اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کی کارروائی پر حکمِ امتناع جاری کر دیا اور ہائی کورٹ کا مقررہ شیڈول معطل کر دیا ہے، جس کے بعد فی الحال اس کیس میں مزید کارروائی نہیں ہو سکے گی۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں مزید کارروائی، خصوصاً توہینِ عدالت کی ممکنہ کارروائی کو آگے بڑھانے سے روک دیا۔وفاقی حکومت نے اپنی اپیلوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے عبوری احکامات اور توہینِ عدالت سے متعلق کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔ اپیل میں 16 مئی 2025 کے اس حکم کو بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، جس کے تحت تقریباً ایک دہائی قبل نمٹائے گئے مقدمے میں درخواست میں
ترمیم کی اجازت دی گئی تھی۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی تھی کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے امریکا میں کی جانے والی قانونی کوششوں کی حمایت کیوں نہیں کی گئی۔ ہائی کورٹ نے بعض مواقع پر عدم تعمیل پر سخت ریمارکس دیے تھے اور توہینِ عدالت کی کارروائی کا عندیہ بھی دیا تھا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے وفاقی حکومت کی نمائندگی کی، جبکہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق پیش ہوئے۔وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے اور آئندہ سماعت پر اپیلوں کے قابلِ سماعت ہونے اور دیگر قانونی نکات پر مزید غور کیا جائے گا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ کی جان، سلامتی اور جسمانی و ذہنی صحت کو خطرات لاحق ہیں اور حکومت کی جانب سے مستقل اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ترمیم شدہ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت قرار دے کہ حکومت آئینی اور بین الاقوامی قانون کے تحت ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔وفاقی حکومت نے اپنے مؤقف میں کہا کہ درخواست میں ترمیم کی اجازت دینا عدالتی اختیارات سے تجاوز (جوڈیشل اوور ریچ)کے مترادف ہے اور اس سے طے شدہ مقدمات کی حتمیت متاثر ہوتی ہے۔ حکومت کے مطابق اتنے طویل عرصے بعد کسی نمٹائے گئے معاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے منافی ہے، جبکہ یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور انتظامی اختیار سے متعلق ہے جس پر ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر پہلے ہی سفارتی سطح پر اقدامات کیے جا چکے ہیں۔اکتوبر 2024 میں وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو رحم کی اپیل کی حمایت میں خط لکھا تھا، جس کے بعد ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد بھی امریکا بھیجا گیا۔ قیدیوں کی منتقلی سے متعلق دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں کی کوشش بھی کی گئی، تاہم امریکی حکام نے اس حوالے سے کسی معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے حکمِ امتناع جاری ہونے کے بعد اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کی مزید کارروائی آئندہ سماعت تک معطل رہے گی۔
