اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):تجزیہ کاروں نے پاکستان کی سفارت کاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نے امن کے مرکز کے طور پر عالمی توجہ حاصل کی ہے، فوجی صلاحیت سے سفارتی مہارت تک اپنے ارتقاء کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی نظام کو تشکیل دینے والی ایک درمیانی طاقت کے طور پر خود کو ظاہر کیا ہے۔تجزیہ کاروں نے پاکستان کے سفارتی
عروج کو سراہتے ہوئے مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے اور اپنی درمیانی طاقت کی حیثیت کو بھی مستحکم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اسلام آباد عملی اور پختہ نتائج دے رہا ہے جو بین الاقوامی سطح پر سٹریٹجک دور اندیشی، سفارتی مہارت اور قابل قدر اثر و رسوخ کے نایاب امتزاج کا مظاہرہ کر رہا ہے۔تجزیہ کار ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی سفارت کاری سٹریٹجک وژن اور قابل عمل نتائج کے نفیس
امتزاج کی عکاسی کرتی ہے جو ملک کو عالمی معاملات میں ایک قابل اعتماد قوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ماریہ سلطان نے ثالث اور امن کو فروغ دینے والے ملک کے طور پر اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی اور بین الاقوامی سطح پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر قمر چیمہ نے واضح کیا کہ پاکستان مڈل پاور سٹیٹس کے تشخص کو تقویت دیتے ہوئے سفارتی مہارت کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی ساکھ کو بھی موثر طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔خالد قیوم نے تبصرہ کیا کہ دنیا اب اسلام آباد کو قریب سے دیکھ رہی ہے، بین الاقوامی چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے عملی اور پختہ اقدامات کو بھی تسلیم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی مسائل پر پاکستان کی مسلسل مصروفیت قومی مفادات کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ متوازن کرنے کی نادر صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے یہ بھی سفارش کی کہ پاکستان علاقائی تنازعات
میں ثالثی کے لیے اپنی سٹریٹجک پوزیشن کا فائدہ اٹھائے، باہمی تعاون کو وسعت دے اور عالمی پالیسیوں کی تشکیل میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرے۔تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی فعال مصروفیت ایک مستحکم اور تعمیری درمیانی طاقت کے طور پر اپنے کردار پر زور دینے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک جامع اور دیرپا امن معاہدے کے حصول کے لیے مستقل اور حقیقی کوششیں ضروری ہیں۔متحارب فریقین کو کلیدی نکات پر رعایتیں حاصل ہیں، وہ اپنی پوزیشنز میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو باہمی معاہدے کی طرف ایک مثبت راستے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے ٹھوس نتائج برآمد ہو رہے ہیں، جس سے بھارت اور اسرائیل کے چیلنجز کے باوجود پاکستان کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پائیدار امن کی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

