اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی :بی بی سی اردو ڈاٹ کام; انٹرنیشنل ڈیسک)پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی وفد کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا گیا۔ترجمان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔ایرانی وفد کی آمد پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس امید
کا اظہار کیا کہ ’فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے‘۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کے درمیان ’سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘پاکستانی وزارت خارجہ نے ایرانی وفد کی آمد کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایران کا مذاکراتی وفد پاکستان کے دارالحکومت پہنچ گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وفد میں سکیورٹی، سیاسی، عسکری، معاشی اور قانونی کمیٹیوں کے نمائندے شامل ہیں، اور یہ کہ ’مذاکرات اسی صورت میں شروع ہوں گے جب دوسرا فریق ایران کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کے لیے رکھی گئی پیشگی شرائط قبول کرے گا۔‘مزید بتایا گیا ہے کہ اس دورے میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے بعض اراکین بھی موجود ہیں۔بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق ایران کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ان مذاکرات کے بارے میں یہ چند باتیں اہم ہیں:پاکستان گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر
ایران کو ’زیادہ تر لوگوں سے بہتر‘ جانتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ کو ایران کی جانب سے ایک 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انھوں نے ’مذاکرات کے لی قابلِ عمل بنیاد‘ قرار دیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک 15 نکاتی منصوبے کا ذکر کیا ہے جس کے بارے میں امریکی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔تاہم ان میں سے کسی بھی تجویز کو باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ دونوں منصوبوں کے مبینہ مسودے لیک ہوئے ہیں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں نے امن مذاکرات پر شکوک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔ بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے ملک بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔جمعے کی شام لبنان نے بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کرے گا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی کے لیے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جو حالیہ عرصے میں ایرانی حکومت میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی حالیہ پوسٹس میں وہ امریکہ کے حوالے سے ایران کے عدمِ اعتماد کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔حالیہ جنگ کے دوران ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی
تھیں کہ امریکی انتظامیہ قالیباف کو ایک ممکنہ شراکت دار اور حتیٰ کہ مستقبل کے کسی رہنما کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔وفد میں ایک اور اہم شخصیت ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہیں جو ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اسی جوہری پروگرام کے باعث ایران پر مغربی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ مذاکرات کا تازہ دور جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن قبل منعقد ہوا تھا۔ایک اور رکن عبدالناصر ہمتی ہیں جو ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ہیں۔ ایران اس بات کا عندیہ دے چکا ہے کہ اس کے مطالبات میں ملک پر عائد تمام معاشی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ان پابندیوں نے برسوں سے ایرانی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کی موجودہ معاشی صورتحال جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں فولاد اور پیٹروکیمیکل جیسی بڑی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جبکہ کاروباروں پر حکومتی سطح پر عائد کیے گئے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔یہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ جنگ کے آغاز کے بعد سے تاحال برقرار ہے۔

