کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی 51 سالہ زندگی میں وہ کام کئے ہیں جس کا آج کوئی تصور تک نہیں کرسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو آج۔ ژندہ ہوتے تو پاکستان کے حالات کو آج ہیں وہ نہیں ہوتے، اس خطے اور دنیا کے حالات بھی بہت مختلف ہوتے اور عالم اسلام کے حالات بھی دیگر ہوتے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت، آئین اور عالم اسلام میں سربلند رکھنے سمیت اس ملک کو حقیقی جمہوریت کی راہ پر گامزن کرنے سمیت دیگر سینکڑوں کارنامے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہی ہیں ۔ موجودہ عالمی صورتحال میں اگر پاکستان ایک محفوظ اور مضبوط خطے کے طور پر موجود ہے تو اس کا سہرا بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو
کے سر ہے کہ اس نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی ہے سلسلہ میں ڈسٹرکٹ ایسٹ میں پی ایس 102, 103, 104 اور 105 کے تحت منعقدہ علیحدہ علیحدہ تقریبات میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبل ساند، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی ، چیئرمین صفورا ٹاؤن راشد خاصخیلی ، چیئرمین سہراب گوٹھ ٹاؤن لالہ رحیم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے عہدیداران، تمام پی ایس کے صدور و جنرل سیکرٹریز، منتخب بلدیاتی نمائندے اور پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد ان تقریبات میں ان کے ہمراہ موجود تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک عہد کا نام ہے، انہوں نے اپنی 51 سالہ زندگی میں نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ڈالی اور اس کو ملک کے کونے کونے تک پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور ان کے اس ملک کے لئے کارناموں پر اگر بات کی جائے تو شاید ایک وقت میں ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ہوگا ۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان آج جس مقام پر ہے اور وہ دنیا کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے تو اس کا اعزاز بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہے کہ اس نے اس ملک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگوں کو یہ الفاظ یاد ہیں کہ "ہم گھانس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے”. انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بننے کے 25 سال بعد ایک متفقہ آئین ملا جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ہی مرہون منت ہے۔ اسی طرح اس ملک کو ایک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کا سہرا بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آمر نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کروایا اور شاید یہ سمجھا کہ اس ملک سے پیپلز پارٹی ختم کردے گا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آج اس آمر کا نام و نشان تو ختم ہوگیا لیکن شہید ذوالفقار علی بھٹو اس ملک کے بچے، بوڑھے، جوان، مرد و خواتین سب کے دلوں میں ژندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریہ، فلسفہ اور ان کے منشور کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا تو انہیں بھی شہید کردیا گیا۔ پھر صدر آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آگے بڑھا رہے ہیں اور آج پاکستان پیپلز پارٹی اس ملک کے کونے کونے میں اپنے منشور کو پھیلا رہی ہے۔

