شمالی وزیرستان( نمائندہ خصوصی)پاکستان‑افغان سرحد کے بالکل نزدیک سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، جنہیں فوج نے “فتنہ الخوارج” یعنی ممنوعہ گروہ کے شدت پسند قرار دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی نقل و
حرکت کا بروقت پتا لگایا اور مؤثر جواب دیتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی اس بات کی تازہ مثال ہے کہ افغان طالبان حکومت نے اپنی سرزمین پر موثر بارڈر مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کے پاکستان کے اندر آنے کی راہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو
پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے.پاک فوج نے عزمِ استحکام نامی مہم کے تحت سرحدی علاقوں میں آپریشنز کو تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے موجودہ خطرے کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس مہم کے تحت مزید سیکورٹی کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دوطرفہ مذاکرات جاری ہیں تاکہ باہمی تنازعات کا حل تلاش کیا جا سکے۔ عالمی ثالثی کوششوں کے تحت چین میں بھی مذاکرات ہو رہے ہیں، تاہم سرحدی سیکورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کا معاملہ ابھی تک کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکا۔
