• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

برین ڈرین اور برین گین، پاکستان میں تناسب فرق اور قومی مستقبل

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 29, 2026
in کالمز
0
برین ڈرین اور برین گین، پاکستان میں تناسب فرق اور قومی مستقبل
0
SHARES
15
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان اس وقت جن خاموش مگر گہرے بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان میں Brain Drain سرِ فہرست ہے جبکہ Brain gain ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کا ذ کر تو پا لیسی دستاویزات میں ملتا ہے مگر عملی حقیقت میں اس کے آثار کم دکھائی دیتے
ہیں، سوال یہ نہیں کہ Brain Drain کیا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں برین ڈرین اور برین گین کا تناسب ratio کیا ہے، ان کے درمیان فرق Difference کیا ہے اور یہ فرق قومی ترقی کے راستے میں کس طرح رکاوٹ بن رہا ہے، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ برین ڈرین کسی ملک کے تعلیم یافتہ ہنر مند اور تجربہ کارافرادکا بہتر مواقع ، ذیادہ تنخواہوں، تحقیقی سہولتوں، سیاسی استحکام اور باعزت طرز زندگی کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے، پاکستان میں ڈاکٹرز ، انجینئرز آئی ٹی ایکپرٹس ، اساتذہ ، سائینسدان اور دیگر پروفیشنلد کی بڑی تعداد ہر سال ملک چھوڑ دیتی ہے، یہ ہجرت محض ذاتی فیصلہ نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ قو می نقصان میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ ریاست ان افراد کی تعلیم وتربیت پر وسائل خرچ کرتی ہے، نگر فائدہ کسی اور معیشیت کو ملتا ہے، اسی طرح برین گین میں ہم بیرون ملک مقیم ہنرمند پاکستانی واپس آکر ملک کی خدمت کریں، غیر ملکی ماہرین پاکستان میں آکر علم اور ٹیکنالوجی منتقل کریں اور سیز پاکستانی ریموٹ ورک ،سرمایہ کاری اور تحقیق کے ذریعے ملکی معیشیت میں حصہ ڈالیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں برین گین کا تصور ز یا دہ تر تقریروں اور سیمنارز تک محدوداسی لیے غیر سر کاری اندازوں اور ادارہ جاتی رپورٹس کے مطابق ہر سال لاکھوںتعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک جاتے ہیں، اور اُن میں سے واپسی اختیار کرنے والوں کی شرح نہایت کم ہے، یوں برین ڈرین کا تناسب برین گین کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، یہ عدم توازن ہی اصل مسئلہ ہے ،اگر 10 لوگ قابل ملک چھوڑ رہے ہوں اور ایک بھی واپس نہ آرہا ہوتو یہ صرف انسانی سرمائے کا نقصان نہیں بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی ناکامی ہے، اس کی وجوہات اگر دیکھیں تو بار بار حکومتوں کی تبدیلی ، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہوتا اور غیر یقینی صورت حال ذہین افراد کو بد دل کرتی ہے، مہنگائی کم تخوا ہیں، ٹیکس کا غیر منصفانہ نظام اور روز گار کا فقدان با صلاحیت افراد کو باہر جانے پر مجبور کرتا ہے، یونیورسٹیز اور ریسرچ اداروں میں فنڈ نگ ،سہولتوں اور میرٹ کی کمی ذہین دماغوں کا دم گھونٹ دیتی ہے، سفارش اقربا پروری اور بیوروکریٹک رکاوٹیں قابل لوگوں کو مایوس کرتی ہیں، استاد، محقق اور ڈاکٹر کی وہ عزت اور سہولت موجود نہیں جو دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہے، برین گین میں کچھ رکاوٹیں ہیں، جس میںواپسی پر روزگار کے واضح مواقع نہ ہونا، بیرون ملک تجربے کو تسلیم نہ کرنا تحقیق وانو ویشن کے لیے سازگار ماحول کی کمی بیوروکریسی کی سختیاں اور عدم تحفظ کا احساس یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانی وطن سے جذباتی وابستگی تو رکھتے ہیں مگر عملی طور پر واپسی سے گریز کرتے ہیں ، اسی طرح برین ڈرین کے اثرات سے صحت اور تعلیم جیسے شعبے شدید متاثر ہوتے ہیں، اس سے قومی اداروں میں جسارت کا فقدان ساتھ ہی پالیسی سازی میں کمزور فیصلے اور پھر بیرونی انحصار میں اضافہ ساتھ ہی معشیت کی طویل مدتی کمزوری جیسے اثرات سے واسطہ پڑ سکتا ہے یوں کہا جاتے ہیں کہ یہ ایک ایساز خم ہے جو نظر نہیں آتا مگر ریاست کی
رگوں میں خاموشی سے زہر گھولتا ہے، برین ڈرین مکمل طور پر نقصان نہیں اگر ریاست ان سے علم و تجر بہ واپس لے ان کی شمولیت کو آسان بنائے کیونکہ اور سیز پاکستانی زر مبادلہ بھیجتے ہیں اور ان کے پاس عالمی تجر بہ اور نیٹ ورکنگ موجود ہوتی ہے، کیونکہ قو میں صرف ترسیلا مدرسے نہیں بنا کرتیں بہترین حل یہ ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل ہو تعلیم تحقیق اور روزگار سے متعلق پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں سے آزاد کیا جائے ، ساتھ میں یونیورسٹیز کو ڈگری فیکٹری نہیں تحقیق مراکز بنایا جائے ، بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے واپسی یاریموٹ شمولیت میں صرف قابلیت کو معیار بنایا جائے ،اساتذہ ،سائینسدان اور ماہرین کو سماجی و ادارہ جاتی احترام دیا جائے، پاکستان میں اصل بحران یہ نہیں کہ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں ، اصل بحران یہ ہے کہ ریاست ان کے جانے کی وجوہات ختم کرنے کی کوشش تیز کرے، اور برین ڈرین اور مرین گین کے درمیان فرق جتنا بڑھے گا قومی ترقی اتنی ہی سست ہوتی جائے گی، اور قو میں عمارتوں سے نہیں ذہین و مانوں سے بنتی ہیں، اگر پاکستان اپنے دماغوں کو روکے رکھے اور باہر گئے لوگوں کو واپس جوڑے تو یہی برین ڈرین ایک دن برین گین میں بدل جائے گا، ورنہ تاریخ ہمیں ایسے الفاظ میں یا در کھے گی جوڑ مین تھے مگر اپنے ذہین لوگوں کو سنبھال کر ملکی ترقی میں حصہ بنا سکے۔

پچھلی پوسٹ

نجمہ عثمان اردو الفاظ پر مکمل دسترس رکھتی ہیں، سحرانصاری

اگلی پوسٹ

لائبہ خان کے نکاح کی تصاویر و ویڈیوز وائرل، دولہا کا چہرہ چھپا دیا گیا

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
لائبہ خان کے نکاح کی تصاویر و ویڈیوز وائرل، دولہا کا چہرہ چھپا دیا گیا

لائبہ خان کے نکاح کی تصاویر و ویڈیوز وائرل، دولہا کا چہرہ چھپا دیا گیا

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper