• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ ؟ پاکستان ٹی وی کی بڑی نیوز ریڈر کے بھٹو کی شہادت اور ضیاء کی موت پر تاثرات

تحریر : مہ پارہ صفدر

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 5, 2026
in کالمز
0
بھٹو کی پھانسی کی خبر  پڑھ لیں گی آپ ؟  پاکستان ٹی وی کی بڑی نیوز ریڈر  کے بھٹو کی شہادت اور ضیاء کی موت پر تاثرات
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

شعبہ خبر سے وابستگی کے دوران دو خبریں ایسی تھیں۔ جن میں سے ایک پڑھ کر افسوس ہوا اور ایک نہ پڑھ کر۔ایک جمہوریت کی موت تھی اور ایک آمریت کی۔دونوں خبریں اپنی اپنی جگہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ ایک ملک کے منتخب وزیر اعظم کے قتل کے باب میں جس کے خون کے چھینٹے انصاف کے دامن پر بھی نظرآتے ہیں۔ تو دوسری ایک آمر کے انجام کے باب میں ۔تو چلئیے پہلے وہ خبر جسے سن کر میرے بہت سے لمحے تو بے یقینی کی کیفیت میں گزرے۔دل جیسے کہہ رہا ہو۔
یا الہی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہومگر حقیت کے ادراک پر آنکھ سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ یہ خبر پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان کے دن کے گیارہ بجے کے بلیٹن میں نشر ہوئی،جس کے مطابق بھٹو صاحب کو ہمارے گھر سے تین میل کے فاصلے پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں رات کے دو بجے پھانسی دی جا چکی تھی۔تاہم فوج کی جانب سے ہینڈ آؤٹ اس وقت جاری کیا گیا۔ جب انھیں بندوقوں کے سایے میں چند لوگوں کی موجودگی میں گڑھی خدا بخش بھٹو میں بلکل لاوارثوں کی طرح دفنایا جاچکا تھا۔پھانسی سے لیکر تدفین تک کی پوری کارروائی اس قدر خفیہ رکھی گئی کہ چند میل دور سہالہ جیل میں مقید بیوی نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کی تدفین میں شرکت تو دور کی بات، دفنانے سے پہلے انھیں شکل تک نہیں دکھائی گئی۔پھانسی کی خبر جاری ہونے کے بعد ہمارے نیوز پروڈیوسر کا فون آگیا خاصی گھبراہٹ زدہ آواز میں۔ خبر تو سن لی ہوگی آپ نے؟ بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ؟ میرے اطمینان دلانے پر ان کی تسلی نہیں ہوئی۔ اب کے خود نیوز کنٹرولر حبیب اللہ فاروقی لائن پر تھے۔ دیکھیں بی بی یہ خبر پڑھ لیں گی، آپ کہیں رو تو نہ پڑیں گی؟

مگر یہی تو ہماری تربیت تھی کہ دلی کیفیت چہرے اور آواز میں جھلکنے نہ پائے۔شام پانچ بجے کا بلیٹن میں نے بالکل معمول کے مطابق پڑھا۔ یہ خبر چند فقروں پر مشتمل اور نپی تلی تھی۔ظاہر ہے نیوز روم کو یہی ہدایات ملی تھیں ، اور شاید بار بار پوچھے جانے کے دباؤ میں، میں کچھ زیادہ تیار تھی۔ نو بجے میرے ساتھ خالد حمید تھے۔ سرخیاں میں نے پڑھیں۔ اور تفصیلی خبر خالد نے پڑھنی شروع کی۔لیکن چند سطریں پڑھنے کے بعد آواز میں لرزش ہوئی جیسے گلے میں پھندا سا پڑجائے۔ بمشکل جملہ مکمل کیا۔ اگلا جملہ شروع ہونے میں وقفہ اتنا تھا کہ محسوس کیا گیا۔ٹی وی والوں کی گھبراہٹ سمجھ میں آتی تھی، میں یا خالد رو پڑتے تو ان کی تو نوکری جا سکتی تھی۔اس خبر کے ساتھ چند سیکنّڈ کی فوٹیج انھیں دفنائے جانے کی دکھائی گئی جس میں بند تابوت میں چند لمحوں کے لیے ان کے چہرے کی جھلک بھی تھی۔ جس کا مقصد لوگوں کو آگاہ کرنا نہیں، یہ باور کرانا تھا کہ دفن ہونے والی لاش ذوالفقار علی بھٹو کی ہی تھی ۔ نماز جنازہ میں میت ایک چارپائی پر چٹائی پر رکھی تھی اور کوئی درجن بھر افراد نماز جنازہ میں شریک تھے، جو غالبا” ایجنسی کے لوگ تھے۔
اُف کیا بے کسی تھی لاش پرخیالوں ہی خیالوں میں مجھے اس لاش کے پیچھے ماؤ زے تنگ کیپ پہنے وہ جواں سال بھٹو نظر آیا۔ جسے میں نے اپنے بچپن نہیں، ہاں لڑکپن میں چند گز کے فاصلے سے دیکھا اور سنا تھا۔ سن اڑسٹھ یا انہتر میں ذوالفقار علی بھٹو اپنی پیپلز پارٹی کی تنظیم کے سلسلے میں سرگودھا آئے. یہ پارٹی کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا۔ کسی جاگیر دار یا صنعت کار نے مسٹر بھٹو کو لفٹ نہیں کرائی تھی۔چند مڈل کلاس لوگوں نے بھٹو صاحب کو ہاتھوں ہاتھوں ہاتھ لیا اور پذیرائی کی تھی۔ مسعود زاہدی، ممتاز کاہلوں رکن اسمبلی، خود میری والدہ شمس الزہرہ زیدی خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے امیدوار بھی تھیں۔ بھٹو ہمارے عزیز ایڈوکیٹ مسعود زاہدی ہی کے گھر ٹھہرے تھے اور سیٹلایئٹ ٹاؤن سرگودھا میں ہمارے گھر سے ذرا فاصلے پر ہمارے والد کے دوست علی احمد کاظمی کے گھر خواتین سے خطاب کرنے آئے تھے۔میں بھی اپنی والدہ اور بڑی بہن فوزیہ کے ساتھ انہیں سننے گئی تھی۔ابھی ہمارے گھر میں ٹی وی نہیں آیا تھا۔ ہم سب صرف اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے ہی بھٹو کی شخصیت سے متعارف تھے۔مجھے بالکل یاد نہیں انھوں نے کیا کہا، مگر انھوں نے خواتین کو جیسے متاثر کیا اور جس طرح ان کے ووٹ کی اہمیت کا انھیں احساس دلا دیا تھا، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ میری والدہ اور وہاں موجود خواتین کا جوش و خروش دیدنی تھا، یہ پہلا موقع تھا کہ عورتوں کو ان کی اہمیت کا احساس دلایا گیا تھا۔ اس کے بعد میرے والدہ سمیت عورتوں کے غول کے غول الیکشن تک گھروں کے دروازے کھٹکٹھا کر انھیں پولنگ سٹیشن تک لانے کے لئے آمادہ کرتی رہیں۔سترکے انتخابات میں نا قابل یقین مقبولیت کے بعد پیپلز پارٹی مڈل کلاس سے دور اور وڈیروں اور جاگیرداروں کی مقبوضہ بنتی چلی گئی۔مگر یہ مڈل کلاس عوام بھٹو کو اپنے ذہنوں سے دور نہ کر سکے ۔ وہ اس شخص کو بچا تو نہیں پائے۔ جس نے اور کچھ نہیں تو کم از کم پہلی مرتبہ انھیں ووٹ کی اہمیت کا شعور دیا تھا۔ مگر لفظوں کی صورت میں جتنا خراج عقیدت پیش کر سکتے تھے وہ خوب کیا۔ بساختر حسین جعفری کی نظم کی تین سطریں سنا کر دوسری خبر کی طرف چلتی ہوں
تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تُو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے

وہ خبر جسے نہ پڑھنے کا افسوس رھا، وہ جنرل ضیاء کی ہلاکت کی خبر تھی۔ جنرل ضیاء کا فوجی طیارہ سترہ اگست 1988ءکو چار بجے کے لگ بھگ بہاولپور کے قریب کریش ہوا۔ مگر ٹی وی پر رات آٹھ بجے ان کی ہلاکت کی خبر نشر ہوئی۔ جو اظہر لودھی نے پڑھی ،خبر نامے کے لئے میری اور اظہر لودھی کی ڈیوٹی تھی۔میں میک روم میں داخل ہوئی تو وہاں سب کو صرف اتنا معلوم تھا کہ کوئی بہت بُری خبر ہے۔ میں اوپر نیوز روم میں پہنچی تو افراتفری کا عالم دیدنی تھا۔ جنرل ضیاء کی فوٹیج اور پرانی خبروں کے سکرپٹ نکالے جارہے تھے۔ اتنے میں چیف ایڈیٹر شکور طاہر مجھے دیکھتے ہی میری طرف لپکے ، چہرے پر گھبراہٹ نمایاں تھی، مجھے دوسرے کمرے میں لے گئے۔ اور بولے کہ بی بی بہت بُری خبر ہے جنرل ضیاء فوجی طیارے کے حادثے میں ’ شہید ’ ہوگئے ہیں۔ آج خبر نامے میں اس کے سوا کوئی خبر نہیں جائے گی۔ اور یہ اظہر لودھی پڑھیں گے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا، کیوں؟ میں کیوں نہیں؟ ۔ شکور طاہر نے کہا بی بی، آپ لوگوں نے میک اپ وغیرہ کیا ہوتا ہے۔ یہ بڑی سنجیدہ خبر ہے۔ تو اچھا نہیں لگتا، یہ خبر کوئی ’مرد’ ہی پڑھے تو بہتر ہے۔میں نے کہا شکور صاحب! جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تھا۔ مجھے پہلے ہدایت کردی گئی کہ کپڑے بھی بہت سادہ ہوں اور میک اپ بھی انتہائی کم۔ آج آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ بتادیتے تو میں میک اپ نہ کرواتی۔ اور یہ غیر سنجیدہ خبریں کونسی ہوتی ہیں؟ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتی انھیں کسی نے بلا لیا۔ اور میری بات کو اہمیت نہ دی ، میں گو مگو کی حالت میں نیوز روم میں آکر رائیٹر اور اے پی کے پرنٹ پڑھنے لگی۔ اس دن خبر نامہ کیا، ضیاء نامہ تھا۔ حادثے کی خبر۔ حالات زندگی، غیر ملکی دوروں کا احوال اور شخصیات کے تعزیتی پیغامات اور نہ جانے کیا کیا۔

میری نظروں میں چار اپریل کا منظر اتر آیا۔ اور میں نے سوچا ایک سویلین رہنما کی اتنی بے توقیری کہ اسے سولی پر چڑھا دیا جائے اور اس کی محض چند سطروں کی خبر نشر ہو۔اور ایک آمر کی اتنی عزت افزائی کہ وہ ہلاک ہو تو شہید اورخراج تحسین کے ڈھیر.سترہ اگست مجھے پروفیشنل عورت کی بے توقیری کے لئے بھی یاد رہے گا۔عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی یہ بد ترین مثال تھی۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ اس نے مجھے جنسی تعصبات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا۔ میرا سفر آج تک جاری ہے۔

پچھلی پوسٹ

وزیر اعظم کا پٹرول پر لیوی میں 80روپے کمی کا اعلان، تمام تر وسائل اور توانائیاں عوامی بہبود کیلئے مختص کریں گے، شہباز شریف

اگلی پوسٹ

وزیراعلی مریم نواز شریف کا ایکس میسج میں کسان بھائیوں کے لیے بڑا اعلان

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
وزیراعلی مریم نواز شریف کا ایکس میسج میں کسان بھائیوں  کے لیے بڑا اعلان

وزیراعلی مریم نواز شریف کا ایکس میسج میں کسان بھائیوں کے لیے بڑا اعلان

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper