“آپ چاہے کسی کو کتنا بھی مخلص ہو کر کیوں نہ چاہ لیں، آپ کسی کو خود سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے “
نجانے کتنا وقت لگا مجھے یہ بات خود کو سمجھاتے ہوئے ۔
ایک وقت تھا کہ میں لوگوں پر بےپناہ محبت لٹاتے ہوئے اتنا پاگل ہو جاتی کہ اپنا کشکول تک بھی خالی کر دیا کرتی تھی۔
میں ہمیشہ یہی سوچتی کہ “میری خیر ہے ، اگلا خوش رہے ،کیوں کہ میری خوشی اسی کے خوش رہنے ہی میں تو ہے “ ۔
اپنوں ہی نے مجھے بے عزت کردینا ، دھوکا دے دینا ، جھوٹ بولنا ، بار بار میری محبت کو میری کمزوری سمجھنا شروع کر دینا تو میں نے بھی جواباً خود کو ہی الزام دینا شروع دینا اور سوچنا کہ ہاں مجھ میں ہی کوئی کمی ہو گی۔ مجھے ہی سیکھنا ہوگا کہ کیسے اتنا قابل بننا ہے کہ لوگ مجھے پسند کریں ۔ کم از کم وہ تو میرے بن جائیں جن کو میں حد سے زیادہ چاہتی ہوں ۔
لیکن زندگی کی تقریباً تین دھائیاں گزر جانے کے بعد بھی میں لوگوں کو اتنا بھی خوش نہیں کر سکی کہ وہ مجھ سے تعلق میں ایماندار ہی ہو سکتے ، محبت تو چلو ایک الگ داستان تھی اور محض داستان ہی رہی ۔
اور پھر بالآخر میں نے نئے سرے سے سوچنا شروع کیا
اور پھر سمجھ آیا کہ محبت تو وردان ہے جو من و سلوئ کی طرح آسمانوں سے اترتی ہے۔۔تعلق داریاں تو قسمت سے ملا کرتی ہیں ، مخلصی تو ظرف والوں سے ملتی ہے یہ سب جزبے تو تو آسمانی صحیفوں کی طرح ہوتے ہیں جو ہر دل پر نہیں اترتے بس کچھ خاص دلوں پر ہی نازل ہوا کرتے ہیں۔۔ اور اس لیئے ان کی توقع ہرکسی سے رکھنی بھی نہیں چاہیئے۔۔
لوگ آپ کے جذبات کے بدلے وہی جذبات آپ کو واپس لٹاتے ہیں جو
کچھ ان کے اندر موجود ہوتے ہیں ۔۔
اور پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں خود اپنی دوست بن جاؤں ۔ !!
کیوں نہ زیادہ عزت اور توجہ ان لوگوں کو دینا شروع کروں جو مجھے
چاہتے ہیں by default
اب میں نے لوگوں کو سننا چھوڑ دیا ہے کیوں کہ میں نے دیکھا ہے
لوگ وہی کرتے ہیں ، جو وہ کرنا چاہتے ہیں ،وہی سنتے ہیں جو سننا چاہتے ہیں ،اسلئے مجھے جب کوئی کہے کہ دنیا رکھنی پڑتی ہے ۔لوگوں کو اپنا بنانا پڑتا ہے ۔ میں صرف مسکرا دیتی ہوں کیونکہ میں اس سب سے بہت آگے بڑھ چکی ہوں ۔
لوگوں کی اتنا سننا کہ خود کو بھول جانا اور مینٹلی ان سٹیبل ہو جانا۔یہ لوگوں کو اپنا بنانے کے لئے بہت بڑی قیمت تھی۔ کیا اپنا آپ کسی کو سونپ دینا کہ وہ اپنے مطابق ہمیں ڈھال لیں کم تھا ؟
جو کہ میرے تجربات نے بتایا کہ
جو لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں ان کو کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی بھی وجہ کے بنا ہی محبت کرتے ہیں۔۔جو آپ کے ساتھ مخلص ہیں وہ آپ کا نمک کھائے بنا بھی آپ سے مخلص ہی رہیں گے ۔
جو آپ کے ساتھ چلنا چاہتے آپ وہ آپ کے ساتھ ہر حال میں چلتے رہیں گے۔۔اور جو نہیں چلنا چاہتے ان کو آپ کا ساتھ چھوڑنے کے لیئے بس اک ذرا سے بہانے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ جو لوگ اعلی ظرف رکھتے ہوں گے وہ آپ کی مسکراہٹوں کے تبادلے کو بھی احسان اور نیکی کے زمرے میں رکھیں گے اور کم ظرف گھٹیا لوگ آپ کے بڑے سے بڑے احسان اور نیکی میں بھی کوئی نہ کوئی شر ڈھونڈھ کر آپ کی نیکی کو برباد کر دیں گے۔ ویسے بھی کی گئی نیکیوں اور احسانات کا صلہ انسان تو دے بھی نہیں سکتے۔
اسکے باوجود
“ اگر آپکو صرف اسلئے یہ لگتا ہے کہ شیر آپکو کو نہیں کھائےگا کیوں کہ آپ شیر کو نہیں کھائیں گے توآپ سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہے ”
اسلئے اپنے بن جائیے- کم از کم سکھ میں تو رہیں گے ۔ اور لوگوں کو اپنی زندگی میں اتنا ہی آنے دیں جتنی آپکے اندر کا بچہ اجازت دیتا ہے کیوں کہ کچھ بھی آپ سے بڑھ کر نہیں ۔آپ ابھی مر جائیں کل کوئی دعا کرنے والا بھی بمشکل ہی ہوگا ۔
قصہ مختصر اپنا خیال رکھیں۔
لوگ اپنا خیال خود رکھ لیں گے!
لوگ تو کسی حال میں خوش نہیں ہونگے۔۔
!خوش رہیں اور خوش رہنے دیں۔۔
