اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پیر کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن (CRISP) پروگرام پر پیشرفت کے حوالےسے عالمی بینک کے وفد کے ساتھ اختتامی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے شفافیت اور آپریشنل کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے
لئے نظرثانی شدہ سروے سوالناموں، سپاٹ چیکس، پراکسی مینز ٹیسٹ اور ریسرٹیفکیشن کے عمل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ری سرٹیفکیشن کے عمل کا تسلسل برقرار رکھنا، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور مستحقین کی آراء کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ سروسز کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور حقیقی مستحق خاندانوں تک بروقت امداد پہنچے۔ورلڈ بینک کے وفد کی قیادت امجد ظفر خان، سینئر سوشل پروٹیکشن سپیشلسٹ اور ٹاسک ٹیم لیڈر نے کی جبکہ وفد میں گل نجم جامی، سوشل پروٹیکشن کنسلٹنٹ اور سارہ نظامی شامل تھیں۔ مشن نے تعلیم، صحت اور غذائیت سے متعلق اقدامات پر اپنی رپورٹ پیش
کی اور بتایا کہ بی آئی ایس پی نے متعدد اہداف کامیابی سے حاصل کرتے ہوئے نمایاں پیشرفت کی ہے۔اجلاس میں کلاؤڈ بیسڈ ڈیٹا شیئرنگ، مستحقین پر مبنی ادائیگی کے نظام اور ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن سکیم پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔امجد ظفر خان نے کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لئے ورلڈ بینک کی جانب سے مکمل تکنیکی معاونت اور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

