بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی رفقاء فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو طویل قید کی سزائیں سنانا بظاہر ایک عدالتی فیصلہ ہے، مگر درحقیقت یہ ایک پیچیدہ سیاسی و انسانی بیانیے کی بازگشت معلوم ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ محض تین خواتین کا مقدر طے نہیں کرتا بلکہ اس خطے کی اس المناک کہانی کا ایک اور باب کھولتا ہے جہاں انصاف، طاقت اور بیانیہ ایک دوسرے میں الجھ کر اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتے ہیں، اور خطے میں امن اماں کو تار تار کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔آسیہ اندرابی، جو دخترانِ ملت کی سربراہ ہیں، برسوں سے کشمیر کی سیاسی و سماجی فضا میں آزادی کے متحرک کردار کے طور پر موجود ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات اور الزامات اپنی جگہ، مگر ان کی سزا کا وقت اور انداز ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا یہ فیصلہ واقعی انصاف کی میزان پر تولا گیا، یا یہ ایک ایسے ریاستی بیانیے کا حصہ ہے جس میں اختلافِ رائے کو جرم میں ڈھال دیا جاتا ہے؟
کشمیر، جو دہائیوں سے ایک سلگتا ہوا سیاسی مسئلہ ہے، صرف جغرافیہ کا تنازع نہیں بلکہ شناخت، حقِ خودارادیت اور انسانی وقار کی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ان قراردادوں کی بازگشت تو سنائی دیتی ہے، ان پر عملدرآمد کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی ایک وجہ جموں و کشمیر کے عوام کی ناقص پالیسیاں اور سفارت کاری پر عدم توجہ ہے تاہم خود کشمیری کو یہ سوچنا ہو گا کہ سری نگر میں مدت تک جس جھنڈے کو وہ فخر سے بلند کرتے رہے، جس کی پاداشت میں انہیں سزائے موت ملتی رہی اس کا کچھ فائدہ بھی ہوا یا آزادی کے لیے ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے۔۔
اس تناظر میں آسیہ اندرابی کا مقدمہ ایک علامتی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہیں، نوجوانوں کو اُکساتی رہیں، اور لال چوک سری نگر میں پاکستان کا پرچم لہرانے جیسے اقدامات کرتی رہیں۔ مگر سوال یہ نہیں کہ الزامات کیا ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان الزامات کی بنیاد پر دی گئی سزا ایک شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ عدالتی عمل کا نتیجہ ہے؟ اور ان کی پشت پر کوئی طاقت ہے جو ان کے اس مقدمے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائے؟بھارت میں انسدادِ دہشت گردی کا قانون یو اے پی اے ایک عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس قانون کے تحت کسی فرد کو جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی طویل عرصے تک قید میں رکھا جا سکتا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ کشمیر میں اس قانون کا استعمال اس تاثر کو مزید گہرا کرتا ہے کہ یہاں قانون محض ایک آلہ ہے، جس کے ذریعے بیانیہ کو تقویت دی جاتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی کشمیری رہنما کو ایسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ یاسین ملک، خرم پرویز، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور قاسم فکتو جیسے کئی نام اس فہرست میں شامل ہیں جو اس خطے میں اختلافِ رائے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ نام محض افراد نہیں بلکہ ایک اجتماعی کہانی کے کردار ہیں، جہاں آواز اٹھانا خود ایک جرم بن چکا ہے۔بھارتی حکومت کا مؤقف اپنی جگہ واضح ہے: قومی سلامتی کا تحفظ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سلامتی کے نام پر آزادیٔ اظہار، منصفانہ ٹرائل اور سیاسی سرگرمیوں کے بنیادی حقوق کو محدود کیا جا سکتا ہے؟ جمہوریت کی اصل روح تو اسی میں ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے، نہ کہ اسے دبایا جائے۔اس پوری صورتحال میں ایک اہم پہلو کشمیری خواتین کا کردار بھی ہے۔ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کا کیس اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کشمیر کی خواتین بھی آزادی کی جدوجہد کا ایک فعال حصہ ہیں، اور انہیں بھی اسی شدت کے ساتھ ریاستی ردعمل کا سامنا ہے۔ یہ پہلو عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، کیونکہ خواتین کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت خصوصی توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں۔
بدقسمتی سے عالمی برادری کی توجہ اکثر دیگر بحرانوں کی جانب مرکوز رہتی ہے، جس کے باعث کشمیر جیسے دیرینہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا بھی اس مسئلے کو وہ اہمیت نہیں دے پاتا جس کا یہ مستحق ہے۔ نتیجتاً، ایک ایسا بیانیہ پروان چڑھتا ہے جس میں خاموشی کو رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خود کشمیری قیادت کا فقدان اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی ترجیحات کی تبدیلی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے توجہ کو کمزور کر دیا ہے۔ وہ رشتہ، جو کبھی جذبات، قربانی اور یکجہتی سے جڑا تھا، اب محض رسمی بیانات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ تلخ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف سکیورٹی کے نقطہ نظر سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، اور اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا۔ مکالمہ، اعتماد سازی اور کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی حل پائیدار نہیں ہو سکتا۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر دلوں میں ابلتے سوالات کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتی۔میڈیا کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ اگر میڈیا آزاد، غیر جانبدار اور ذمہ دار ہو تو وہ نہ صرف حقائق کو سامنے لائے بلکہ عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑے۔ مگر جب میڈیا خود دباؤ کا شکار ہو تو سچائی بھی پردۂ اخفا میں چلی جاتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو سنائی گئی سزائیں محض عدالتی فیصلے نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ فیصلہ اس بحث کو مزید گہرا کرے گا کہ کیا کشمیر میں انصاف واقعی موجود ہے یا وہ محض ایک تصور بن کر رہ گیا ہے۔
اگر عالمی برادری نے اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو یہ تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی خواہشات کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ کشمیر کا مسئلہ بھی اسی اصول کا مظہر ہے۔ یہ محض زمین کا تنازع نہیں بلکہ انسانوں کے حق، وقار اور شناخت کی جنگ ہے۔اب وقت آ چکا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی، دیانتداری اور انصاف کے اصولوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ بصورت دیگر، ایسے فیصلے نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی ضمیر پر بھی ایک مستقل سوالیہ نشان بنے رہیں گے۔
