کراچی ( نمائندہ خصوصی) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی رہنماء اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام پر پیٹرول بم چلا دیا جس سے ملک میں معیشت تباہی پر پہنچ گئی یے۔یہ کیسی سفارت کاری ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تجارت نہیں کررہا ہے اور نہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے۔حکومتی عوام دشمن مہنگائی پالیسیوں کے خلاف آئندہ ہفتہ اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں احتجاجی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ملک بھر میں مظاہرے ہوں گے ۔کراچی پریس کلب پر آج اتوار کو مہنگائی کے خلاف مظاہرہ اور یکم مئی کو مہنگائی مارچ ہوگا ۔ان خیالات
انہوں نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کیا۔ان کے ہمراہ پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسرور سیال، کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان خالد مرکزی رہنما آفتاب جہانگیر، فرخ جمیل خان، معظم خان اور دیگر بھی تھے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی سبسڈی کو “گڈ” جبکہ عمران خان کی سبسڈی کو “بیڈ” قرار دینا دوہرا معیار ہے۔محمد زبیر نے دعوی کیا کہ حکومت نے پہلے 25 اور اب 55 روپے تک ٹیکس بڑھایا، تاہم سیاسی جماعتوں اور عوام کے شدید ردعمل کے بعد پیٹرول کی قیمت میں کمی کرنا پڑی۔انہوں نے وزیراعظم کی تقریر کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت 14 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مزید بوجھ ڈال رہا ہےجبکہ پڑوسی ممالک میں قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارتکاری بہتر ہے تو امریکا کے ساتھ تجارت کیوں نہیں بڑھ رہی۔محمد زبیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے قرضوں میں 400 فیصد اور ٹیکس کی شرح میں 300 فیصد اضافہ کیاہے مگر شاہانہ اخراجات کم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام اضافی ٹیکس واپس لیے جائیں کیونکہ عوام کو پیٹرول کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے سے حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی جبکہ یکم مئی کو مہنگائی مارچ کیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف سندھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسرور سیال نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اب عوام کی نظریں بانی پی ٹی آئی پر لگی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران عیش و عشرت میں مصروف ہیں جبکہ عوام مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا جائے گا، جس کے بعد 7 اپریل کو اڈیالہ جیل اور پھر 9 اپریل کو لیاقت باغ میں جلسے منعقد کیے جائیں گے۔

