سرینگر۔( نمائندہ خصوصی)امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو جیسی سخت پابندیوں کے باجود احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ پورے مقبوضہ علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلس علماء کی اپیل پر مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔دکانیں اور کاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی۔قابض حکام کی طرف سے سخت پابندیوں کے باوجود
سرینگر، بڈگام، پلوامہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، کشتواڑ اور کرگل میں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جو سینہ کوبی اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ بھارتی فورسز نے بٹہ مالو سمیت سرینگر کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔لال چوک اور جامع مسجد سرینگر کی طرف جانے والے راستوں سمیت اہم سڑکوں کوبند کرنے کیلئے بھارتی فوج، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی بھاری تعیناتی کی گئی تھی۔وادی کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں۔ کشیدہ صورتحال کے پیش نظرقابض حکام نے وادی بھر کے تمام سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا جبکہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں امریکہ اسرائیل حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اور 180 کے قریب اسکول کے بچوں کو قتل کرنے کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں کرفیو جیسی پابندیاں جبر کی مسلسل پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں اور کشمیری کئی دہائیوں سے محاصرے کی حالت میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ ادھر بھارتی فورسز نے کشتواڑ، ڈوڈہ، ادھم پور، کٹھوعہ اور دیگر اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ فوجیوں نے گھروں پر چھاپے مارے
اور سرکاری ملازمین سمیت شہریوں سے پوچھ گچھ کی اور انہیں مجاہدین کے معاونین قراردیکر ہراساں کیا۔علاقے میں خوف وہراس پھیلانے کیلئے شہریوں کی تصاویر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دی گئیں۔جموں میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ مشن سٹیٹ ہڈ کے زیر اہتمام ریلی میں جموں، کشمیر اور لداخ سے تعلق رکھنے والے لوگوںنے شرکت کی۔ مظاہرین نے خصوصی حیثیت اور دفعہ370 کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔
