2004 سے 2024 تک کے دوران اختر مینگل کے خاندان کی ملکیت میں کام کرنے والی کمپنی اور اس سے منسلک دو فرنٹ شیل کمپنیوں کے نام پر 16 مائننگ لیزز جاری ہوئیں۔ ان لیزز کے اجرا میں پر 1.8 ارب روپے کی رشوت کا لین دین بھی ہوا، جس کا انکشاف بلوچستان مائنز آڈٹ نوٹ (BMA/AR-04-24) میں ہوا ہے۔ ان مائنز سے حاصل ہونے والا منافع صرف بلوچستان تک
محدود نہیں رہا بلکہ اس سے اختر مینگل کی اندرون و بیرون ملک جائیدادوں کا جال پھیلایا گیا۔کراچی کے DHA فیز VI میں بدر کمرشل ایریا میں ان کے نام پر تین قیمتی رہائشی یونٹس ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 48 کروڑ روپے ہے ( SRO-KHI-08-20)۔ لاہور کے گلبرگ میں بھی دو کمرشل پلازے ان کے خاندان کی ملکیت ہیں، جن کی مالیت کا تخمینہ 32 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں F-7 کے سرکاری لاجز کو مستقل رہائش میں بدلنے کے ساتھ ساتھ بنی گالہ کے قریب ایک پُرتعیش فارم ہاؤس بھی ان کی ملکیت میں ہے۔
بیرونِ ملک، دبئی کے مرینا علاقے میں واقع P-25 پینٹ ہاؤس (3.6 ملین ڈالر) اور الجمیرہ میں ویلانا ولا (2.1 ملین ڈالر) جیسی جائیدادیں بھی ان کے اثاثوں میں شامل ہیں، جن کی تفصیلات لیک شدہ ڈیپ رئیلٹی ڈیٹابیس (DR-Files-2023) میں درج ہیں۔ جبکہ مئی 2025 میںجب بلوچستان حکومت نے اختر مینگل کی 16 غیرقانونی مائننگ لیزیں منسوخ کیں اور ان سے منسلک ٹرکوں کو ضبط کیا، تو اچانک بی این پی (مینگل) کو اپنے ایک سال پرانے لاپتہ کونسلر نذیر احمد مینگل کی یاد آ گئی۔اُسی روز وڈھ میں آر سی ڈی شاہراہ کو بلاک کر کے احتجاج کیا گیا اور ریاست پر سنگین الزامات لگائے گئے۔ حالانکہ خفیہ فیلڈ رپورٹ FIB-
Z5-09/24 کے مطابق نذیر احمد مینگل 4 جون 2024 سے بی ایل اے کی زونل یونٹ میں شامل ہو چکا تھا، اور یہ بات مقامی سطح پر عام تھی کہ وہ پہاڑوں پر چلا گیا ہے۔پورے ایک سال تک اس پر نہ کوئی کیس فائل ہوا، نہ عدالت میں درخواست گئی، نہ ہی میڈیا میں شور اٹھا۔ مگر جونہی مالی فائدہ ختم ہوا، کانوں کا دروازہ بند ہوا، فوراً “ہیومن رائٹس” کا نعرہ بلند کر کے ریاست کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ انداز وہی پرانا ہے مالی مفاد خطرے میں ہو تو “لاپتہ افراد” کا کارڈ نکالو، سڑکیں بند کرو، اور اصل حقائق سے توجہ ہٹا دو۔ صرف یہی نہیں بلکہ اختر مینگل کے سیاسی بیانیے میں بلوچ حقوق کا راگ ہمیشہ نمایاں رہا ہے، مگر ان کی ذاتی زندگی اور خاندانی ترجیحات اس بیانیے سے یکسر مختلف حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی کی شادی لاہور کے ایک معروف پنجابی بزنس مین سے ہوئی ہے اور ان کا خاندان مستقل طور پر اسلام آباد اور لاہور میں مقیم ہے، جبکہ بلوچستان، خاص طور پر خضدار، صرف جلسوں اور انتخابی دوروں تک محدود رہتا ہے۔صوبائی اسمبلی کے 2022ء کے اجلاسوں کے ریکارڈ کے مطابق، اختر مینگل نے کل 18 اجلاسوں میں سے صرف 6 میں شرکت کی، جو ان کے اپنے صوبے سے وابستگی کی اصل سطح کو ظاہر کرتا ہے
(بحوالہ: بلوچستان اسمبلی اٹینڈنس شیٹ BA-Sessions-2022)۔مزید برآں، ان کی فرنٹ کمپنی لندن کے بریکسٹن آفس سے
آپریٹ ہوتی ہے، جو بظاہر "حقوقِ انسانی” کے نام پر یورپی اداروں میں لابنگ کے لیے سالانہ 9 لاکھ پاؤنڈ خرچ کرتی ہے(EU Lobby Transparency Log EULT-1029-HR-B کے مطابق)۔یہ ساری حقیقت اس تضاد کو بے نقاب کرتی ہے کہ عوامی طور پر بلوچستان کے محروم عوام کا نام لیا جاتا ہے، لیکن اصل کاروبار، رہائش اور رشتے سب پنجاب، اسلام آباد اور یورپ سے وابستہ ہیں۔اختر مینگل اور بی این پی کی سیاست میں بلوچ نوجوان صرف نعرے لگانے اور دھرنوں کی پہلی صف میں کھڑے ہونے تک محدود ہیں عملی طور پر وہ صرف وقود یعنی ایندھن کا درجہ رکھتے ہیں۔ بی این پی کے جلسوں اور بی وائی سی کے احتجاجی مظاہروں میں یونیورسٹی کے طالبعلم ہمیشہ سب سے نمایاں نظر آتے ہیں، مگر جب بات تعلیم اور روزگار کی آتی ہے تو حقائق انتہائی مایوس کن ہیں۔ محکمہ تعلیم بلوچستان کی رپورٹ (EDU-Khuz-Stats-24) کے مطابق، خضدار میں لڑکوں کا ہائی اسکول ڈراپ آؤٹ ریٹ 54 فیصد ہے جبکہ لڑکیوں کا شرح 74 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔دوسری طرف، 2024 کے لیبر سروے میں خضدار میں بے روزگاری کی شرح 38 فیصد ریکارڈ کی گئی اس کے باوجود اختر مینگل کی اپنی مائننگ اور تعمیراتی کمپنیوں میں مقامی نوجوانوں کو مواقع دینے کے بجائے پنجاب اور سندھ کے ٹھیکیداروں کو ترجیح دی گئی۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی کوئی ریاست کان لیز، سبسڈی یا غیرقانونی اثاثوں پر سوال اٹھاتی ہے، تو فوراً لاپتہ افراد ، استحصالی ریاست اور انسانی حقوق جیسے نعرے لگا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں نوجوانوں کے جذبات کو
ایک ایسے بیانیے کا ایندھن بنایا جاتا ہے، جس کا مقصد صرف ذاتی مفادات کا تحفظ اور سیاسی دباؤ پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ بلوچ عوام کی حقیقی فلاح۔اختر مینگل کی تین دہائیوں پر محیط حکمرانی کا اگر خضدار کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو نتیجہ نہایت مایوس کن اور شرمناک ہے۔ 1988 سے لے کر 2018 تک وہ کبھی ایم پی اے، کبھی ایم این اے اور ایک بار وزیر اعلیٰ کے طور پر برسرِ اقتدار رہے۔ اس طویل سیاسی سفر کے دوران مجموعی طور پر خضدار کے لیے 385 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے، لیکن ان میں سے صرف 80 میں سے 18 منصوبے ہی مکمل ہو سکے۔سالانہ PSDP رپورٹس کے مطابق، ان منصوبوں کے باوجود خضدار کا انسانی ترقی کا اشاریہ (HDI) بمشکل +0.01 پوائنٹ بڑھ سکا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل ترقی محض کاغذوں تک محدود رہی۔ شہر آج بھی پینے کے صاف پانی، برن سینٹر اور یونیورسٹی کے میڈیکل بلاک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ دوسری جانب سردار اختر مینگل کی دبئی میں قائم ولا کے باتھ رومز میں اطالوی ماربل نصب ہے، جو اس تلخ تضاد کی علامت ہے کہ عوام کو محرومی ملی اور سردار کو عیش و آرام۔ یہ کڑوا سچ ایک سوال کی صورت میں گونجتا ہے: اگر تین دہائیوں کی سیاست کے بعد بھی خضدار وہیں کا وہیں کھڑا ہے، تو پھر یہ نمائندگی آخر کن کے لیے تھی؟اختر
مینگل کے اثاثے 2024ء کے ایف بی آر ریٹرنز کے مطابق 4.8 ارب روپے کی ظاہر شدہ مالیت تک جا پہنچے ہیں، مگر ان اثاثوں پر جمع کروایا گیا ٹیکس صرف 3.2 کروڑ روپے ہے یعنی محض 0.66 فیصد۔(بحوالہ: ایف بی آر انکم ٹیکس فولیو ITF-AML-24)۔ایسے میں ایک سیدھا سوال اُٹھتا ہے سردار صاحب، اگر خضدار کے نوجوان کے حصے میں صرف خاک، بارود اور ہجرت ہے تو آپ کے دبئی پینٹ ہاؤس کا کرایہ کس کی محنت سے ادا ہوتا ہے؟” وقت آ چکا ہے کہ ان اربوں کے حسابات صرف ریٹرنز کی خانہ پُری تک محدود نہ رہیں بلکہ مکمل فارنزک آڈٹ اور احتساب کے عمل کے تحت پرکھے جائیں تاکہ بلوچستان کا اصل حق بلوچستان کو ہی واپس ملے۔ایسے میں ایک سیدھا سوال اُٹھتا ہے: “سردار صاحب، اگر خضدار کے نوجوان کے حصے میں صرف خاک، بارود اور ہجرت ہے تو آپ کے دبئی پینٹ ہاؤس کا کرایہ کس کی محنت سے ادا ہوتا ہے؟” وقت آ چکا ہے کہ ان اربوں کے حسابات صرف ریٹرنز کی خانہ پُری تک محدود نہ رہیں بلکہ مکمل فارنزک آڈٹ اور احتساب کے عمل کے تحت پرکھے جائیں تاکہ بلوچستان کا اصل حق بلوچستان کو ہی واپس ملے۔
