لندن تہران واشنگٹن ( بی بی سی اردو ڈاٹ کام : مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کے بارے میں ان کا کہناہے کہ یہ ایران کے دارالحکومت تہران پر ہونے والے ایک ’بڑے حملے‘ کی ہے۔صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ’ایران کے بہت سے فوجی رہنما جنھوں نے ملک کی ناقص اور غیر دانشمندانہ قیادت کی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔۔۔۔‘ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں رات کے وقت میں بڑے دھماکے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ ویڈیو کہاں اور کب ریکارڈ کی گئی ہے۔امریکی حکام کی جانب سے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے جبکہ تہران نے بھی تاحال ٹرمپ کے دعووںپر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہےایران کے
خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو پورا خطہ ان کے لیے ’جہنم‘ بن جائے گا۔ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ ’اگر دشمنی میں اضافہ ہوا تو پورا خطہ آپ کے لیے جہنم بن جائے گا؛ ایران کو شکست دینے کا وہم ایک دلدل میں تبدیل ہو جائے گا جس میں آپ دھنس جائیں گے۔‘دوسری جانب خاتم الانبیا کے کمانڈر علی عبداللهی نے بھی دھمکی دی کہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ’جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے‘۔یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس اب 48 گھنٹے ہیں کسی معاہدے پر پہنچنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ورنہ ان پر ’قیامت ٹوٹ پڑے‘ گی۔ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایک ایرانی پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے
دعویٰ کیا ہے کہ اس کمپلیکس میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے لیے ’اہم جز‘ تیار کیے جاتے تھے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جنوب مغربی ایران کے شہر مشہر میں سنیچر کے روز کیا گیا تھا۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان دو مرکزی تنصیبات میں سے ایک ہے جو ایران میں دھماکا خیز مواد اور دیگر اسلحے کی تیاری کے لیے خام مال پیدا کرتی ہیں۔پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں جبکہ مزید 170 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے مقتول کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔سنیچر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ
وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا ہے۔مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں خواتین اس وقت امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کی تحویل میں ہیں اور ملک سے بے دخلی کے عمل کا انتظار کر رہی ہیں۔ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈروں میں سے ایک جنرل قاسم سلیمانی 2020 میں عراق میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ یہ حملہ اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کیا گیا تھا۔امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حمیدہ سلیمانی افشار ’ایران کی آمرانہ اور دہشت گرد حکومت کی کھل کر حمایت کرتی ہیں۔‘بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سلیمانی افشار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ’ایرانی حکومت کا پروپیگنڈا پھیلایا۔‘وزارتِ خارجہ کے مطابق سلیمانی افشار کے شوہر پر بھی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی
گئی ہے، تاہم بیان میں نہ ان کی بیٹی اور نہ ہی شوہر کا نام ظاہر کیا گیا ہے۔مارکو روبیو نے ایکس پر جاری بیان میں یہ بھی کہا کہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی ’گرین کارڈ ہولڈرز تھیں جو امریکہ می عیش و آرام کی زندگی گزار رہی تھیں۔‘وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مار گرائے گئے امریکی طیارے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق عملے کی تلاش جاری ہے جبکہ اب تک ایک رکن کو ریسکیو کیے جانے کی اطلاعات ہیںبی بی سی ویریفائی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں بظاہر ایک امریکی طیارہ دو ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ایران کے صوبے خوزستان کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فورسز نے اس
طیارے کو مار گرایا۔مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک کویت کی منا الاحمدی ریفائنری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہےامریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہےسی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کیے تھے
