اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر انتظام پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) کے درمیان فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم (ایف اے بی ایس) کے نفاذ کے لئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب جمعرات کو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت وفاقی سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے کی جبکہ جوائنٹ سیکرٹری (ایڈمن) اور دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پی ایس کیو سی اے کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل سیدہ ضیاء بتول اور سی جی اے کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل (مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز) عبدالباسط جسرا نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ایف اے بی ایس کے نفاذ سے پی ایس کیو سی اے میں مالیاتی نظم
و نسق کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔نظام کے تحت پے رول اور پنشن کے عمل کو خودکار بنایا جائے گا، نیشنل چارٹ آف اکاؤنٹس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا جبکہ معیاری مالیاتی رپورٹنگ اور اخراجات کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو سکے گی۔سی جی اے کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ایم آئی ایس) کی جانب سے تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی جس کے تحت ماہرین نظام کے نفاذ اور عملدرآمد میں رہنمائی کریں گے۔ اس کے علاوہ پی ایس کیو سی اے کے افسران کے لئے استعداد کار میں اضافہ کے پروگرام بھی منعقد کئے جائیں گے تاکہ نظام کی مؤثر نگرانی اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن شفاف عوامی مالیاتی نظم و نسق کی جانب اہم پیشرفت ہے اور اس سے ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے وژن ’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘سے ہم آہنگ ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے نے کہا کہ اس نظام سے دستی طریقہ کار میں کمی آئے گی، مالیاتی امور میں شفافیت بڑھے گی اور آڈٹ کے تقاضوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے گی۔وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق مستقبل میں اسی نوعیت کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو دیگر ماتحت اداروں تک بھی توسیع دینے کا ارادہ ہے تاکہ مربوط اور شفاف انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔
