کراچی(نمائندہ خصوصی) آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)نے محکمہ صحت حکومت سندھ اور ٹنڈو محمد خان کے ڈپٹی کمشنر آفس کے تعاون سے حکومت سندھ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ ٹنڈو محمد خان میں نرسنگ تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ اس شراکت داری سے مستفید ہونے والے تقریباً 50 طلبہ پر مشتمل پہلے بیچ کے 2027 میں داخلے متوقع ہیں۔
یہ شراکت داری ایک اسٹریٹجک پبلک پرائیویٹ تعاون کی نمائندگی کرتی ہےجس کے تحت حکومت سندھ اور اے کے یو مجوزہ بیچلر آف سائنس اِن نرسنگ پروگرام کی فراہمی میں مشترکہ طور پر تعاون کریں گے۔ اس تعاون کا مقصد دیہی سندھ میں
معیاری نرسنگ تعلیم تک رسائی کو بڑھانا ہے۔نرسنگ کے شعبے میں عالمی اور قومی سطح پر شدید کمی موجود ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا کو تقریباً60 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے جبکہ سب سے زیادہ خلا کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پایا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی نرسوں کی شدید کمی ہے ہر 10,000 افراد کے لیے صرف پانچ نرسیں دستیاب ہیں اور یہ کمی خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے۔ ٹنڈو محمد خان میں معیاری نرسنگ تعلیم فراہم کرنے کے کئی دہائیوں کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اے کے یو سندھ میں نرسنگ افرادی قوت کو مضبوط بنانے اور صوبے کے عوام کے لیے صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ڈاکٹر سلمہ آر ولانی ،ڈین اے کے یو اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری پاکستان نے کہا”یہ تاریخی اقدام پاکستان میں نرسنگ کے پیشے کے معیار اور وقار کو بلند کرنے کے لیے ہماری مسلسل
وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔“تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، صوبائی وزیر صحت و آبادی بہبود حکومت سندھ نے کہا” یہ تعاون سندھ کے کم سہولت یافتہ اضلاع میں صحت کی سہولیات تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ نرسنگ تعلیم میں سرمایہ کاری سے ہم اپنے صحت کے نظام کو مضبوط اور مقامی کمیونٹیز کے لیے معیاری تربیت و روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔“اس موقع پر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین، صدر اے کے یو نے کہا” یہشراکت داری اس بات کی ایک اہم مثال ہے کہ یونیورسٹیاں اور حکومتیں کس طرح مل کر پاکستان کے صحت کے نظام کو وسیع پیمانے پر مضبوط بنانے کے لیے نئے انداز میں کام کر سکتی ہیں۔“

