کراچی ( نمائندہ خصوصی) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں بدترین بدنظمی اور ناقص انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 7 اپریل سے ہونے والے امتحانات کسی صورت قبول نہیں کیے جاسکتے، فوری طور پر ملتوی کئے جائیں. اپنی رہائش گاہ پر آنے والے متاثرہ طلباء کے والدین سے گفتگو کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ میٹرک بورڈ کے امتحانات کامعاملہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ متعصبانہ سوچ کی عکاسی ہے جس کے تحت کراچی کے طلبہ و طالبات کو ہائر ایجوکیشن سے دور رکھنا اور انکی ترقی کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کی تاریخ میں صرف 2روز باقی ہیں جبکہ ابھی تک ایڈمٹ کارڈز جاری ہوئے نہ امتحانی
مراکز فائنل ہیں اور نہ ہی انتظامات مکمل ہیں تو پھر کس بات کے امتحانات لیے جا رہے ہیں؟ چار لاکھ سے زائد طلبہ کو ایسے غیر یقینی حالات میں امتحانات دینے پر مجبور کرنا فیصلہ سازی نہیں بلکہ حکومتی ضد ہے، اور یہ ضد بچوں کے مستقبل پر مسلط کی جا رہی ہے، ہم یہ ہرگز ہونے نہیں دیں گے۔آفاق احمد نے کہا کہ یہ بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، اسے بیوروکریسی کی نااہلی کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا، حکومت سندھ اور متعلقہ حکام کو بتانا پڑے گا کہ چار لاکھ سے زائد طلبہ اور انکے والدین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر کے آپ کون سی کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں؟۔آفاق احمد نے کہا کہ 7 اپریل سے امتحانات شروع کرنے کی ضد طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ ہوگا جسے قبول نہیں کیا جاسکتا، سندھ حکومت عوامی مطالبات اور تعلیمی حلقوں کے شدید تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانات کی تاریخ کم از کم ایک ہفتے بڑھا کر کے نیا تفصیلی شیڈول آئندہ 48 گھنٹوں میں جاری کیا جائے، اسکے علاوہ تمام ایڈمٹ کارڈز جاری، مراکز کا حتمی اعلان اور مکمل انتظامات کو یقینی بنایا جائے.۔آفاق احمد نے کہا کہ یہ بچوں کا مستقبل کا معاملہ ہے کوئی تجربہ نہیں۔ اگر نااہلی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو پھر خاموشی نہیں ہوگی۔ والدین، اساتذہ اور طلبہ خود سڑکوں پر ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر سطح پر طلبہ اور والدین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ بچوں کے مستقبل کو اپنی نااہلی کی نذر کرے۔
