• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل افیئرز انڈیا

آسام میں بی جے پی کی "مذہبی بنیادوں پر انتخابی حد بندی” مسلم آوازوں کو دبانے کی کوشش

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 3, 2026
in انڈیا
0
آسام میں بی جے پی کی "مذہبی بنیادوں پر انتخابی حد بندی” مسلم آوازوں کو دبانے کی کوشش
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)بھارتی ریاست آسام میں انتخابی حد بندیوں کے ذریعے مسلم سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کی بڑی سازش بے نقاب ہوئی ہے جس کے تحت تقریباً گیارہ لاکھ مسلمانوں کوسیاسی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی حد بندیوں کے نتیجے میں مسلم اکثریتی علاقوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے ہندو اکثریتی حلقوں میں ضم کیا گیا، جس سے بنگالی مسلمانوں کی ووٹ کی طاقت کمزور ہوئی ہے۔ ماہرین اسے "جیری مینڈرنگ” اور دھاندلی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔سام کے کچھ اہم حلقوں، جیسے کٹی گورا، میں مسلم نمائندگی کو دانستہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور سیاسی جماعتوں نے مسلم علاقوں میں ہندو امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اقلیتوں کی سیاسی شرکت محدود ہو گئی ہے۔ کٹی گورا حلقہ انتخاب جو بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع ہے، میں 55 سالہ ریٹائرڈ استاد اسلام الدین طویل عرصے سے اپنے ہم مذہبوں کے دروازے دروازے جا کر ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتے آئے ہیں تاکہ وہ ایسے نمائندے منتخب کریں جو کمیونٹی کی آواز بلند کر سکیں۔اسلام الدین کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے نمائندے کو بھیجنا ہے تاکہ وہ ہماری بات کہہ سکے ، تاہم اب ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے کہ آیا یہ کوششیں کوئی نتیجہ دے پائیں گی یا نہیں۔2023 میں الیکشن کمیشن کے پارلیمانی اور ریاستی اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے حکم نے کٹی گورا اور آسام کے دیگر حصوں میں انتخابی منظر نامے کو یکسر بدل دیا ہے۔اس سے قبل اس حلقہ میں ہندو اور مسلم آبادی تقریباً برابر تھی جس کی وجہ سے کانگریس اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ مسلم امیدوار کھڑا کر سکتے تھے جبکہ بی جے پی عام طور پر ہندو امیدوار چنتی تھی۔اب تقریباً 40,000 ہندو ووٹرز کو پڑوسی علاقوں سے کٹی گورا میں شامل کر دیا گیا ہے جس سے یہ حلقہ ہندو اکثریتی بن گیا ہے۔ سابق کٹی گورا قانون ساز، خلیل الدین مزمر نے اس تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ کہ یہاں مسلم امیدوار کے منتخب ہونے کے امکانات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ اسی لیے اہم جماعتوں نے ہندو امیدوار ہی چنے ہیں۔یہ رویہ صرف کٹی گورا تک محدود نہیں۔ آسام کی 126 اسمبلی حلقوں میں حد بندی کے اس عمل نے مسلمانوں کی سیاسی طورپر دیوار سے لگانے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جو ریاست کی تقریباً 34 فیصد آبادی ہیں جو بیشتر بھارتی ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔معروف پول اینالسٹ یوگندر یادو نے اس حد بندی کو "مذہبی جیری مینڈرنگ” قرار دیا اور اسے تاریخی امریکی نسل پرستی کے جیری مینڈرنگ سے تشبیہ دی۔ان کا کہنا ہے کہ اس میں "کریکنگ” (مسلم ووٹروں کو کئی ہندو اکثریتی حلقوں میں تقسیم کر دینا)، "پیکنگ” (مسلم اکثریتی علاقوں کو کم نشستوں میں سمیٹنا) اور "اسٹیکنگ” (ہندو آبادی کے مراکز کو ملا کر مصنوعی اکثریت بنانا) جیسے ہتھکنڈے شامل ہیں۔نتیجتاً، مسلم اکثریتی حلقوں کی تعداد تقریباً 35 سے کم ہو کر 20 رہ گئی ہے۔، ناقدین اور ماہرین کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے ریاستی سیکرٹری سپراکاش تالکدار نے وضاحت کی کہ دور دراز کے مسلم اکثریتی حلقوں کے ہندو علاقوں کو مخلوط آبادی والے حلقوں میں شامل کیا گیا جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں کے ووٹروں کو ہندو اکثریتی علاقوں میں بکھیر دیا گیا۔ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل میں الیکشن کمیشن کے اپنے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی، جیسے جغرافیائی ربط اور قدرتی حدود کا احترام۔مزمر نے نشاندہی کی کہ بارک ندی کے پار واقع ہندو علاقے بدر پور کو کٹی گورا میں شامل کیا گیا، حالانکہ قدرتی رکاوٹیں موجود تھیں۔بارک ویلی کے ہائلاکاندی ضلع میں جہاں 1.7 ملین بنگالی بولنے والے مسلمان مقیم ہیں، قانونی نشستوں کی تعداد 15 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔ پہلے مسلم نمائندگی والے حلقے جیسے الگاپور، ہائلاکاندی اور کٹلیچرا میں ہندو آبادی کے حصے شامل کر دیے گئے جس سے مسلمانوں کے انتخابی امکانات کمزور ہو گئے۔سیاسی محقق احمد توحیدس جمان نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نے علاقے کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اسی طرح ناؤبوائچا، جو تین بار مسلم قانون ساز منتخب کر چکا، اب مسلم اکثریتی حصوں کو چار پڑوسی ہندو اکثریتی حلقوں میں تقسیم کر کے ایک کم مراعات یافتہ ہندو امیدوار کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔AIUDF کے سابق امیدوار عزیز الرحمن نے افسوس کے ساتھ کہا کہ بی جے پی مسلم نمائندگی کو بالکل ختم کر دیا ہے۔ بارپیٹا میں بھی، جو پہلے چار بار مسلم نمائندے منتخب کر چکا، حد بندی کے ذریعے ہندو ووٹر شامل کر دیے گئے اور اسے اب ہندو اکثریتی حلقہ قرار دے کر ایک نچلے ذات کے ہندو امیدوار کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ بی جے پی کے ترجمان کیشور کے آر اوپادھیایا نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل مذہبی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے ذریعے کیا گیا تاہم یہ حد بندی بی جے پی کے وعدے کے مطابق "مقامی لوگوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت” کے لیے کی گئی تھی جو اکثر بنگالی مسلمانوں کے خلاف ایک خفیہ اشارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ریٹائرڈ استاد اسلام الدین نے صورتحال کو یوں بیان کی کہ ہمیں سیاسی طور پر بے بس کر دیا گیا ہے۔ بارپیٹا کے وکیل عالم نے اسے مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے ہمیں ہاتھ، پاؤں اور سر دے دیا ہو، دیکھنے اور چلنے کے لیے لیکن ہماری آواز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

پچھلی پوسٹ

ملتان:دواخانے میں خاتون کے ساتھ زیادتی کا سنگین الزام، ٹک ٹاکر حکیم شہزاد لوہا پاڑ گرفتار

اگلی پوسٹ

یورپی یونین کے بحری مشن اسپائیڈس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جانا چاہیے،کاجا کیلس

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
یورپی یونین کے بحری مشن اسپائیڈس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جانا چاہیے،کاجا کیلس

یورپی یونین کے بحری مشن اسپائیڈس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جانا چاہیے،کاجا کیلس

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper