• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ڈاکٹر بننا محض کسی ڈگری کا نام نہیں

تحریر: ڈاکٹر عالیہ خان

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 6, 2026
in کالمز
0
ڈاکٹر بننا محض کسی ڈگری کا نام نہیں
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹر بننا محض کسی ڈگری کا نام نہیں، یہ بچپن سے جوانی تک ایک مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے لیے بچے سے لے کر والدین تک اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہیںوقت، محنت، نیند، خواہشات اور مالی آسودگی بھی۔ تیرہ سے پندرہ سال کی مسلسل پڑھائی، امتحانات کا دباؤ، ہاؤس جاب کی تھکن، اور پھر عملی زندگی میں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے اور ان سب قربانیوںکے بعد ایک ڈاکٹر معاشرے کا مسیحا بنتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بچہ کتنے کٹھن مراحل سے گزر کر ڈاکٹر بنتا ہے خاص طور پر ایک ہیمیٹولوجسٹ بننے تک کا راستہ مزید مشکل اور طویل ہے، کیونکہ یہ وہ ماہر ڈاکٹر ہوتا ہے جو خون سے متعلق پیچیدہ بیماریوںجیسے خون کی کمی، لیوکیمیا (خون کا سرطان)، بلیڈنگ ڈس آرڈرز اور بون میرو کی بیماریوںکا علاج کرتا ہے۔ ہیمیٹولوجی کا شعبہ انتہائی حساس اور مہارت طلب ہے، جس کے لیے نہ صرف اعلیٰ تعلیم بلکہ عملی تجربہ، تحقیق اور مسلسل تربیت ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خون کی بیماریاں عام ہیں، تھیلیسیمیا کے مریض ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور کینسر کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں، وہاں ایک ہیمیٹولوجسٹ کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے ماہرین کی کمی پہلے ہی ہمارے صحت کے شعبے میں تشویشناک حد تک محسوس کی جا رہی ہے ایسے میں ایک محنتی اور جوان ڈاکٹر کی موت ہم سب کے لئےاور ہمارے ملک کے لئے ایک نا قابل تلافی تقصان ہے۔ دوسری جانب ہسپتال کا اسٹاف، نگران، انتظامیہ، سیکورٹی سب مل کر ایک ایسے ادارے کا حصہ ہوتے ہیں جہاں ایک ڈاکٹر کا ایک لمحے کے لیے بھی غائب ہونا سوال اٹھاتا ہے۔ مگر یہاں چار دن تک کوئی خبر نہ ہونا معمول کی سی چیز سمجھی گئی۔ یہ بے حسی صرف ادارے کی نہیں بلکہ ایک پوری معاشرتی سوچ کی عکاس ہے کہ جو لوگ دوسروں کی جان بچاتے ہیں، ان کی اپنی جان کی کتنی قدر کی جا رہی ہے۔ہم بحیثیت قوم ہر حادثے کے بعد تحقیقات کی بات کرتے ہیں، قصور وار ڈھونڈتے ہیں، کچھ دن شور مچاتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ مگر اس خاموشی کے پیچھے وہ افراد دفن ہو جاتے ہیں جن کی زندگی ہماری ذمہ داری تھی۔افسوس کی بات ہے کہ جن ڈاکٹرز کو ملک کے مستقبل اور انسانوں کی زندگیوں کا محافظ ہونا چاہیے، وہ خود ہی نظام اور معاشرےکی غفلت کا شکار ہو جائیں تو یہ صرف ایک شخص کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نا قابل تلافی نقصان ہےڈاکٹر احمد لطیف کی موت کی تحقیقات ہونا اور وجوہات منظرعام پر آنا بےحد ضروری ہیں۔۔۔۔۔ اللہ پاک اس نوجوان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔۔۔۔آمین
بے شک موت بر حق ہے اور ہم سب نے لوٹ کر جانا ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون

پچھلی پوسٹ

۔ حاجی محمد نعیم آرائیں کی عمرہ کی ادائیگی سے واپسی پر الشریف فاؤنڈیشن آمد، پرتپاک استقبال کیا گیا

اگلی پوسٹ

برطانیہ میں امریکا کے زیر استعمال آر اے ایف اڈے کے قریب احتجاج، 7 افراد گرفتار

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
برطانیہ میں امریکا کے زیر استعمال آر اے ایف اڈے کے قریب احتجاج، 7 افراد گرفتار

برطانیہ میں امریکا کے زیر استعمال آر اے ایف اڈے کے قریب احتجاج، 7 افراد گرفتار

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper