لاہور۔( نمائندہ خصوصی):پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم لیڈر تھے جن کی خدمات کا اعتراف آج ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں ۔ منگل کو لاہور ہائیکورٹ بار میں پیپلز لائرز فورم کے زیر اہتمام شہید بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ملک بھر میں بھٹو کی یاد میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان ہمیشہ ان کے نظریے سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے رہنماوں کی عظمت کا اندازہ وقت کے ساتھ ہوتا ہے اور ان کی بعض باتیں
بعد میں سمجھ آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنے لیڈروں کو شہید کرتی ہیں، تاریخ انہیں سزا دیتی ہے اور آج پاکستان انہی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو اور ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک میں ان کے پائے کی قیادت پیدا نہیں ہو سکی ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ 1970 کے انتخابات اور 1971 میں ملک کے دولخت ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو انتہائی مشکل حالات میں ذمہ داری سونپی گئی، جب ملک کا خزانہ خالی تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی آئینی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، تاہم بھٹو نے 1972 میں عبوری آئین اور 1973 میں متفقہ آئین دیا جو آج بھی نافذ العمل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد 1972 میں رکھی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وسائل کی کمی اور عالمی حمایت نہ ہونے کے باوجود بھٹو نے خود انحصاری کا خواب دیکھا۔انہوں نے کہا کہ بھٹو دور میں صنعتی، تعلیمی اور دفاعی شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی، یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز قائم کیے گئے جبکہ نیشنلائزیشن پالیسی اس وقت عالمی سطح پر ایک مقبول پالیسی تھی۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بھٹو کے دور میں مسلم ممالک کے سربراہان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا اور اتحاد کا پیغام دیا گیا۔ انہوں نے عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی بعض خطوں میں مظالم جاری ہیں لیکن عالمی ادارے موثر کردار ادا نہیں کر رہے۔پیپلز لائرز فورم پنجاب کے رہنما ایڈووکیٹ را وخالد سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ملک کے خدمات پر روشنی ڈالی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔
