پسنی( نمائندہ خصوصی)پسنی میں 14 سالہ معصوم لڑکے، ساحل گلاب کے بہیمانہ قتل کے خلاف ان کی فیملی اور عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی۔ اس ریلی میں مقتول کے اہلِ خانہ سمیت خواتین، بچے، نوجوان، بزرگ اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ریلی کا آغاز مین بازار سے ہوا اور یہ پرامن انداز میں جڈی ہوٹل کے قریب اختتام پذیر ہوئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کے مطالبات درج تھے۔ساحل گلاب کی والدہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میرے بچے کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہمیں انصاف چاہیے۔ ان کے جذباتی الفاظ نے شرکاء کو غمزدہ کر دیا اور فضا
سوگوار ہو گئی۔ریلی میں حق دو تحریک کے رہنما عزیز اسماعیل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما وحید مجید، سول سوسائٹی پسنی کے صدر دانیال الطاف، معروف سماجی کارکن پہلوان پیلو اور بلوچستان پبلک سوسائٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری پرویز سفر سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ساحل گلاب کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں عبرتناک سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں امن قائم رہے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔شرکاء نے علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

