد کو تشدد کے بعد قتل کردیا ۔ لواحقین نے ڈی پی اور عرفان
سموں ، سی سی ڈی انچارج سہیل ظفر چٹھہ ، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور وزیر اعظم پاکستان سے معاملے کی شفاف تحقیقات اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے ۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خان وِزیر علاقے کا ایک با اثر شخص ہے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بھی رہ چکا ہے ۔ قتل کی یہ واردات اس کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں تھی ۔ دوسری جانب لواحقین نے یہ شبہہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر خان وزیر پٹھان پولیس پر دباو ڈال کر اور اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے کیس کمزور کرنے کی پوری کوشش کرے گا ۔ اس لیے ہمیں انصاف دیا جائے اور قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے ۔

