اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ سمیت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا ہے۔ایوانِ بالا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن روابط کو ہی پائیدار راستہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی سفارتی کوششوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے اور ذمہ دار عالمی قیادت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ مزید کشیدگی سے بچا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے صدرِ آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا جن کی مربوط اور فعال سفارتی کاوشوں نے امن کی جانب مثبت پیشرفت میں اہم
کردار ادا کیا۔انہوں نے امریکہ اور ایران کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ باہمی مکالمہ ہی پائیدار امن، علاقائی استحکام اور دیرپا ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے سفارتی عملے کی پیشہ وارانہ مہارت، لگن اور انتھک محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشیں کشیدگی میں کمی کے لئے اہم ثابت ہوئیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس پیشرفت کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل عزم، صبر اور تمام فریقین کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات دیرپا امن، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کی بنیاد فراہم کریں گے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امن کے قیام اور استحکام کے لئے جاری سفارتی اقدامات کی بھرپور حمایت کرے۔قبل ازیں اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے پہلے چیئرمین سینیٹ نے رومانیہ کے نیشنل چیمبر کوائر کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے کی خوبصورت کورل پیشکش کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے اسے پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی احترام اور مشترکہ اقدار کی علامت قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ اورپاکستان کی عوام کی جانب سے حکومتِ رومانیہ، سفیر اور ان کی ٹیم اور کوائر کا اس خوبصورت اقدام پر شکریہ ادا کیا۔دریں اثناء چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان اور رومانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات پر مبنی تصویری نمائش کا افتتاح بھی کیا جسے انہوں نے چھ دہائیوں پر محیط دوستی، تعاون اور مشترکہ وژن کی عکاسی قرار دیا۔رومانیہ کے سفارتخانہ کی جانب سے پیش کی گئی اس نمائش میں 1964 سے دونوں ممالک کے تعلقات کے اہم سنگِ میلوں پر مبنی نایاب اور تاریخی تصاویر شامل ہیں۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹوینسکو اور سفارتخانہ کی اس کاوش کو سراہا اور عوامی و پارلیمانی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ نمائش میں ان رہنماؤں کی نایاب تصاویر بھی شامل ہیں جنہوں نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیاجن میں سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پاکستان۔رومانیہ فرینڈشپ گروپس کی کوششوں کو بھی سراہا۔تقریب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، سفراء، اراکین پارلیمنٹ اور معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں علی حیدر گیلانی،سینیٹر رانا محمود الحسن، ایم این اے شرمیلا فاروقی اور وزیر مملکت قانون و انصاف بیر سٹر عقیل بھی شامل تھے۔اس موقع پر پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹوینسکو نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے قومی ترانے کی کورل پیشکش رومانیہ کی جانب سے پاکستانی عوام کے لئے ایک تحفہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان دیرپا دوستی کی علامت ہے۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کی پاکستان۔رومانیہ تعلقات کے فروغ میں کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔چیئرمین سینیٹ نے تمام سفراء کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ ملاقات بھی کی۔
