کراچی (نمائندہ خصوصی) پاکستان راہ حق پارٹی کے مرکزی ترجمان محمد اشرف میمن نے حکومت کی جانب سے قیمتوں میں حالیہ معمولی کمی کو مسترد کرتے ہوئے اسے "عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی ناکام کوشش” قرار دے دیا ہے۔ اپنے ایک دبنگ بیان میں انہوں نے کہا کہ 137 روپے کا بھاری اضافہ کرنے کے بعد محض 80 روپے کی کمی کرنا عوام کو ریلیف دینا نہیں بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔حکومت سے دو ٹوک مطالبات پاکستان راہ حق پارٹی نے موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر حکومت کے سامنے درج ذیل مطالبات رکھے ہیں:شاہانہ اخراجات پر پابندی: ارکانِ اسمبلی، سینیٹ اور وزراء کے شاہانہ اخراجات اور مراعات پر فوری طور پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ ملک اس وقت عیاشیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اشرافیہ کی مفت سہولیات کا خاتمہ: اشرافیہ، بیوروکریسی اور وزراء کو ملنے والا مفت پیٹرول اور مفت بجلی فوری طور پر بند کی جائے۔ عوام سے قربانی مانگنے والے پہلے خود عملی نمونہ پیش کریں۔مساوی تنخواہ کا قانون: وزراء اور منتخب نمائندوں کی تنخواہیں بھی ایک عام مزدور کی کم از کم اجرت کے برابر مقرر کی جائیں۔ جب تک حکمرانوں کو غریب کے چولہے کی تپش محسوس نہیں ہوگی، وہ عوامی مسائل کا ادراک نہیں کر پائیں گے۔حقیقی ریلیف کی فراہمی: حکومت اعداد و شمار کا گورکھ دھندا بند کرے اور عوام کو مصنوعی ریلیف کے بجائے حقیقی اور پائیدار معاشی فوائد فراہم کرے۔مرکزی ترجمان محمد اشرف میمن کا مزید کہنا تھا:”جب تک اس ملک میں حکمران اور مزدور کی مراعات برابر نہیں ہوں گی، ملک حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا۔ اشرافیہ کی مراعات کا بوجھ غریب عوام کے کندھوں پر ڈالنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔”پاکستان راہ حق پارٹی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر کان نہ دھرے اور شاہانہ اخراجات ختم نہ کیے تو پارٹی اس بارے میں جلد اپنا لائحہ عمل طے کرے گی ۔۔

