تہران ( نمائندہ خصوصی بی بی سی اردو ڈاٹ کام) ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا ایک اہم نکتہ ہے۔تاہم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے منسلک خبر رساں ادارے فارس نے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ آج (بدھ کی) صبح ایران کی اجازت سے دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند کر دی گئی
ہے۔اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی نے بھی اطلاع دی ہے کہ بحری جہازوں کو روک دیا گیا ہے، اور دونوں خبر رساں اداروں نے اس اقدام کی وجہ لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کو قرار دیا ہے۔دریں اثنا تجارتی جہازوں کے بروکر ادارے ’ایس ایس وائی‘نے بی بی سی ویریفائی کو تصدیق کی ہے کہ خلیج میں موجود بحری جہازوں کو درج ذیل پیغام موصول ہوا ہے: ’تمام بحری جہازوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں موجود تمام بحری جہازوں کو اطلاع دی جاتی ہے۔ یہ آئی آ جی سی نیوی سٹیشن ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرگاہ بدستور بند ہے اور اس راستے سے گزرنے کے لیے پاسداران انقلاب سے اجازت لینا
لازم ہے۔ جو بھی جہاز بغیر اجازت سمندر میں جانے کی کوشش کرے گا، اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا۔‘ایس ایس وائی میں ٹینکر ریسرچ کی سربراہ کلیئر گریئرسن نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ جہازوں کے عملے نے یہ پیغام ایک ایسے ریڈیو چینل پر سنا ہے جو بین الاقوامی بحری انتباہات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔