اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)صدر مملکت آصف علی زرداری کو کیوبا، ایتھوپیا،پرتگال،سپین اور تنزانیہ کے نامزد سفیروں جبکہ سنگاپور کے نامزد ہائی کمشنر نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔صدر مملکت نے سفیروں کو پاکستان میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے آغاز پر مبارکباد دی اور ان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ
ان کی تقرریاں دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق کیوبا کے نامزد سفیر ڈیمین کورڈیرو ٹورس سے ملاقات کے دوران صدر نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کی توثیق کی۔ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کیوبا کے تعاون
بالخصوص میڈیکل سکالرشپس کو سراہا اور صحت، بائیوٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر زور دیا، نیز کثیرالجہتی فورمز پر جاری اشتراک کو بھی اہم قرار دیا۔صدر مملکت نے 2005 کے زلزلے کے دوران کیوبا کی جانب سے فراہم کردہ امداد پر گہری قدردانی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ انسانی ہمدردی پر مبنی تعاون دونوں ممالک کے درمیان یکجہتی کی ایک دیرپا علامت ہے۔ایتھوپیا کے نامزد سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا سے ملاقات میں صدر نے اسلام آباد میں ایتھوپیا کے سفارتخانے کے
قیام اور براہِ راست پروازوں کی بحالی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا ذکر کرتے ہوئے تجارت، ہوا بازی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔پرتگال کے نامزد سفیر پاؤلو میگوئل گوئیدس دومینگش سے ملاقات میں صدر نے پرتگال کے ساتھ دوطرفہ اور یورپی یونین کے فریم ورک کے تحت تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے تجارت میں مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے سرمایہ کاری، آئی ٹی، زراعت اور بلیو اکانومی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ پاکستانی کمیونٹی کے کردار، لیبر موبیلیٹی اور تعلیمی تبادلوں کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔سپین کے نامزد سفیر کارلوس آراگون گل دے لا سرنا سے ملاقات میں صدر نے سفارتی تعلقات کے
75 سال مکمل ہونے کے سنگِ میل کا ذکر کیا اور کثیرالجہتی نظام کے لئے سپین کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کے تحت مضبوط تجارتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے مزید سرمایہ کاری اور تعاون کی حوصلہ افزائی کی، اور محفوظ و قانونی ہجرت کے ساتھ ساتھ ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے خلیجی بحران کے حوالے سے اسپین کے اصولی مؤقف کو سراہا اور کہا کہ یہ مکالمے، کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ تنزانیہ کے نامزد سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) یعقوب حسن محمد سے گفتگو میں صدر نے تنزانیہ اور مشرقی افریقی برادری کے ساتھ
تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور مضبوط کاروباری روابط، بہتر رابطہ کاری اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔سنگاپور کے نامزد ہائی کمشنر اسحاق بن اسماعیل سے ملاقات میں صدر نے سنگاپور کو ایک اہم علاقائی شراکت دار قرار دیتے ہوئے تجارت، فن ٹیک، انفراسٹرکچر اور خدمات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے کردار، بہتر رابطہ کاری اور موسمیاتی و ڈیجیٹل معیشت کے اقدامات میں اشتراک کی اہمیت پر بھی زور دیا۔آمد پر سفیروں کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ قومی ترانے بجائے گئے اور سفیروں

