ننکانہ صاحب ( نمائندہ خصوصی)ننکانہ صاحب میں تھانہ سٹی کے ایس ایچ او پر ایک ایسا سنگین اور شرمناک الزام سامنے آیا ہے جو نہ صرف پولیس کے دعوؤں بلکہ ریاستی رٹ پر بھی ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ الزام ہے کہ 14 سالہ کمسن بچے امیر حمزہ کو چار لاکھ روپے رشوت نہ دینے کی “جرأت” پر چار روز تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، جہاں اس پر مبینہ طور پر بدترین جسمانی تشدد کیا گیا۔کمسن بچے کے جسم پر تشدد کے واضح اور دل دہلا دینے والے نشانات خود اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ قانون کے محافظ کس طرح درندہ صفتی میں بدل چکے ہیں۔ ویڈیو بیان میں حمزہ نے تھانے کے اندر ہونے والے مبینہ
تشدد، خوفناک دھمکیوں اور ذہنی اذیت کی تفصیل بیان کی، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اہل خانہ کے مطابق، رشوت نہ ملنے پر پولیس نے بعد ازاں انتقامی کارروائی کرتے ہوئے بچے کو پہلے سے درج دو مقدمات میں نامزد کر دیا، تاہم عدالت نے حق و انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے کمسن بچے کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر بچے کا قصور اتنا ہی سنگین تھا تو پھر عدالت نے پولیس کی کہانی کیوں مسترد کی؟ذرائع کے مطابق تھانہ سٹی میں مبینہ طور پر ٹاؤٹ مافیا پوری آب و تاب سے سرگرم ہے، جو پولیس کی ملی بھگت سے شریف شہریوں کو جھوٹے مقدمات، حراست اور تشدد کے ذریعے بلیک میل کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایس ایچ او سٹی کے لیے قانون، اخلاق اور انسانیت سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اور وردی محض ظلم کی ڈھال بن چکی ہے۔شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے، تھانہ سٹی کے ایس ایچ او اور تمام ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے، اور پولیس تھانوں کو ٹاؤٹ مافیا سے مکمل طور پر پاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر اس سنگین معاملے پر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ خاموشی ظلم میں شراکت کے مترادف سمجھی جائے گی۔
