لاہور۔( نمائندہ خصوصی):متروکہ وقف املاک بورڈ،وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ انتظام جاری وساکھی میلہ اور327 ویں خالصہ جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں سکھ یاتریوں نے پاکستان میں اپنے دوسرے روز مختلف مقدس گوردواروں کی یاترا کی۔یاتریوں نے ننکانہ صاحب میں گوردوارہ سری کیارہ صاحب،گوردوارہ تمبو صاحب، گوردوارہ بالیاں صاحب،گوردوارہ پٹی صاحب اور گوردوارہ مالجی صاحب میں حاضری دی اور مذہبی رسومات ادا کیں۔اس موقع پر صوبائی
وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے گوردوارہ سری کیارہ صاحب کی بحالی و تزئینِ نو کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق سمیت بھارت اور دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔منصوبے کے تحت40 کمروں پر مشتمل رہائشی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا۔حکام کے مطابق گوردوارہ سری کیارہ صاحب وہ تاریخی مقام ہے جہاں بابا گرو نانک دیو جی مویشی چرایا کرتے تھے،جس کی سکھ مذہب میں خصوصی اہمیت ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے بتایا کہ بھارت سے2238 سکھ یاتری پاکستان پہنچے جبکہ حکومت پاکستان نے مجموعی
طور پر 2800 ویزے جاری کئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی دنیا بھر کے سکھ یاتریوں کو آنے سے نہیں روکا،تاہم بعض یاتریوں کو بھارت میں ہی روکا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یاتریوں کو فول پروف سکیورٹی،بہترین سفری سہولیات، معیاری رہائش اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔گوردوارہ جنم استھان میں قیام و طعام کے خصوصی انتظامات کے ساتھ فری فیلڈ ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے8 ہزار سے زائد ملکی و غیر ملکی یاتریوں کیلئے شاندار انتظامات
کئے گئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور متروکہ وقف املاک بورڈ مشترکہ طور پر یاتریوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔بھارتی سکھ یاتریوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہا۔سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان سکھوں کا اصل گھر اور امن کا داعی ہے اور یاتریوں کا والہانہ استقبال کر کے دنیا کو محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا ہے۔
