جنیوا( نمائندہ خصوصی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو یاد دہانی کرائی ہے کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اس کی یہ حیثیت ہرگز تبدیل نہیں کی جاسکتی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنیوا میں پاکستان مشن کے فرسٹ سیکرٹری عدیل ممتاز کھوکھر نے بے بنیاد بھارتی دعوئوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں جموں وکشمیر کی
متنازعہ حیثیت تسلیم کی گئی ہے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی بات کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت سے انکار” ویانا ڈیکلریشن اور پروگرام آف ایکشن “کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت پابند ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلا رہا ہے جس پر وہ بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں بنیادی آزادیاں سلب کر رکھی ہیں جن میں سیاسی رہنمائوں کی مسلسل نظربندی، پرامن اجتماع پر پابندیاں اور نماز جمعہ اور عید کے اجتماعات پر پابندی شامل ہیں۔انہوں نے گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے بلکہ کینیڈامیں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی کا پول رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طورپر معطل کر کے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کی ہے ۔ عدیل ممتاز کھوکھر نے کہا کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر ہرگز معطل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔
