یہ ایک ایسی بیماری ہے جو دنیا بھر کے انسانوں جن میں بچے، بوڑھے، جوان، مرد، عورت سبھی شامل ہیں اس میں بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔ یہ بیماری لوگوں میں بہت تھوڑے سے وقت کے لیے بھی موبائل فون کے بغیر وقت گزارنے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نفسیاتی حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنے موبائل فون سے دور رہنے یا اسے استعمال نہ کرنے پر بے سکونی محسوس کرتا ہے۔
یہ بیماری انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہے، یہ کرہ ارض کے ہر شخص کو اپنا شکار بنا رہی ہے۔ کبھی گلی سڑک بازار ریستوران بس اڈوں ریلوے اسٹیشن پر لوگوں کو دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ زومبیز کا ایک بہت بڑا ہجوم آپ کے اردگرد جمع ہے، جو دوسروں سے لاعلم لاتعلق اور بے خبر ہو کر اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل فون پر جھکا ہوا ہے۔
اس بیماری کی شدید علامات یہ بھی ہیں؛ موبائل فون کے بغیر خود کو بے چین یا خوفزدہ محسوس کرنا، فون کا بار بار چیک کرنا، چاہے اس میں کوئی نوٹیفکیشن ہو یا نہ ہو۔ جب موبائل فون ساتھ نہ ہو، تو شدید اضطراب، پریشانی یا مایوسی محسوس کرنا۔ سوشل میڈیا یا دوسرے ایپس کے ذریعے مسلسل جڑے رہنے کی خواہش۔ اس کے علاوہ جب موبائل فون گھر پر رہ جائے یا بیٹری ختم ہو جائے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، اور وہ شخص خود کو بے سکون یا پریشان محسوس کرتا ہے۔
ایسے لوگوں کا اپنے فون کے بغیر کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
لوگ اپنے ذاتی تعلقات یا سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے موبائل فون پر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
اس کے بغیر ہونے پر تنہائی یا مایوسی محسوس ہونے لگتی ہے۔
ذرا رک کر سوچیے!
کہیں آپ اور آپ کے اہل خانہ بھی نوموفوبیا کے مریض تو نہیں بن چکے؟
کہیں آپ بھی زومبیز کے ہجوم میں ایک زومبی کی شکل تو نہیں اختیار کر چکے؟

