برسلز(نیوز ڈیسک):یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے یورپی یونین کو اپنے بحر ی مشن ’’اسپائیڈس‘‘ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات انہوں نے ورچوئل میٹنگ میں شرکت کے
بعد سوشل میڈیا پکلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہی۔ اس میٹنگ میں40 سے زیادہ ممالک نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین آبنائے ہرمز میں خوراک اور کھاد کے لیے انسانی ہمدردی کی راہداریاں قائم کرنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ایک ناگزیر ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو برسلز میں خارجہ امور کی کونسل کے اجلاس کے بعد وزرا نے بحری اثاثوں میں اضافے کے ذریعے بحیرہ احمر میں مشن ’’اسپائیڈس‘‘ کو مضبوط کرنے پر بات چیت کی ہے۔
