• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل افیئرز چین

چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ڈکیتی

سپر کمپیوٹر سے غائب ڈیٹا اس قدر زیادہ ہے کہ اسے محفوظ کرنے کے لیے تقریباً 10 ہزار لیپ ٹاپس کی ضرورت پڑے گی۔

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 11, 2026
in چین
0
چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر  تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ڈکیتی
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بیجنگ ( نیٹ نیوز)چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے جہاں ایک ہیکر نے دس پیٹا بائٹس سے زیادہ کا انتہائی حساس ڈیٹا چوری کر لیا ہے۔اس چوری شدہ مواد کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پیٹا بائٹ ایک ہزار ٹیرا بائٹ کے برابر ہوتا ہے، جبکہ ایک عام اچھے لیپ ٹاپ میں صرف ایک ٹیرا بائٹ ڈیٹا ہی سما سکتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ چوری چین کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے جس میں دفاعی دستاویزات سے لے کر میزائلوں کے نقشے تک شامل ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈیٹا تیانجن میں واقع نیشنل سپر کمپیوٹنگ مرکز سے نکالا گیا ہے جو چین کا پہلا بڑا کمپیوٹنگ مرکز ہے اور اسے 6000 سے زائد ادارے استعمال کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے مراکز کے ساتھ ساتھ دفاعی کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔اس حملے کے پیچھے فلیمنگ چائنا نامی ایک ہیکر کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے جس نے فروری کے آغاز میں ٹیلی گرام کے ایک گمنام چینل پر اس چوری شدہ ڈیٹا کے کچھ نمونے بھی دکھائے ہیں۔ اس ڈیٹا میں خلائی انجینئری، فوجی تحقیق، انسانی خلیوں کی ساخت (بائیو انفورمیٹکس) اور ایٹمی توانائی (فیوژن سیمیولیشن) جیسے اہم شعبوں کی معلومات موجود ہیں۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کسی بہت پیچیدہ طریقے سے نہیں بلکہ سسٹم کی ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی گئی۔ہیکر نے ایک وی پی این کے ذریعے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور مسلسل چھ ماہ تک خاموشی سے ڈیٹا نکالتا رہا۔ پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ہیکر نے ایک ساتھ سارا ڈیٹا نکالنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی قسطوں میں معلومات منتقل کیں تاکہ سیکیورٹی کے نظام کو شک نہ ہو۔سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامیاں موجود تھیں۔اب یہ تمام معلومات انٹرنیٹ پر بھاری قیمت کے عوض فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اگرچہ ان تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے لیکن جن ماہرین نے نمونے کے طور پر دی گئی دستاویزات کا معائنہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان پر سرکاری مہریں اور خفیہ کے الفاظ درج ہیں۔

پچھلی پوسٹ

عالمی سطح پر تحسین ہورہی ہے تو حکمران ملک میں بھی عوام سے عدل کریں، حافظ نعیم الرحمٰن

اگلی پوسٹ

امریکا اور ایران کی ثالثی پر عالمی حمایت کے بعد اسلام آباد امن کا دارالحکومت بن گیا

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
امریکا اور ایران کی ثالثی پر عالمی حمایت کے بعد اسلام آباد امن کا دارالحکومت بن گیا

امریکا اور ایران کی ثالثی پر عالمی حمایت کے بعد اسلام آباد امن کا دارالحکومت بن گیا

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper