تاریخ میں ایسے کردار کم ہی ملتے ہیں جو خاموشی سے، بغیر کسی شور و غوغا کے، دلوں کو بدلنے کا کام کرتے ہیں اور پھر اسی خاموشی میں رخصت بھی ہو جاتے ہیں۔ ان شخصیات کا تعارف کسی عہدے، منصب یا شہرت سے نہیں بلکہ ان کے وسیع ترین اثرات سے ہوتا ہے۔ وہ خود پردے میں رہتی ہیں مگر ان کا کام دنیا کے نقشے پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔
محمد جمال احمد خلیفہ المعروف ابوالبراء شہیدؒ بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے، جنہوں نے نہ کوئی سیاسی تحریک چلائی، نہ کوئی عسکری محاذ سنبھالا، مگر اس کے باوجود لاکھوں انسانوں کے دل بدل دیئے۔ وہ تن تنہا اک انجمن تھے۔ ان کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے تقریباً ایک ملین افراد کو اسلام کی روشنی سے روشناس کروایا، وہ بھی بندوق یا جبر کے ذریعے نہیں، بلکہ خدمت، اخلاق، دعوت اور اخلاص کے ذریعے۔ابوالبراء کا تعلق سعودی عرب کے تاریخی اور قدیم شہر جدہ سے تھا۔ ایک خوشحال ترین گھرانے میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، کاروباری دنیا میں قدم رکھا، کامیابیاں سمیٹیں۔ مگر ان کے اندر ایک بے چین روح تھی جو صرف دنیاوی کامیابیوں پر مطمئن نہیں تھی۔ ان کے اندر دین کی خدمت اور انسانیت کی فلاح کا جذبہ بچپن ہی سے موجود تھا، جو جوانی میں ایک واضح مشن کی شکل اختیار کر گیا۔
ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کا خاندانی تعلق بھی تھا، کیونکہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی بہن سے شادی کی تھی۔ مگر یہ رشتہ زیادہ دیر تک نظریاتی ہم آہنگی میں تبدیل نہ ہو سکا۔ 1980ء کی دہائی میں جب افغان جہاد کے بعد مختلف راستے سامنے آئے تو ابوالبراء نے ایک الگ راہ اختیار کی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام کی اصل طاقت تلوار نہیں بلکہ دعوت ہے اور اگر دل جیت لیے جائیں تو دنیا خود بدل سکتی ہے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنی زندگی کا رخ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف موڑا، خاص طور پر فلپائن کی طرف، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا مشن شروع کیا۔فلپائن کا جنوبی علاقہ منڈاناو اس وقت شدید غربت، تعلیمی پسماندگی اور مذہبی کشیدگی کا شکار تھا۔ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی وہاں موجود تھی، مگر وہ معاشی اور سماجی طور پر کمزور تھی۔ دوسری طرف عیسائی مشنری تنظیمیں سرگرم تھیں، جو غربت سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف مائل کر رہی تھیں۔ابوالبراء نے یہاں قدم رکھا تو انہوں نے سب سے پہلے حالات کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہاں محض تقریروں سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ عملی خدمت کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے "رابطہ عالم اسلامی” کے تحت "ہیئة الاغاثہ الاسلامیہ العالمیہ” (IIRO) کے دفتر کی بنیاد رکھی۔یہ ادارہ جلد ہی ایک ہمہ جہت فلاحی نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ ابوالبراء کی قیادت میں درجنوں مساجد تعمیر ہوئیں، سینکڑوں مدارس اور اسکول قائم کیے گئے، یتیم خانوں کا جال بچھایا گیا اور طبی مراکز بنائے گئے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا تھا۔
انہوں نے صرف مسلمانوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے افراد کی بھی بھرپور مدد کی۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے ان کے کام کو غیر معمولی اثر دیا۔جب ماؤنٹ پیناٹوبو آتش فشاں پھٹا اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے، تو ابوالبراء نے لاکھوں کی امداد فراہم کی۔ انہوں نے متاثرین کے لیے خوراک، پناہ گاہیں اور طبی سہولیات فراہم کیں۔ اس خدمت نے لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر ڈالا، کیونکہ وہ غیر مسلم لوگ دیکھ رہے تھے کہ ایک مسلمان ان کی مدد کر رہا ہے، بغیر کسی امتیاز کے۔یہی وہ مقام تھا جہاں دعوت کا دروازہ کھلا۔ لوگ خود سوال کرنے لگے: یہ کون سا دین ہے جو ہمیں بغیر کسی شرط کے سہارا دے رہا ہے؟ابوالبراء نے اس موقع کو نہایت حکمت کے ساتھ استعمال کیا۔ انہوں نے زبردستی یا دباؤ کے بجائے نرمی، اخلاق اور مثال کے ذریعے اسلام کا تعارف کروایا۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق، ان کی کوششوں سے یا ان کے قائم کردہ اداروں کے ذریعے تقریباً ایک ملین افراد نے اسلام قبول کیا۔
یہ لوگ مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے تھے، کچھ عیسائی تھے، کچھ بدھ مت کے پیروکار، کچھ روایتی اور مقامی چھوٹے چھوٹے مذاہب سے وابستہ۔ مگر سب کو ایک چیز نے متاثر کیا: اسلام کی عملی تصویر۔ محبت کا پیغام۔ خدمت خلق اور ابوالبراء شہید کا اخلاص بھرا طرز عمل۔ابوالبراء شہید خود کہا کرتے تھے:”اگر حق تعالیٰ کے ہاں مجھے صرف یہ اجر مل جائے کہ ایک ملین لوگ میرے ذریعے اسلام میں داخل ہوئے، تو میرے لیے یہی کافی ہے۔” اور حقیقت بھی یہی ہے۔ مسلمان کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کی وجہ سے کسی ایک فرد کو ہدایت مل جائے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ رسول کریمؐ نے سیدنا علی المرتضیٰ رض سے فرمایا تھا کہ تمہارے ذریعے سے ایک شخص کو ہدایت ملے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔ سرخ اونٹ عربوں کے یہاں بہت قیمتی مال شمار ہوتا ہے۔
بہرحال ابو البراء شہید کی دعوت کا انداز نہایت منفرد تھا۔ وہ مناظروں سے گریز کرتے، لوگوں کی ضروریات کو سمجھتے اور ان کی مدد کرتے۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی تبلیغ یہ تھی کہ آپ اپنے کردار سے اسلام کو پیش کریں۔مگر جیسے جیسے ان کا اثر بڑھتا گیا، ویسے ویسے ان پر عالمی توجہ بھی بڑھنے لگی۔ 1990ء کی دہائی میں جب دنیا میں دہشت گردی کے خلاف بیانیہ شدت اختیار کر رہا تھا، تو ابوالبراء شہید جیسے افراد بھی شک کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے۔1994ء میں وہ امریکہ گئے، جہاں انہیں اچانک گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر کوئی واضح جرم ثابت نہیں کیا گیا، مگر انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا۔ امریکی حکام نے محض یہ کہا کہ ان کی موجودگی "امریکی مفادات کے خلاف” ہے۔
اس کے بعد انہیں اردن منتقل کیا گیا، جہاں ایک مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی، حالانکہ وہ اس سے قبل کبھی اردن گئے بھی نہیں تھے۔ یہ مقدمہ بعد میں اس وقت ختم ہو گیا جب مرکزی گواہ نے اعتراف کیا کہ اس کی گواہی تشدد کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ عدالت نے ابوالبراء کو بری کر دیا۔
یہ بظاہر ایک بڑی کامیابی تھی، مگر حقیقت میں یہ ان کی مشکلات کا آغاز تھا۔ ان پر عالمی سطح پر پابندیاں لگ گئیں، فلپائن واپسی ممکن نہ رہی اور ان کی سرگرمیاں محدود ہو گئیں۔انہوں نے کچھ عرصہ جدہ میں گزارا اور ایک سادہ سا کاروبار شروع کیا، مگر ان کا دل وہاں نہ لگا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا اصل مشن کہیں اور ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک بار پھر ہجرت کا فیصلہ کیا، اس بار افریقہ کی طرف، خاص طور پر مڈغاسکر کی طرف۔ مڈغاسگر ایک غریب ملک ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے اور عیسائی مشنری سرگرمیاں مضبوط ہیں۔ ابوالبراء شہید نے یہاں بھی وہی حکمت عملی اپنائی، پہلے معاشی بنیاد، پھر فلاحی کام، اور پھر دعوت۔انہوں نے قیمتی پتھروں کی تجارت کے ذریعے وہاں قدم رکھا، مگر ان کا اصل مقصد دعوتی کام تھا۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے تعلقات قائم کیے، ان کی ضروریات کو سمجھا اور ان کی مدد شروع کی۔
26 جنوری 2007ء کو وہ مڈغاسکر پہنچے۔ جمعہ کی نماز ادا کی اور پھر ملک کے جنوبی علاقے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں انہوں نے ایک سادہ سا کیمپ قائم کیا۔وہاں پہنچ کر بھی انہوں نے سب سے پہلے غریبوں کے لیے خوراک کا انتظام کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق، وہ مسلسل اس فکر میں رہتے تھے کہ لوگوں کی مدد کیسے کی جائے۔
مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔30 جنوری 2007ء کی رات، تقریباً 25 سے 30 افراد پر مشتمل ایک مسلح گروہ نے ان کے کیمپ پر حملہ کیا۔ حملہ انتہائی منظم اور سفاکانہ تھا۔ پہلے فائرنگ کی گئی، پھر دروازہ توڑا گیا اور پھر انہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔انہیں پہلے گولی ماری گئی، پھر چاقو سے وار کیا گیا، پھر کلہاڑی اور ہتھوڑے سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض قتل نہیں تھا بلکہ ایک وحشیانہ تشدد تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ حملہ آور صرف معمولی رقم اور چند اشیاء لے کر فرار ہوئے، جس سے یہ بات یقینی ہوئی کہ اصل مقصد کچھ اور تھا۔پولیس نے چند افراد کو گرفتار کیا، مگر مرکزی ملزم کی پراسرار موت نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ واقعی ڈکیتی تھی یا ایک منصوبہ بند قتل۔
کئی بین الاقوامی صحافیوں اور مبصرین نے اس واقعے کو مشکوک قرار دیا۔ ان کے مطابق، ابوالبراء شہید کی بڑھتی ہوئی دعوتی سرگرمیاں بعض طاقتوں کے لیے باعثِ تشویش ہو سکتی تھیں۔ابوالبراء کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اسلام دنیا میں بندوق کے زور سے نہیں، بلکہ اخلاق اور کردار کی طاقت سے پھیلا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر آپ لوگوں کے دل جیت لیں تو وہ خود حق کو قبول کر لیتے ہیں۔ایک ملین افراد کا اسلام قبول کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں، نسلوں اور معاشروں کی تبدیلی کی کہانی ہے۔
ان کی شہادت یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ حق کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ اس میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور بعض اوقات سب سے بڑی قربانی بھی۔یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہےلوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
مگر ایسے لوگ مرتے نہیں۔ وہ ایک نظریہ بن جاتے ہیں، ایک مثال بن جاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔
ابوالبراء شہید بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں، ایک ایسا داعی جس نے خاموشی سے دنیا بدل دی اور پھر خاموشی سے رخصت ہو گیا، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا نور چھوڑ گیا جو ہمیشہ چمکتا رہے گا۔
بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

