• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ : بورڈ آف ڈائریکٹرز کا وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنے کے آغاز : دو روز کے بعد 60 سال پر ریٹائر ہونے والے قائمقام ایم ڈی امین راجپوت کو مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 15, 2026
in پاکستان
0
سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ : بورڈ آف ڈائریکٹرز  کا  وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنے کے آغاز : دو روز کے بعد 60 سال پر ریٹائر ہونے والے قائمقام ایم ڈی امین راجپوت کو مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد(رپورٹ: ناصر جمال) سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنا شروع کردیئے۔ صرف دو روز کے بعد 60 سال پر ریٹائر ہونے والے قائمقام ایم ڈی امین راجپوت کو مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع دے دی۔ وہ سابق چیئرمین شمشاد اختر مرحومہ کے منظور نظر ہیں۔ 2024 میں وہ وزارت کی مخالفت کے باوجود وہ قائمقام ایم۔ ڈی بننے میں کامیاب رہے۔ سابق بورڈ نے عمران منیار کا تین سالہ کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود انھیں بھی مزید سات ماہ ایم۔ ڈی رکھا۔ وہ استعفیٰ نہ دیتے تو ابھی تک ایم ڈی ہوتے۔ نئے بورڈ نے بھی سابقہ بورڈ کی روایت کو دوام دیا۔ معروف قانون دان فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ایم ڈی کو گھر جانا ہوگا۔ قانون واضح ہے۔ بورڈ کے پاس اُسے توسیع دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ سینئر موسٹ ڈی ایم ڈی سعید رضوی کو اس کے باوجود چارج نہیں دیا گیا کہ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں نہیں ہیں اور غیر جانبدار ہیں۔معتبر ذرائع کے مطابق ایس۔ ایس۔ جی۔ سی۔ ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری اہم ایجنڈا آیٹم تھا۔ تقریباً تین سال توسیع در توسیع پر چلنے والے سابق بی او ڈی کو حکومت نے نئے ایم۔ ڈی کے تقرر سے الگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ مرحومہ شمشاد اختر، وہاں پر زبردستی تین ٹرم براجمان رہیں۔ وزیر خزانہ ہونے کے باوجود انھوں نے ایس۔ ایس۔ جی۔ سی کا بورڈ نہیں چھوڑا تھا۔ ابھی بھی وہ اپنی جگہ باامر مجبوری اپنے بہنوئی خالد رحمان کی شکل میں اپنی نمائندگی چھوڑ گئیں۔
12 ستمبر 2024ء میں امین راجپوت کو زبردستی، شمشاد اختر نے قائمقام ایم ڈی لگوایا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس نے وزارت کے ایما پر اُن کی شدید ترین مخالفت کی۔ سابق سیکرٹری مومن آغا بھی یہی چاہتے تھے مگر وزارت اور ان کے ڈائریکٹرز نے سابق وزیر اعظم کے سمدھی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اور اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا۔ امین راجپوت ڈیڑھ سال سے قائمقام ایم ڈی ہیں۔ وہ اتنے طاقتور ہیں کہ انھوں نے ایک بار پھر پوری وزارت اور بورڈ کو لٹا کر، ریٹائرمنٹ کے باوجود تین ماہ کی توسیع لے لی۔ حالانکہ وہ دو روز میں اپنی ساٹھ سال ملازمت کی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔
بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری تک قائمقام ایم ڈی رہیں گے۔ مگر کمپنی وزارت اور سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم۔ ڈی کا میچ بظاہر ”فکس“ محسوس ہورہا ہے۔
بورڈ کو بتایا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد امیدوار شارٹ لسٹ کئے گئے ہیں۔
کمپنی کے ڈی۔ ایم۔ ڈی سعید رضوی کو قائمقام ایم۔ ڈی کا چارج دیا جاسکتا تھا۔ مگر بورڈ نے بظاہر اُن پر عدم اعتماد کیا ہے۔ جس کا دوسرامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کمپنی میں کوئی اور ایم۔ ڈی بننے کے اہل ہی نہیں ہے۔ حالانکہ سعید رضوی ایم۔ ڈی کے امیدوار بھی نہیں ہیں۔ جبکہ امین راجپوت کو ریٹائرمنٹ کے باوجود ایم۔ ڈی برقرار رکھنا ’’دال کے کالا‘‘ ہونے کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ امین راجپوت ایم۔ ڈی کے آفس کو پہلے بھی خود کو قائم رکھنے میں مبینہ طور پر استعمال کررہے ہیں۔ انھیں تین ماہ کی ’’توسیع‘‘ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں ترجیح فراہم کررہی ہے۔ جو کہ ایس۔ او۔ ای ایکٹ اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔
وفاقی ملازم یا وفاقی ادارے کا ملازم ساٹھ سال میں ریٹائر ہوتا ہے۔ تو اُس کی مدت ملازمت میں توسیع صرف وزیر اعظم کا اختیار ہے۔مگر یہاں بورڈ وزیراعظم کا اختیار استعمال کرچکا ہے۔ کیا صرف ایک لیگل اوپینین لینے سے وزیر اعظم کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں بورڈ ایک کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو نہیں، ایک روز بعد ریٹائرڈ ہونے والے وفاقی ادارے کے ملازم کو ایکسٹینشن دے رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی بطور میں ارمی چیف پہلی تقرری سے پہلے بھی توسیع وزیراعظم و کابینہ نے کی تھی۔ یعنی یہ کام فوج نے بھی نہیں کیا، جو سوئی سدرن کا بورڈ کررہا ہے۔ حالانکہ بورڈ کا تقرر کابینہ نے کیا ہے۔ اس ضمن میں ان سوالات پر مبنی ایک سوال نامہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور وزارت کے ترجمان، بورڈ کے رکن، ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس کو بھی بھیجا گیا۔ مگر ان کا جواب نہیں آیا۔
مشہور قانون دان فیصل چوہدری نے کہا کہ ساٹھ سالہ مدت ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے والے قائمقام ایم۔ ڈی اپنی قائمقام ایم۔ ڈی شپ جاری نہیں رکھ سکتے۔ 2016 کے مصطفٰے اپیکس فیصلے کے مطابق، یہ معاملہ وزیراعظم واہ وفاقی کابینہ کے پاس جائے گا۔ ساٹھ سالہ ریٹائرمنٹ اور کنٹریکٹ میں توسیع دو مختلف معاملے ہیں۔ بورڈ کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو خدمات جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو نہیں۔ انھیں ریٹائرڈ ہونے والے ایم۔ ڈی کو نیا کنٹریکٹ دینا ہوگا۔ اس کے لیے پروسیس کرنا ہوگا۔ بورڈ کسی بھی صورت میں یہ اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔ بورڈ کے پاس ساٹھ سالہ مدت پوری کرنے والے قائمقام ایم۔ ڈی کی توسیع دینے کا اختیار نہیں ہے۔ بطور نیو ایم۔ ڈی قواعد و ضوابط کے تحت ان کو بورڈ کنٹریکٹ دے سکتا ہے۔ تین سالہ کنٹریکٹ والے ایم۔ ڈی کو بھی ایس۔ او۔ ای ایکٹ کے تحت توسیع مل سکتی ہے۔ جب تک کہ نیا ایم۔ ڈی نہ آجائے۔ مگر ریٹائرمنٹ والے قائمقام ایم۔ ڈی کو ہر صورت میں گھر جانا ہوگا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک خود ایک قانون دان اور معتبر قانون قانونی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے طاقتور شمشاد اختر کے ہوتے ہوئے نئے بورڈ کی تشکیل کی۔ جو کئی وفاقی وزیر نہ کر سکے۔ بیرسٹر حمدون سبحانی نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ریٹائرڈ شخص کو توسیع دے کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ توسیعِ ملازمت (Extension) درج ذیل قوانین اور قواعد کے تحت منضبط ہے:
ایف آر 56 (Fundamental Rule 56)
رولز آف بزنس 1973
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات
توسیع صرف درج ذیل شرائط کے تحت دی جا سکتی ہے:
ریٹائرمنٹ سے پہلے منظور کی جائے۔
عوامی مفاد (Public Interest) میں ہو۔
وفاقی حکومت کی جانب سے دی جائے۔
رولز آف بزنس کے تحت وزیرِ اعظم / وفاقی کابینہ کے ذریعے استعمال کی جائے۔
یہ اختیار آئینِ پاکستان کے تحت ایک انتظامی (Executive) اختیار ہے، جو کہ:
آرٹیکل 90 (وفاقی حکومت کا انتظامی اختیار)
آرٹیکل 99 (وفاقی حکومت کے امور کی انجام دہی)
کے تحت استعمال ہوتا ہے۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز وفاقی حکومت نہیں ہے۔
بورڈ کسی خودمختار آئینی یا انتظامی اختیار کا حامل نہیں ہے۔
لہٰذا:
بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس ایف آر 56 کے تحت کسی سول سرونٹ کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کا کوئی دائرۂ اختیار (Jurisdiction) نہیں ہے۔
ایسا کوئی اقدام قانوناً کالعدم (Ultra Vires) تصور ہوگا۔

پچھلی پوسٹ

کھلاڑی بھارت کے خلاف میچ کیلئے پرجوش اوربھرپور مقابلے کیلئےتیار ہیں،سلمان آغا،پاکستان کے خلاف میچ میں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے،بھارتی کپتان

اگلی پوسٹ

سردار اختر مینگل: بلوچستان کے عوام اور غریب سردار

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
سردار اختر مینگل: بلوچستان کے عوام  اور غریب سردار

سردار اختر مینگل: بلوچستان کے عوام اور غریب سردار

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper