لندن ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو سنی جنھوں نے ورجینیا کے شہر شارلٹس وِل کے لیے روانہ ہوتے ہوئے طیارے میں سوار ہونے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانگی سے قبل انھوں نے نائب صدر جے ڈی وینس سے کیا کہا تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’میں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک ہی نشست میں مکمل ہو جائیں گے یا آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی متبادل منصوبے کی ضرورت
ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں۔‘ایک اور صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کیسا ہوگا۔اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران میں ’حکومت کی تبدیلی پہلے ہی ہو چکی ہے۔‘ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھول دی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے کافی جلد کھول دیں گے۔‘جب ان سے ان اطلاعات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر سکتا ہے تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

