1961میں ایوب کی آنکھوں کے تارے اور چونتیس سالہ نوجوان وزیر ذوالفقار علی بھٹو کی ملاقات ڈھاکہ میں ایک نوجوان خاتون سے ہوئی۔ اُس کا نام حسنہ شیخ تھا۔ اُس وقت حسنہ کی عمر پچیس سے تیس سال کے درمیان تھی ۔ اُس کی شادی ایک کامیاب بنگالی وکیل، عبدالاحد سے ہوئی تھی ۔ اُن کی دو بیٹیاں تھیں۔ اردو، انگریزی اور بنگالی بہت روانی سے بولنے والی حسنہ بنگالی اور پشتون نسل کا امتزاج تھیں۔ اُن کی دلکشی اور ذہانت نے ذوالفقار علی بھٹو کا دل موہ لیا۔ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے 31دسمبر 1977 ء کے اڈیشن (جس نے بعد میں حسنہ کے بھٹو کے ساتھ تعلقات کی کہانی شائع کی ) کے مطابق اُس وقت حسنہ کےاپنے وکیل شوہر کے ساتھ تعلقات خراب تھے۔ اگرچہ بھٹو نے اپنی تمام تر وجاہت اور کشش کے ساتھ اُس کا تعاقب کیا لیکن حسنہ
اُنکی پہنچ سے دور رہیں۔ بھٹو کی بے قراری اپنی انتہاپر تھی ۔ 1965 ء میں حسنہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی، اور اپنی دونوں بیٹیوں کو لے کر کراچی چلی آئی ۔اُس نے کراچی کے اُس وقت کے انتہائی پوش علاقے، باتھ آئی لینڈ کے ایک اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کی۔ یہ اپارٹمنٹ بھٹو کی کراچی میں رہائش گاہ، 70 کلفٹن سے دس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ ملیحہ لون ’فرائی ڈے ٹائمز ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ جب حسنہ کراچی میں قیام پذیر ہوگئیں تو مصطفی کھر نے بھٹو کو اُن سے راہ و رسم بڑھانے میں سہولت فراہم کی ۔ صرف کھر، جو کہ بھٹو کے انتہائی قریبی رازداں تھے، اس معاملے سے واقف تھے ۔ وہ نہایت رازداری سے گاڑی چلاتے ہوئے بھٹو کو باتھ آئی لینڈ میں حسنہ کے اپارٹمنٹ پر لے جاتے ۔ تاہم جس سال (1965ء میں) ان کا معاشقہ پروان چڑھا، اُسی سال بھٹو کے اپنے اتالیق، ایوب خاں کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آنا شروع ہوگیا ۔ 1966 ء میں ایوب نے اُنہیں اپنی کابینہ سے نکال باہر کیا۔ حسنہ ایک پراعتماد، تعلیم یافتہ اور ضدی عورت تھی۔ ملیحہ لون اپنے مضمون میں تہمینہ درانی کی کتاب، ’’مائی فیوڈل لارڈ ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ 1960 ء کی دہائی کے آخر تک یہ معاملہ اتنا دھماکہ خیز ہوچکا تھا کہ بھٹو کی شکل دیکھتے ہی حسنہ زور سے دروازہ بند کردیتیں ۔ اُنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو کھلے الفاظ میں بتادیا کہ اب وہ اُس وقت تک نہیں ملیں گی جب تک وہ اُن سے شادی نہیں کرلیتے ۔
1968 ء میں ایوب خان حکومت کے خلاف طلبہ اور مزدور یونینز کی ہنگامہ خیز تحریک کےروح رواں ذوالفقارعلی بھٹو تھے۔ یہ وہ
دور تھا جب حسنہ نے بھٹو کو شادی کے لیے قائل کرلیا۔ تاہم 1969 ء میں جب وہ حسنہ سے شادی کا فیصلہ کرچکے تھے، اُنہیں ’’ریاست کے خلاف تشدد پر اکسانے ‘‘ کی پاداش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے حسنہ سے درخواست کی کہ وہ انتظار کرے ۔ وہ ایوب خان کا تختہ الٹنے کے بعد اُن سے شادی کا وعدہ ضرور پورا کریں گے ۔ ملیحہ لون لکھتی ہیں کہ جب ایوب نے 1969 ء میں استعفیٰ دے دیا تو بھٹو کی حسنہ سے ملاقات ہوئی ۔ حسنہ نے اُنہیں دیکھتے ہی کہا…’’تم نے سب میری خاطر کردکھایا؟ اوہ، تم میرا مقدر ہو۔‘‘ لون لکھتی ہیں کہ یہ سن کر بھٹو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ ولپرٹ لکھتے ہیں کہ 1970 ء کے انتخابات میں بھٹو کی پی پی پی نے مغربی پاکستان میں زیادہ تر نشستیں جیت لیں تو وہ ایک مرتبہ پھر مصطفی کھر کے ہمراہ خفیہ طریقے سے حسنہ کے باتھ آئی لینڈ والے اپارٹمنٹ میں جانے لگے۔ تاہم ایک روز بھٹو اور حسنہ میں شدید جھڑپ ہوئی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بھٹو شادی کے وعدے سےمنحرف ہورہے تھے ۔ مایوسی کے عالم میں بھٹو نے ایک بار پھر شادی کا وعدہ کیا۔ یہ وعدہ ایک تحریر کی صورت قرآن پاک کے ایک نسخے کی جلد کے اندر لکھا گیا۔ یہاں ولپرٹ لکھتے ہیں جب بھٹو کاجوش سرد ہوااور حسنہ گھرمیں کسی اور جگہ پر تھیں تو بھٹو نے وہ قرآن اپنی جیب میں رکھا اور وہاں سے فوراً
نکل گئے۔ مسلۂ یہ پیش آیا کہ جلدی آنے کی وجہ سے وہ کھر کو نہ مل سکے ۔چنانچہ بھٹو کو 70 کلفٹن تک کا سفر پیدل طے کرنا پڑا۔یہ تیس منٹ کا راستہ تھا۔ اُس وقت تک وہ پنجاب اور سندھ میں انتخابات جیت کر ایک اہم شخصیت بن چکے تھے ۔ چنانچہ بھٹو نے کوشش کی کہ وہ سنسان گلیوں میں سے گزریں تاکہ پہچان سے بچ سکیں۔ 1971 ء کے وسط میں بھٹو نے حسنہ کو قرآنِ پاک کا ایک خوبصورت نسخہ تحفے میں پیش کیا۔ یہ وہ نسخہ نہیں تھا جو بھٹو نے اُن کے اپارٹمنٹ سے چرایا تھا۔ اس کے کور پر لکھا ہوا تھا، ’’اپنی بیوی ، حسنہ کے لیے‘‘۔ بھٹو بیس دسمبر 1971ء کو پاکستان کے صدر بن گئے ، اور اس کے چند دن بعد اُنھوں نے خاموشی سے حسنہ سے شادی کرلی ۔ یہ نکاح ترقی پسند اسلامی سکالر مولانا کوثر نیازی نے پڑھایا۔ اس کے گواہ مصطفی کھر تھے ۔
