• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

کیا سندھ کی بیٹی ”اُم رباب“ہار گئی !

تلخیاں ! علی احمد ڈھلوں

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 4, 2026
in کالمز
0
کیا سندھ کی بیٹی ”اُم رباب“ہار گئی !
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ام رباب سندھ کی بیٹی ہیںوہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں رہتی ہیں،جس کے باپ مختیار چانڈیو، دادکرم اللہ چانڈیواور چچا کابل چانڈیوا کو 8 سال قبل 17جنوری 2018کو ڈی ایس پی پولیس کے دفتر کے سامنے مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔یہ الزام پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو اور ان کے بھائی برہان چانڈیو سمیت سات افراد پر لگا اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا۔مقتول مختیار چانڈیو کی بیٹی ام رباب کا الزام ہے کہ ایم پی اے سردار خان چانڈیو کے کہنے پر برہان چانڈیو نے پولیس پروٹوکول کی موجودگی میں مختار چانڈیو، کابل چانڈیو اور کرم اللہ چانڈیو کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ اس تہرے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دائر ہے جس میں ام رباب کے چچا مدعی ہیں جبکہ بھائی مقدمے کی پیروی کر رہے تھے لیکن ام رباب جو خود قانون کی طالبہ رہیں انھوں نے پیروی کی ذمہ داری سنبھال لی ۔اس کیس کو 8 سال ہوچکے ہیں اُم رباب ہر پیشی پر ننگے پاﺅں پیش ہوتی رہیں، تاکہ عدالتوں کو شاید اُن پر رحم آجائے مگر انصاف اُن سے کوسوں دور رہا۔ بلکہ اس دوران تو کئی مرتبہ اُسے ہراساں کرنے کی بھی کوشش ہو چکی ہے، جیسے چند سال قبل پیشی سے واپسی پر ام رباب کا سیکورٹی حصار توڑ کر چانڈیو سرداروں کے قافلے نے انکی گاڑی کو ٹکر ماری اور قتل کرنا چاہا لیکن ام رباب چانڈیو معجزانہ طور پراس حملے میں محفوظ رہیں ۔لیکن اُس نے نہ تو اپنے مقصد سے جان چھڑائی اور نہ ہی بااثر وڈیرہ سسٹم کے خلاف ایک انچ بھی پیچھے ہٹی۔ اور اب گزشتہ روز دادو کی عدالت نے اس کیس میں تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے،،، اس ہائی پروفائل قتل کیس کی 450 سماعتوں کے بعد عدالت نے کل فیصلہ سنایا۔
لیکن وہ ابھی بھی اس کیس کو سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک لے جانا چاہتی ہیں،،، یقین مانیں اُن کی اس ہمت اور استقامت کو سلام پیش کرنے کو دل چاہتا ہے کہ اُس اکیلی لڑکی نے سندھ میں وڈیرہ سسٹم اور سرداری نظام پر لوگوں کو بولنے کا موقع فراہم کیاہے،،، اور وہ اس لیے بھی ثابت قدم رہیں کیوں کہ وہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے، اُس کے باپ مختار چانڈیو نے ایک ”تمندار کاﺅنسل“ بنا رکھی تھی جو سرداری نظام کے خلاف تھی۔ اُم رباب بھی شاید انہی ہزاروں بیٹیوں کی طرح ہمارے نظام میں گم ہو جاتی مگر اُن کی شہرت کی وجہ اُس وقت بنی جب وہ ننگے پاﺅں اکیلی لڑکی اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی کے سامنے آگئی۔ جس پر چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ اس کیس کا فیصلہ دو ماہ میں ہوجائے گا مگر،،،، کچھ نہ ہو سکا۔ الغرض چیف جسٹس ثاقب نثار نے ام رباب کی فریاد کا دو بار از خود نوٹس لیا، ام رباب کے مطابق سکھر میں چیف جسٹس نے عوام کے سامنے اعلان کیا تھا کہ میں انصاف دلاو¿ں گا اور دو ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنادیا جائے گا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ پھراُسی سال جنوری میں تحریری طور پر حکم جاری کیا کہ یہ مقدمہ تین ماہ کے اندر نمٹایا جائے کیونکہ اس میں انسداد دہشت گردی کے دفعات لگی ہوئی ہیں اور قانون کے مطابق یہ مقدمہ تین سے چھ ماہ میں مکمل ہونا چاہیے لیکن قانون پر یہاں کوئی عمل نہیں ہوتا۔ام رباب کہتی ہیں کہ انہیں عدالتوں پر اعتماد تو ہے لیکن ملزمان اتنے بااثر ہیں کہ مقدمے میں تاخیر کراتے آرہے ہیں وہ خود قانون کی طالبہ ہیں ’اگر آج مجھے انصاف نہیں مل رہا تھا تو کل میں کسی اور کو کیسے انصاف دلاو¿ں گی۔‘ام رباب مزید کہتی ہیں کہ ”مجھے یہ بھی علم تھا کہ پولیس گارڈ مجھے شوٹ بھی کرسکتے تھے کچھ بھی ہوسکتا ہے پر میں نے جان کی پرواہ نہیں کی صرف اس لیے کہ میں انصاف حاصل کر سکوں۔“۔
بہرحال اُم رباب کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ وہ کس معاشرے میں انصاف کی طلب گار ہے، اُسے تو علم ہونا چاہیے کہ ہماری عدالتیں ”نظریہ ضرورت“ کے تحت کام کر رہی ہیں، اگر ضرورت پڑے تو عدالتیں 24گھنٹے کام کرنا شروع کر دیتی ہیں، اگر ضرورت پڑے تو جج صاحبان چھٹی پر چلے جاتے ہیں اگر ضرورت پڑے تو بینچ کو ہی Desolveکر دیا جاتا ہے اور یا کسی غیر ضروری کیس میں پورا بنچ تشکیل دے دیا جاتا ہے، یعنی اگر خان صاحب کو سیٹ سے اُتارنا مقصود ہو تو رات 12بجے بھی عدالتیں لگ جاتی ہیں۔ کسی کو ریلیف دینا ہوتو عدالتیں اتوار کو بھی کھل جاتی ہیں، نہیں یقین تو نواز شریف کو بیماری کے باعث باہربھیجنا تھا تو ہماری عدالتوں نے اتوار کے روز بھی اُنہیں ریلیف دیا۔
خیر اُم رباب کیس کا فیصلہ سیشن کورٹ سے آچکا، جس کے بعد کیس میں اب یہ باتیں بھی سننے کو مل رہی ہیں کہ قاتل موقع پر موجود نہیں تھے،،، لیکن بتایا جائے کہ کونسا ایسا واقعہ ہے کہ جب بڑے مجرمان نے خود قتل کیے ہوں،،، یہ کام عموما کرائے کے قاتل کیا کرتے ہیں،،، لہٰذااگر وہ پکڑے جائیں تو سب سے پہلے ماسٹر مائنڈ پکڑا جاتا ہے،،، یا جس کے لیے قتل کیا گیا ہویا جس کے کہنے پر قتل کیا گیا ہو، اُسے بھی اُتنی ہی سزا دی جاتی ہے جتنی کرائے کے قاتلوں کو دی جاتی ہے،،، اس کی مثال یوں لے لیں کہ کیا حال ہی میں پولیس کسٹڈی میں یا مقابلے میں ہلاک کیے جانے والے طیفی بٹ نے اگر کہیں کوئی قتل کیے تھے، تو وہ خود کیے تھے؟ یا اُنہیں امیر بالاج ٹیپو کے قتل میں گرفتار کیا گیا تھا تو کیا وہ قتل انہوں نے خود کیا تھا؟ نہیں! ایسا نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ملزمان تو اپنے آپ کو کہیں دوسرے ملک میں لے جاتے ہیں تاکہ عدالت میں بتایا جائے کہ وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔۔ آپ بھٹو کی مثال لے لیں، کہ جب احمد رضا قصوری کا باپ قتل ہوا تھا تو بھٹو پر دفعہ 109 بھی لگائی گئی تھی جس کا مطلب، اگر کسی نے خود قتل نہ کیا ہو مگر اس کا حکم دیا ہو یا منصوبہ بنایا ہوتو اسے بھی برابر کا مجرم سمجھا جاتا ہے۔ اور اس دفعہ کے تحت ہی بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا۔
چلیں ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہوئے مان لیتے ہیں کہ ملزمان جنہیں باعزت بری کیا گیا ہے، انہوں نے مذکورہ بالا تین افراد قتل نہیں کیے،،، تو ریاست بتائے کہ پھر یہ کس نے کیے ہیں؟ کیا یہ قتل ہوا میں ہی ہوگئے ہیں؟ اور پھر اس پر کونسی انوسٹی گیشن ٹیم بیٹھے گی؟ اور پھر اس ایک کیس میں ایسا نہیں ہوا، بلکہ پاکستان میں تو ہزاروں کیسز ایسے ہیں، جس میں ملزمان ”باعزت“ بری ہو جاتے ہیں،،، بلکہ گواہ ہی منحرف ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ گواہوں کو پروٹیکشن دینے کا ہمارے پاس نظام ہی موجود نہیں ہے۔کیا آج تک کوئی گواہ بڑے ملزمان کے خلاف بولا؟ چلیں آپ سیاستدانوں کو ہی دیکھ لیں،،، درجنوں کیسز ہر سیاستدان پر ہوتے ہیں، تو کیا کبھی کسی گواہ نے ان کے خلاف گواہی دی؟ اس لیے ریاست خود انوسٹی گیٹ کرے کہ سرزمین پاکستان پر یہ تین افراد مارے گئے ہیں،،، تو آخر کس نے مارے ہیں؟
اور ویسے بھی دنیا بھر میں یہ قانون ہے کہ ریاست خود بھی اتنی ہی ذمہ داری ہوتی ہے جتنے ملزمان ہوتے ہیں،،، یا تو ریاست اُس قتل کا الزام اپنے سر لیتی ہے، یا اصل قاتل ڈھونڈ کر اُسے سزا دیتی ہے،،، آپ لندن میں عمران فاروق قتل کیس دیکھ لیں،، پہلے برطانوی پولیس (ریاست) مدعی بنی ،،، پھر پاکستانی حکومت مدعی بنی اور یہیں سے ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ پاکستان میں بھی یہی قوانین لاگو ہیں، یعنی قتل ذاتی معاملہ نہیں، ریاست کا بھی معاملہ ہے، لیکن 1990سے جب سے دیت کے قانون کی منظوری ہوئی ہے،، تب اس کی اصل حالت بدل گئی ہے، حالانکہ اگر کوئی دیت کے قانون کے تحت قاتل کو معاف بھی کردے تب بھی ریاست قاتل کا پیچھا کرتی رہے،،، تاکہ وہ مزید خرابی نہ پیدا کر سکے۔
بہرحال اب سوال یہ ہے کہ کیا اُم رباب اس کیس کو ہار گئی؟ نہیں یقینا ایسا نہیں ہوا،،، وہ اس کیس کو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے،،، اور ابھی سرداری نظام کے خلاف اپنے والد کا مشن جاری رکھنا چاہتی ہیں، جس کے لیے وہ گزشتہ 8سال سے انسداد دہشت گردی سے لے کر سپریم کورٹ تک کے دروازے کھٹکٹارہی ہیں۔ ان کا مطالبہ صرف تین الفاظ پر مشتمل ہے ’مجھے انصاف چاہیے‘۔ میرے خیال میں اس پر میرے خیال میں نوجوان بلاول زرداری کو بھی ایکشن لینا چاہیے اور مثال قائم کرنی چاہیے کہ وہ انصاف کرنے والے ہیں، اور پھر یہی نہیں اُم رباب کے خاندان کا تعلق بھی پیپلزپارٹی ہی سے ہے۔ یعنی ام رباب کے دادا یونین کونسل بلیدائی تحصیل میھڑ کے چیئرمین تھے چچا، ضلع کاو¿نسل کے رکن تھے ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ام رباب کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے وہ بلاول بھٹو سے یہ سوال کرنا چاہتی ہیں کہ آپ جمہوریت میں اعتماد رکھتے ہیں تو پھر ہمیں کیوں سرداری نظام میں گھسیٹا جارہا ہے۔’مجھے پتہ ہے کہ میرے والد، دادا اور چچا تو واپس نہیں آسکتے، پر یہ جو سندھ میں جاگیردارانہ اور سرداری نظام ہے۔ یہ وڈیرے جو بدمعاشی کرتے ہیں میں ان کے خلاف کھڑی ہوئی ہوں تاکہ آج میرے ساتھ یہ ناانصافی ہوئی ہے کل کسی اور ام رباب کے ساتھ اتنی ناانصافی نہ ہو اس سرداری نظام کی آڑ میں۔ میں اس نظام کے خلاف کھڑی ہوئی ہوں۔‘
باتیں تو اُم رباب کی دل موہ لینے والی ہیں، اور یقینا سندھ میں کئی بہادر عورتوں نے جنم لیا جن میں اب ام رباب چانڈیو کا نام بھی لیا جائے گا۔لہٰذااُم رباب کیس میں بھی ریاست ایک ایسی انوسٹی گیشن ٹیم بنائے جو بغیر کسی دباﺅ کے قاتلوں کو تلاش کرے اور سز ادے ۔ ورنہ یہاں انصاف مکمل طور پر ناپید ہو جائے گا،،، اور غریب امیر کے درمیان خلاءمزید بڑھ جائے گا۔ جو پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، ،،آخر میں ہم سلام کرتے ہیں اُم رباب کو جس نے سسٹم میں رہ کر لڑائی جاری رکھی،،، اللہ اُس کو ہمت اور استقامت عطا فرمائے۔(آمین)

پچھلی پوسٹ

 اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور آزاد کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے  شدت 6.1 ریکارڈ

اگلی پوسٹ

پاکستان میں دہشتگردی پھیلانےکاگھناؤنا منصوبہ،افغان طالبان رجیم کامکروہ چہرہ بےنقاب

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان میں دہشتگردی پھیلانےکاگھناؤنا منصوبہ،افغان طالبان رجیم کامکروہ چہرہ بےنقاب

پاکستان میں دہشتگردی پھیلانےکاگھناؤنا منصوبہ،افغان طالبان رجیم کامکروہ چہرہ بےنقاب

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper