• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایپسٹین فائلز حصہ اول

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 12, 2026
in کالمز
0
ایپسٹین فائلز حصہ اول
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اس وقت جس چیز نے مغربی دنیا میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے ، وہ ایپسٹین فائلز ہیں ۔ یہ ایک امریکی مالیاتی مشیر جیفری ایپسٹین کی ای میلز پر مبنی ریکارڈ ہے جو اب پبلک کیا گیا ہے ۔ یہ اہم ترین سوال ہے کہ آخر اس میں ایسا ہے کیا جس نے پوری مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ پہلے تھوڑا سا دیکھتے ہیں کہ ہم ایپسٹین فائلز کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور پھر پس پردہ چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اب تک ہم جو جانتے ہیں ، اسے انتہائی اختصار کے ساتھ دیکھیں تو یہ ہے کہ ایف بی آئی نے تقریبا 30 لاکھ سے زاید صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں ۔ ان فائلوں میں ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر اور 2 ہزار ویڈیوز بھی شامل ہیں ۔ جو ایپسٹین کی جیل کی زندگی ، اس کی نفسیاتی رپورٹ اور اہم شخصیات کے ساتھ ای میلز پر مشتمل ہیں ۔ جاری کردہ مواد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی روزانہ صرف ایک فائل ، ایک وڈیو اور ایک تصویر دیکھے تو جاری کردہ صفحات مکمل دیکھنے میں پونے آٹھ ہزار سال لگیں گے ، دو ہزار وڈیوز دیکھنے میں تقریبا پانچ سال لگیں گے اور ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر دیکھنے میں 50 ہزار سال لگیں گے ۔ ایپسٹین فائلز کا مجموعی ڈیٹا 60 لاکھ فائلز پر مشتمل ہے ۔ تاہم ایف بی آئی نے اس کے نصف حصے کو ہی پبلک کرتے ہوئے اسے حتمی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب مزید کوئی دستاویز پبلک نہیں کی جائے گی ۔

ان دستاویزات سے جو خاکہ بنتا ہے وہ یہ ہے کہ ایپسٹین نے ایک جزیرہ خریدا ہوا تھا جہاں پر وہ رانگ رنگ کی محفلیں سجاتا تھا ۔ ان محفلوں میں انتہائی بااثر افراد شریک ہوتے تھے ۔ ان محافل میں سیکس کے بھی مواقع موجود ہوتے تھے اور پرانی شراب کے بھی دور چلتے تھے ۔ صرف سیکس کے ہی مواقع موجود نہیں تھے بلکہ ان بااثر افراد کو خوش کرنے کے کمسن بچے اور بچیاں بھی موجود ہوتے تھے جن پر جنسی تشدد کیا جاتا تھا ۔ بات یہیں تک محدود نہیں تھی کہ ان کمسن بچے اور بچیوں پر جنسی تشدد کیا جاتا تھا بلکہ اتنا کیا جاتا تھا کہ وہ مربھی جاتے تھے اور انہیں جزیرے پر ہی خاموشی سے دفن کردیا جاتا تھا ۔ ان سیکس پارٹیوں میں بچیوں کو لانے کے لیے ایک پورا نیٹ ورک تشکیل دیا گیا تھا ۔ ٹین ایجرز کو پیسوں کا لالچ دے کر لاتے تھے ۔ جبکہ کمسن بچیوں کو ان کے ماں باپ سے باقاعدہ خریدا جاتا تھا یا پھر انہیں اغوا کرکے لایا جاتا تھا ۔

یقینا یہ سب انتہائی خوفناک ہے ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا ہونا بلکہ ہوتے رہنا اور بھی شرمناک ہے ۔ مگر پھر بھی سوال تو ہے کہ اس میں ایسا کیا ہے جس پر اتنا شور شرابہ ہے ۔ سیکس پارٹیاں اور مہنگی شراب مغرب تو مغرب ، ایشیا میں بھی عام بات ہے ۔ دبئی کی پورٹا پورٹی پارٹیاں تو اب میڈیا کی زینت بن چکی ہیں ۔ خود پاکستان میں رحیم یار خان اور دیگر مقامات پر عرب شیوخ کی خواہشات سے کون واقف نہیں ہے ۔ گھر سے بھاگ جانے والے اور والی ، اغوا ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو دل کٹنے لگتا ہے ۔ ان سب کی اکثریت قحبہ خانوں ہی کی زینت بنتی ہے ۔ کراچی میں ہی ہاکس بے ٹرک اسٹینڈ پر جا کر ذرا گہرائی میں تو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ کمسن چھوٹوں کے ساتھ ڈرائیور استاد کیا کچھ کرتے ہیں ۔ پیڈو فائلنگ تو یورپ میں اتنی عام بات ہے کہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے پولینڈ لوگ اسی مقصد کے لیے جاتے تھے اور یہ باقاعدہ سیکس ٹورزم کہلاتا تھا ۔ خود پاکستان میں عمران خان ، شہباز شریف ، نواز شریف اور زرداری سمیت کس کے اسکینڈلز کی بازگشت نہیں سنائی دیتی ۔ نیب کے سابق سربراہ کی آڈیو لیک بھی موجود ہے ، ججوں اور جنرلوں کی وڈیو لیک بھی موجود ہیں ۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں فلیٹ سے ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بارے میں کرائم رپورٹرز نے بتایا کہ اس کی موت جنسی درندگی کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس میں سندھ کے ایک بااثر پیر کے سپوت ملوث ہیں ۔ پھر اس کیس کو ہی دبا دیا گیا ۔ قصور کی معصوم زینب کا کیس بھی زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ ٹھیک ہے کہ کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تعلق قانونی طور پر جرم ہے مگر ڈارک ویب پر جا کر تو دیکھیں کہ ان کمسن پھولوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہوتا ہے ۔ تو پھر اس کی بیخ کنی کیوں نہیں کی جاتی ۔

جناب یہ مت بولیے گا کہ کسی کو علم نہیں ہوتا کہ ڈارک ویب پر کون کیا کر رہا ہے ۔ وہاں پر ہر چیز راز میں ہے ۔ ایپسٹین فائلز میں جتنی بھی ای میلز اور کمپیوٹر پر موجود تصاویر ، ویڈیوز ایف بی آئی نے جاری کی ہے ، یہ سب کچھ ایپسٹین نے تو نہیں دیا ہے ۔ یہ سب کچھ سی آئی اے اور ایف بی آئی نے گوگل اور دیگر سرورز رکھنے والے اداروں سے حاصل کیا ہے ۔ ایک لفظ بھی جو ہم اپنے کمپیوٹر پر لکھتے ہیں ، چاہے وہ ڈلیٹ ہی کیوں نہ کردیا جائے ، جو بھی ای میل کرتے ہیں یا وصول کرتے ہیں ، چاہے وہ بھی ڈلیٹ ہی کیوں نہ کردی جائے ، ان کمپنیوں کی ہارڈ ڈرائیو میں ہمیشہ کے لیے موجود رہتی ہے ۔ اسی طرح ہم سوشل میڈیا پر بھی جو کچھ دیکھتے ہیں یا سرفنگ کرتے ہیں ، وہ بھی محفوظ رہتا ہے ۔ایپسٹین نے اپنے مواد کو محفوظ رکھنے کے لیے اور اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو سے ہٹانے کے لیے اپنے تئیں چالاکی کی اور سب کچھ اپنے آپ کو ای میل کرکے اس مواد کو کمپیوٹر سے ڈلیٹ کردیا کرتا تھا ۔ اب اس کے پاس سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوتی تھی جو قابل اعتراض ہو ۔ مگر یہ سب کچھ ای میل کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کے پاس موجود تھا جو اب پبلک کیا جا رہا ہے ۔ تو جناب اسی طرح ڈارک ویب پر لائیو شو کرنے والوں سے لے کر تماشائیوں تک سب کا ریکارڈ موجود ہے ۔ بس نہ پکڑنے ، انہیں سہولت دینے اور فری ہینڈ دینے کے لیے یہ سب بہانے کیے جاتے ہیں ۔ آخر مجرموں کو پکڑنے کے بجائے انہیں سہولت کیوں دی جاتی ہے ، اس سوال کا جواب کچھ دیر بعد ۔

یہ بھی مت بولیے گا کہ امریکا میں قانون کی حکمرانی ہے اور اب پتا چل گیا ہے تو ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے ۔ ایپسٹین فائلز دسیوں برس سے ایف بی آئی کے پاس موجود تھیں مگر علامتی کارروائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ وہاں پر بھی وہی حال ہے جو وطن عزیز کا ہے ۔ یعنی کورٹ یہی کہتی ہے کہ کیا لکھ دوں صاحب یا کیا فیصلہ دوں۔ وہاں پر بھی یہی کچھ ہے ۔ اگر یقین نہ آئے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس دیکھ لیں ۔ مختلف امریکی ریاستوں میں امیگرنٹ کے خلاف کریک ڈاؤن میں بلاوجہ گولی مار کر قتل کرنے کی وڈیوز دیکھیں اور ان پر امریکی عدالتوں اور انتظامیہ کے فیصلے بھی دیکھیں ۔ اب حال میں ہی مادورو کے خلاف امریکی عدالت میں سماعت کی کارروائی بھی دیکھ لیجیے گا ۔ جس طرح وینزویلا کے صدر مادورو کو اغوا کرکے امریکا پہنچایا گیا ، بالکل اسی طرح پانامہ کے جنرل نوریگا کو بھی اغوا کرکے امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ امریکی عدالت میں پیشی سے قبل کہا گیا کہ نوریگا سی آئی اے کا ایجنٹ تھا اور اس نے سی آئی اے اور امریکا سے 3 لاکھ 22 ہزار ڈالر وصول کیے تھے ۔ سماعت کے دوران نوریگا نے کہا کہ درحقیقت اس نے سی آئی اے سے ایک کروڑ ڈالر وصول کیے تھے اور اسے یہ بتانے کی اجازت دی جائے کہ اس بھاری رقم کے بدلے نوریگا نے سی آئی اے کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں ۔ مگر عدالت نے نوریگا کو اس موضوع پر مزید بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ اس کا نوریگا پر عاید فرد جرم سے کوئی تعلق نہیں ۔

سوال اب بھی وہیں موجود ہے کہ ایپسٹین فائلز میں ایسا کیا ہے کہ مغربی دنیا میں تھرتھری دوڑی ہوئی ہے ۔ اب تک جو میڈیا میں اس حوالے سے آیا ہے ، اس میں تو ایسا کچھ نہیں ہے جو وہاں پر عام نہ ہو ، بات بس قوت خرید کی ہے ۔ اس سوال پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش

پچھلی پوسٹ

پی ایس ایل 11واں ایڈیشن، پشاور زلمی نے مزید دو کھلاڑیوں کو سکواڈ میں شامل کر لیا

اگلی پوسٹ

آٹسٹک بچوں کے علاج کی سہولت کو ضلع کی سطح تک لے جائیں گے۔مریم نواز شریف

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
آٹسٹک بچوں کے علاج کی سہولت کو ضلع کی سطح تک لے  جائیں گے۔مریم نواز شریف

آٹسٹک بچوں کے علاج کی سہولت کو ضلع کی سطح تک لے جائیں گے۔مریم نواز شریف

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper