راولپنڈی( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ سفاری ٹرین میں اے سی کوچز، نئی نشستیں اور فیملیز کے لیے بہتر ماحول متعارف کرا دیا گیا ہے، اس ٹرین کو تفریحی ٹوورازم ماڈل میں تبدیل کیا گیا، مختلف سٹیشنز پر مختصر قیام اور سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی سٹیشن پر سفاری ٹرین کے اپ گریڈڈ ریک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفاری ٹرین میں مسافروں کے لیے ہر سٹیشن پر وقفہ اور اٹک خورد جیسے مقام پر طویل قیام اور لنچ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، اس میں سفر کے خواہش مندوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور عوامی اعتماد میں بہتری دیکھی گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے افسران کو فیلڈ میں متحرک کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں،ریلوے مزدور سخت حالات میں خدمات انجام دے رہے اور نظام کی بحالی میں اہم
کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کراچی تا روہڑی ٹریک پر خستہ حالات کے باوجود ٹرین آپریشن جاری رکھنے کا اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے مکینیکل، بریک اور لوکوموٹیو سسٹمز میں بہتری کے لیے جامع اصلاحات جاری ہیں،لوکوموٹیوز کی طویل عرصے بعد مینٹیننس نہ ہونے کے مسائل کو دور کرنے کے لیے نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے اپ گریڈیشن پروگرام دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہےجبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ریلوے کے بڑے اپ گریڈ اور انفراسٹرکچر منصوبے کا آغاز متوقع ہے،تقریباً دو ارب ڈالر کے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور تا کراچی سفر میں پانچ گھنٹے کی کمی کے منصوبے پر کام تیز کر دیا گیا ہے،لاہور ڈویژن میں ٹریک اپ گریڈیشن منصوبہ تقریباً 250 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے،نو روٹس پر ڈی ایم یو ٹرینز چلانے کا منصوبہ پنجاب حکومت کے تعاون سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ ریلوے کے منصوبوں میں شراکت داری اور جوائنٹ وینچر ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں ریلوے منصوبوں میں تیزی اور عملی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے تعاون سے روہڑی جنکشن کی اپ گریڈیشن اور ترقیاتی کام شروع کیے جا رہے ہیں، اس جنکشن کو ڈیڑھ سو سال بعد جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ زیر عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریٹ اور کارگو سیکٹر کی بحالی کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا، دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے اور رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کیا،اسلام آباد مذاکرات کو علاقائی امن اور استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فریقین کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابلِ ستائش قرار ،مذاکرات کے دوران پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری کو مثبت اور غیر جانبدار کردار کے طور پر سراہا گیا،پاکستان کے کردار کو خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔\932
