کوئٹہ(نمائندہ خصوصی): آغا خان یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس ان ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ (CoEWCH) نے بلوچستان کے ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI) کے اشتراک سے کوئٹہ میں “سٹرینتھننگ روٹین امیونائزیشن پراجیکٹ” (SRIP) کا آغاز کر دیا ہے۔یہ منصوبہ سات پسماندہ اضلاع کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، چمن، پشین، مستونگ، سبی اور ژوب میں نافذ کیا جائے گاجس کا مقصد معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج اور بچوں کی صحت کے نتائج میں نمایاں بہتری لانا ہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی معاونت سے شروع ہونے والا یہ اقدام حفاظتی ٹیکہ جات کی عدم مساوات کو کم کرنے، شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینے اور ان علاقوں میں کسی بچے کو پیچھے نہ چھوڑنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔SRIP منصوبے کے تحت مقررہ اور آؤٹ ریچ مقامات پر حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات کو مضبوط کیا جائے گا، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ہیلتھ کاؤنسلرز کے ذریعے کمیونٹی میں آگاہی بڑھائی جائے گی اور نگرانی و ڈیٹا کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ یہ منصوبہ احتساب اور سرکاری EPI ٹیموں کے ساتھ تعاون کو ترجیح دیتا ہے اور حقیقی وقت میں پیش رفت کے تعین کے لیے نیشنل الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری (NEIR)
سے استفادہ کرے گا۔افتتاحی تقریب میں صوبائی اور ضلعی صحت کے اعلیٰ افسران اور عالمی و قومی تنظیموں بشمول ڈبلیو ایچ او، گاوی، اور یونیسیف کے نمائندگان شریک ہوئے۔ نمایاں شرکاء میں حکومت بلوچستان کی قیادت، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل، نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (EOC)، گیٹس فاؤنڈیشن، EPI کے سینئر نمائندگان اور آغا خان یونیورسٹی کی قیادت شامل تھی۔تقریب کے دوران آغا خان یونیورسٹی اور محکمہ صحت کے درمیان ایک تعاون نامے پر دستخط بھی ہوئے۔ آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ساجد صوفی جو بچوں کے شعبے کے پروفیسر اور سینٹر آف ایکسیلنس ان ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہیں نے دستخط کیے جبکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے سیکرٹری صحت جناب مجیب الرحمٰن نے دستخط کیے۔آغا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور منصوبے کے پرنسپل انویسٹی گیٹر جناب امتیاز حسین نے منصوبے کے تیاری کے مرحلے، بشمول ضلع وار ضروریات کے جائزے پر روشنی ڈالی اور مؤثر نفاذ کے لیے روڈ میپ پیش کیا۔ دوسری جانب، منصوبے کی کوپرنسپل انویسٹی گیٹر اور بچوں کے شعبے کی پروفیسر ڈاکٹر شبینہ عارف نے گیٹس فاؤنڈیشن، EPI پروگرام اور حکومت بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا”وقت کی بہت اہمیت ہے۔ ہمیں ایک ایسا پائیدار نظام بنانا ہوگا جہاں کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔”کیپٹن (ر) انور الحق، کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے آغا خان یونیورسٹی اور حکومت بلوچستان کے درمیان اشتراک کو سراہا۔ انہوں نے جنوبی خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقوں میں آغا خان یونیورسٹی کی مضبوط موجودگی کی بنیاد پر ان کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے تکمیلی کردار پر زور دیا اور پولیو کے خاتمے کے حصول کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کو بنیادی ستون قرار دیا۔جناب مجیب الرحمٰن نے گیٹس فاؤنڈیشن، آغا خان یونیورسٹی، اور تمام سطحوں پر صحت کے قائدین کا ان کی لگن اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں SRIP کی اہمیت پر زور دیا اور آنے والی ڈیجیٹل اختراعات کا اعلان کیا، جن میں تیسرے درجے کے اسپتالوں میں نگرانی اور احتساب کو بہتر بنانے کے لیے AI سے چلنے والے نگرانی کے نظام شامل ہیں۔

