اف کتنا لرزہ خیز منظر تھا۔ ہر طرف کٹی پھٹی لاشیں ۔۔۔خون کا قلزم بہہ رہا تھا۔ شاہ ویز، اینا پیٹرووا اور ولیم دم سادھے ایل ای ڈی سکرین کو گھور رہے تھے ۔زندگی بار بار کرب و بلا کے خاردار اور اذیت ناک مراحل سے گزرتی ہے۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کا سین دکھایا جا رہا تھا ۔اب زخمی اور مرنے والوں کے ناموں کے ساتھ دہشت گردوں کے نام بتائے جا رہے تھ علی حسن ولد محمد یوسف۔۔ راجیش کمار ولد رام چندر۔۔ جارج میتھیو ولد ڈیوڈ میتھیو ۔۔سورج لال ولد کرشن پرساد ۔۔روبینہ داس بنت شُبھرداس۔۔ پیٹر جان ولد سیمول جان ۔۔گرپجیت جیت سنگھ ولد ہرپریت سنگھ۔۔ سمرت کور دختر گرنام سنگھ ۔۔
تم نے سارے نام غور سے پڑھے؟ ولیم کے سوال پر اینا نے کندھے اچکا کر اس کی طرف دیکھا جبکہ شاویز صدمے کے زیر اثر ابھی بھی سکرین کو گھور رہا تھا۔
میں جا رہا ہوں اور اس کے بعد ولیم چلا گیا۔ بیچارا دیکھو اپنی تلاش میں کب کامیاب ہوتا ہے؟ کب اسے پیدائشی دہشت گرد ملتا ہے؟ کسی بھی نام کے آگے بِن دہشت گرد نہیں لکھا ہوا تھا ۔
ولیم مختلف سکولوں میں جا جا کے وہاں بھی بچوں کے نام چیک کرتا تھا کہ شاید یہاں کوئی خوف کی علامت سے رشتہ رکھنے والا نام مل جائے مگر اس کی تلاش اب تک لا حاصل رہی تھی۔
انسانی دہشت گردی کا بانی اسے نہ مل سکا تھا۔
اینا پیٹرووا ایک صحافی تھی۔ اپنے صحافی دوست ایوان کے ساتھ مل کر افغانستان پر روسی حملے کے خلاف جنگی پالیسیوں پر کڑی تنقید کیا کرتی تھی اور چاہے نازی دور ہو یا دوسری جنگ عظیم کے لرزہ خیز واقعات۔۔ اس کی زندگی کا مقصد شقاوت کے سایوں کو مٹانا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایوان کو قتل کر دیا گیا اور اسے ملک بدر ۔
ایوان اس کا محبوب بھی تھا۔ اسے اکثر اپنا سورج مکھی کے پھولوں سے گھرا کاٹیج یاد آتا تھا ۔
وہ ایوان کے ساتھ رچمنڈ پارک جاتی تھی۔ وہاں کی بیریز کے درختوں کی یاد آج بھی اس کی آنکھوں کو بھگو دیتی تھی۔
ایوان نے پارک میں منگنی کی انگوٹھی اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے پہنائی تھی پھر ایوان نے اسے تین تاروں والا ساز لالائیکا گفٹ دیا تھا ۔
آج بھی لندن کے برف گرتے موسموں میں اینا پیٹرووا ایوان کی یاد میں وہی ساز بجاتے ہوئے اپنی بھاپ نکلتی سانسوں کو دیکھتے ہوئے اس کی یاد میں گیت گاتی تھی، "برف گرے تو لگے جیسے وقت رک سا گیا۔۔
پھر بھی تیرے لوٹنے کا ایک وعدہ جگمگا گیا۔۔۔ برف تلے جلتا دل تجھ کو پکارے آہستہ۔۔۔
اے میرے محبوب لوٹ آؤ”.
ایوان کے بعد اینا کے جذبے میں شدت نہیں ایک جنون آگیا تھا۔
اس نے جنگ و جدل کی تباہ کاریوں ،پھولوں جیسے انسانوں پر بم برسانے اور فطرت کو مسخ کرنے کی سازشوں کے خلاف اپنا جہاد اور تیز کر دیا تھا ۔
آج ویسی ہی تاروں بھری رات تھی جب شاہ ویز سبین کو اپنے گھر والوں سے ملانے لے گیا تھا۔ اپنی والدہ نوربانو سے اکثر سبین کا تذکرہ کرتا تھا ۔وہ بھی سن کے مسکراتی رہتی تھیں جیسے بیٹے کی پسند پر انہیں کوئی اعتراض نہ ہو ۔آج وقت کی گرفت سے ازاد ہو کر وہ اس دلفریب لمحے میں جینا چاہتا تھا۔
اس شام ان کے ہاں محفلِ قوالی، درس اور پھر لنگر کا اہتمام تھا۔ نازک سی سبین نوربانو کو بھا گئی۔ محفل کے اختتام پر تمام مہمان رخصت ہوئے۔ نور بانو نے اپنے شوہر شیخ شہاب الدین کو بلوا کر سبین سے ملوایا۔ کمرے میں اس وقت ان چاروں کے علاوہ کوئی نہ تھا مگر شیخ صاحب نے پہلا سوال سبین سے ایسا کیا کہ وہ تینوں ہکا بکا رہ گئے ۔
سبین حواس باختہ سی ہو کر کبھی شاہ ویز اور کبھی شیخ صاحب کو دیکھ رہی تھی۔
نور بانو نے سبین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسے گویا تسلی دی۔ کیا بات کر رہے ہیں شیخ صاحب؟ بچی سے اس کی تعلیم، خاندان اور والدین کے بارے میں بات کیجئے۔
میں نے لڑکی سے اس کا فرقہ ہی تو پوچھا ہے کوئی غلط بات کی ہے کیا؟ شیخ صاحب دبے دبے غضب سے گویا ہوئے ۔بابا جانی کیا یہ کافی نہیں کہ ہم سب مسلمان ہیں؟ ایک اللہ ایک رسول کو ماننے والے.
کیا اس کے بعد کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟ شاہ ویز مدلل مگر دھیمے لہجے میں شیخ صاحب سے مخاطب تھا ۔جی ہم نجیب الطرفین سید ہیں۔
سبین نے ہاتھ اٹھا کر بڑے سکون سے جواب دیا۔ کیا ؟؟شیخ صاحب اپنی جگہ سے کئی فٹ او پر اچھل گئے ۔
توبہ توبہ مشرک ہو تم لوگ؟ تم نے سوچا بھی کیسے کہ اس خاندان کی بہو بنو گی؟ سبین کے چہرے کا رنگ ایک دم اڑ گیا .ماحول ایک مجرمانہ سناٹے میں ڈوب گیا. اگلے دن شیخ شہاب الدین اپنے پیر و مرشد شیخ صابر بالاکوٹی کے سامنے اپنے "ناخلف” بیٹے کو لیے حاضر تھے۔ دیکھئے بیٹا الحمدللہ ہم سب مسلمان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر جس بچی سے آپ شادی کرنا چاہتے ہیں ان کے فرقے میں بہت سی باتیں سنت کے مطابق حرام قرار دی گئی ہیں۔ ہمارا دین بہت آسان ہے مگر اس کی مزید تشریحات کی رو سے کچھ لوگ گمراہ ہوئے ہیں اور کچھ نے صراط مستقیم کو پا لیا ہے ۔شیخ صابر بالاکوٹی صاحب ایک رعب دار شخصیت اور مستحکم لہجے کے مالک تھے۔
مگر قرآن میں تو اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ماننے والے کو گمراہ نہیں کہا گیا ہے؟؟ ہمارا فروعی اختلاف تو ہے یہ میں نے مانا مگر اس کی وجہ سے نکاح جیسے بندھن کو آلودہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ شاہ ویز با ادب مگر پُر احتجاج لہجے میں ان سے کہہ رہا تھا ۔
کیا مطلب؟ تمہارے نزدیک سنت اور بدعت میں کوئی فرق ہی نہیں رہ گیا ہے؟؟ کان کھول کر سن لو میں ایک کافر لڑکی کو کسی صورت اپنی بہو نہیں بنا سکتا۔ شیخ صاحب نے غیض وغضب سے بھرے لہجے میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔
معاف کیجیے گا بابا جانی! کافر سبین نہیں بلکہ علمائے سُو کے فتنے کی تعلیمات کو اپنانے والے بے دین اور گمراہی کے راستے کے مسافر ہیں۔ شاہ ویز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔شیخ صاحب نے اسے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر بالاکوٹی صاحب نے ان کو روک دیا ۔
بہت جلد یہ خبر میڈیا پر وائرل ہو گئی کہ مشہور عالم دین شیخ شہاب الدین کا بیٹا ایک گمراہ کن اور بدعتی گھرانے میں رشتہ جوڑنے کا خواہشمند ہے۔ ہر طرف سے گولہ باری شروع ہوگی۔
زیارات قبور۔۔ شرک بدعت
رفع یدین۔۔ شرک۔۔ بدعت
گستاخِ صحابہ۔۔ کفر کفر۔۔ جہنمی ۔۔دوزخی۔ وسیلہ۔۔ شرک۔۔ بدعت، نور کا اجالا ۔۔صرف ہم ہیں۔۔
گمراہی کے اندھیرے۔۔ صرف تم ہو ۔
دیوان فاروق غصے سے تھرتھر کانپ رہے تھے۔ سبین اور شاہویز کی وائرل ویڈیوز اور مذہب کی آڑ میں طوفانِ بدتمیزی سے وہ بھی باخبر ہو چکے تھے۔
تم نے ہمت کیسی کی ایک بد عقیدہ اور کافر لڑکے سے شادی کا سوچنے کی بھی؟؟
تمہاری اس غلط حرکت کے چرچے ہر کسی کی زبان پر ہیں۔ دیوان فاروق غصے سے کف اڑا رہے تھے۔
پلیز بابا جانی بات کو سمجھئے یہ فرقہ بندی دین کے لیے زہر قاتل ہے۔ دیکھیے اج ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی گردن کاٹ رہا ہے۔
شاہ ویز ایک اعلٰی تعلیم یافتہ اور اچھی اقدار کے حامل گھرانے کا فرد ہے۔ سبین نے لجاجت بھرے لہجے میں اپنی بات ختم کی بکواس بند کرو۔ اب تم مجھے دین سکھاؤ گی؟ میں بات کرتا ہوں آپا جان سے ۔
بس تمہاری شادی شہیر سے ہوگی عید کے بعد۔ سبین کے مقدر پر مہر لگ گئی ۔
ایک دن حد ہو گئی ۔چند لڑکوں نے شاہ ویز کو سرعام پکڑ کر اس کی پٹائی لگا دی۔ وہ اسے گستاخ قرار دے کر جان سے مارنے کا اعلان کر رہے تھے۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ کچھ لوگ بھی بیچ بچاؤ کرا نے آگئے۔
یوں بڑی مشکلوں سے اس کی جان چھٹی تو شیخ شہاب الدین نے پیسہ پانی کی طرح بہا کر اس کے کاغذات چند دنوں میں تیار کرائے اور اس سے اگلے دن ہی پہلی ممکنہ فلائٹ سے اسے لندن اپنے دوست کے پاس بھجوا دیا۔
ایک جائز اور پسندیدہ ناطہ مذہبی دہشت گردی کی نذر ہو گیا ۔
اچانک بے تحاشہ چیخوں کی آواز پر وہ حواس باختہ ہو کر ٹیرس سے فلیٹ کے اندر کی طرف بھاگا۔ مریم کے کمرے سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ دوسری طرف سے اینا بھی حواس باختہ سی مریم کے کمرے کی طرف دوڑی جا رہی تھی۔ دونوں ایک ساتھ وہاں پہنچے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا ۔مریم کمرے میں موجود چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی اور رو رہی تھی۔ اینا نے بمشکل اسے قابو کیا۔ اس دوران شاویز نے پانی سے بھرا گلاس اس کے منہ سے لگایا مگر اس نے ہاتھ مار کر گلاس کو پرے ہٹا دیا۔ بمشکل وہ پرسکون ہوئی تو اس کی وحشتوں کا سبب پتہ چلا۔ اس کی ایک ساتھی دوست جو کہ کسی اخبار میں کرائم رپورٹر تھی نے اسے فون پر بتایا کہ آج ایک لڑکی کی لاش اس حالت میں ملی کہ اس کی اجتماعی آبروریزی کے بعد اس پر بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا۔اینا اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔
مریم بھی ایک ایسی ہی اجتماعی آبرو ریزی کا شکار سانس لیتی لاش تھی اور کوئ ایسی کوئی خبر اسے اسی طرح ہسٹیریا میں مبتلا کر دیا کرتی تھی۔ وہ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی سربراہ تھی۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں انسانیت کے وقار کے دھجیاں بکھرتیں، وہ اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتی ۔کرن کے پہلو سے کرن پھوٹتی۔ اس کے ہمنوا کئی لوگ اس کا ساتھ دیتے اور مذمتی بیان اور قراردادیں منظور ہوتیں اور کئی بار ایسا ہوتا کہ نا انصافی اور جبر کے اندھیارے اسے گھیر لیتے مگر وہ مانندِ جبل اپنے ارادوں میں اٹل تھی اور سچے لوگوں کو اپنے خالص پن کی قیمت چکانی پڑتی ہے سو اس نے بھی چکائی۔
ولیم رات گئے گھر آیا۔ اسے بھی سانحہ کا پتہ چلا پھر وہ رات سرد, بے رحم اور شقاوت بھری گھڑیوں میں ڈھل گئی ۔
چہرہ در چہرہ اندھی بصارتیں۔۔
جھوٹے نقوش۔۔
عکس در عکس لنگڑا شعور۔۔
زنگ آلود سماعتیں۔۔ سایہ بہ سایہ۔۔۔ فریب کے پھندے۔۔
پرت در پرت رقصِ شرر۔۔
دوغلی منافقتیں۔۔ بدبودار باطن۔۔
اجالے کے آنسو۔۔۔ مسکراہٹوں کا بوجھل پن۔۔
لہجوں کی دروغ گوئی۔۔
صداؤں کا کھوکھلا پن۔۔
بوسیدگی کا کہرا۔۔ بجھتے چراغوں کا اڑتا دھواں ۔۔
زخمی گلابوں کا عکس۔۔
یہ سب فریادی ہیں اور ہمیں ان سب کو مٹانا ہے۔۔ ان کا مداوا کرنا ہے۔۔
صبحِ دم وہ چاروں ٹیرس پر سورج کی نوخیز کرنوں کو غور سے دیکھتے ہوئے سوچ رہے تھے۔
اینا سوچ رہی تھی دیکھو۔۔ سنو برف میں کارنیشن، ڈیفوڈلز اور للی کھل رہے ہیں ۔
ہم نے شقاوت کٹھنائیوں میں رحم کے دیے جلانے ہیں۔۔میں نہ رہونگی۔۔ولیم نہ رہے گا۔۔مریم چلی جاۓ گی۔۔
مگر!!!
سیپ میں بند موتی کی مسکراہٹ دوام پا جاۓ گی۔۔
ولیم کا تخیل سرگوشیاں کر رہا تھا۔۔ دہشت گردی کا کوئی باپ نہیں ہوتا۔۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور فطرت بہت دلکش و دلفریب ہے ۔
سنو۔۔ غور سے۔۔ کلی کی چٹک، غنچے کی بالیدگی کا ترنم، مہک سے لدی ہواؤں کا لطیف شور اور ان میں بسی خوشبوئے یادِ جاناں، پرندے کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ ۔۔
نو مولود کے نرم ہونٹوں کا تبسم ۔۔
بارش کے قطروں کی چاپ۔۔
آؤ ان کو دوام بخشیں ۔
شاویز یوں سوچ رہا تھا۔۔ ہم سب پیدائشی مجاہد ہیں۔۔
چٹانیں توڑ کر ولولہ نکالا جا سکتا ہے ۔۔
زنگ کی تہوں سے ہریالی اُگ سکتی ہے۔۔ ہاتھ رع ائیاں قلم بند کر سکتے ہیں تو سوچوں کو کیوں نہیں بدلا جا سکتا ؟سب ہو سکتا ہے .
مریم کا تخیل لہک لہک کے کہہ رہا ہے۔۔
مجھے توڑنے کی صرف اور صرف کوشش کی گئی۔۔ میرا کرب وہ داستان لکھ جائے گا جو سمندر میں ایستادہ ہر پتھر پر انمٹ نقش بن کر شکستہ لوگوں کا حوصلہ بڑھائے گی ۔۔۔
سورج جب پوری طرح طلوع ہو چکا تھا ولیم نے اپنا مُکّہ فتح کے انداز میں سورج کے سامنے کیا تو باقی تین ہاتھ بھی اس کے اوپرآ کر ٹھہر گئے۔
آج کی صبح بڑی دلفریب تھی ۔

