کسی بھی قوم کو غلام بنانے کے تین طریقے ہیں ۔ سب سے پرانا طریقہ جنگ ہے ۔ ا س طریقہ میں ایک قباحت یہ ہے کہ طریقہ دیرپا نہیں ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ناکام ہوجاتا ہے ۔ لوگ اپنے آقاؤں سے نفرت کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی طوق غلامی گلے سے اتار پھینکتے ہیں ۔ ایسی حکمرانی میں فوجی اخراجات زیادہ ہوتے ہیں جو قابض ٹولہ کےلیے زیادہ منافع بخش ثابت نہیں ہوتا ۔ غلام بنانے کا دوسرا طریقہ مذہبی ہے ۔ اس میں لوگوں کو قائل کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنے پیر یا مذہبی رہنما کی خوشنودی کے لیے اُس کی نذر کرے ۔ اس طریقہ میں کوئی فوجی اخراجات نہیں ہوتے اور رنگ چوکھا آتا ہے ۔ مگر اس طریقہ میں خرابی یہ ہے کہ کوئی فوجی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک سکتی ہے یا کوئی بھی مصلح لوگوں کو مذہبی پیشوا یا پیر سے بدظن کرسکتا ہے ۔ غلام بنانے کا تیسرا او ر سب سے مؤثر ذریعہ معاشی حکمرانی ہے ۔ اس میں بظاہر کوئی زور زبردستی نہیں کی جاتی اور لوگوں کو غلامی کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔ اس میں بھتہ ٹیکس یا سود کی شکل میں لیا جاتا ہے اور لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے ۔ اس طریقہ غلامی میں غلام فرد اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے اور اس کے آقا اس کے محافظ کا روپ دھار لیتے ہیں ۔ انہیں احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ الیکشن کے ذریعہ خود اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ انہیں اس امر کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا کہ انہیں غلام بنایا جاچکا ہے اور ان کے اپنے ہی لوگ ان سے دولت جمع کرکے اصل آقاؤں کے حوالے کررہے ہیں ۔ اس طریقہ کار میں بغیر جنگ کیے کسی بھی قوم کو غلام بنایا جاسکتا ہے ۔ اس میں کوئی بیرونی حملہ آور نہیں ہوتا ، بس اندرونی حملے ایجنٹوں کے ذریعہ کیے جاتے ہیں ۔
جان پرکنز نے Confessions of an Economic Hitman کے نام سے ایک کتاب 2004 میں لکھی تھی جس کا ترجمہ میرے سینئر ساتھی مرحوم صفوت قدوائی نے کیا تھا اور اردو زبان میں یہ کتاب "اقتصادی غارت گر” کے نام سے اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی نے شایع کی تھی ۔ اس کتاب میں جان پرکنز بتاتا ہے کہ عالمی سازش کار کس طرح سے قوموں کو غلام بناتے ہیں ۔ وہ بتاتا ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عالمی بینک بھی معاشی کرائے کے قاتلوں کا آلہ ہے ۔ ایک جگہ وہ لکھتا ہے کہ ” میرے کاموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ایسے ممالک کو تلاش کروں جہاں قدرتی وسائل موجود ہوں مثلاً تیل۔ اور پھر ان ممالک کے لیے عالمی بینک اور اس کی ساتھی کمپنیوں سے بڑے بڑے قرضوں کا بندوبست کروں۔ لیکن قرض کی یہ رقم کبھی ان ممالک تک نہیں پہنچتی تھی بلکہ یہ ہماری ہی دوسری کارپوریشنوں کو ادا کی جاتی تھی جو ان ممالک میں انفراسٹرکچر بنانے کا کام کرتی تھیں مثلاً پاور پلانٹ لگانا اور انڈسٹریل پارک بنانا۔ ساری رقم اور سود چند مٹھی بھر خاندانوں میں واپس چلی جاتی تھی جبکہ اس ملک کے عوام پر قرضوں کا ایسا انبار رہ جاتا تھا جو وہ کبھی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے موقعوں پر ہم پھر واپس آتے تھے اور کہتے تھے کہ چونکہ تم قرض ادا نہیں کر سکے ہو اس لیے تمھارا قرض "ری اسٹرکچر” کرنا پڑے گا۔ اب IMF کو گھسنے کا موقع ملتا تھا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) ان سے کہتا تھا کہ ہم تمھارا قرض ری اسٹرکچر کرنے میں تمھاری مدد کریں گے لیکن تمھیں اپنا تیل اور دوسرے ذخائر ہماری کمپنیوں کو کم قیمت پر بیچنا پڑے گا اور وہ بھی بغیر کسی پابندی کے۔ یا پھر وہ مطالبہ کرتے تھے کہ اپنے بجلی اور پانی کے ذرایع ہماری کارپوریشن کے کنٹرول میں دے دو یا ہمیں فوجی اڈا بنانے کی اجازت دی جائے یا ایسی ہی کوئی اور شرط۔ حتیٰ کہ وہ اسکولوں اور جیلوں تک کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کرتے تھے۔”
پوری دنیا میں کاغذی کرنسی جاری کرنے کا اختیار مرکزی بینکوں کے پاس ہے ۔ امریکا کے فیڈرل ریزرو بینک ، برطانیہ کے بینک آف انگلینڈ اور پاکستان کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت دنیا بھر میں سارے کے سارے مرکزی بینک نجی ملکیت میں ہیں ۔ ان کے شیئر ہولڈرز ہیں مگر ان کے ناموں کا کسی کو نہیں پتا ۔ یہ مرکزی بینک ہی بلا کسی محنت کے کاغذی کرنسی چھاپتے ہیں اور پھر حکومت کو قرض پر دیتے ہیں ۔ اسی طرح کرنسیوں کی شرح تبادلہ بھی بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ طے کرتا ہے ۔ اس شرح تبادلہ کا کسی بھی طرح سے کوئی تعلق حقیقی طلب و رسد سے نہیں ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ چین ، جاپان ، امریکا ، روس سمیت دنیا کا کون سا ملک ہے جو بھاری قرض تلے دبا ہوا نہیں ہے ۔سوال تو پیدا ہوتا ہے نا کہ جب سب ہی قرض تلے دبے ہوئے ہیں تو یہ قرض دینے والے کون ہیں ؟ جواب ڈھونڈنے نکلیں تو پتا چلتا ہے کہ ان سب حکومتوں نے یہ بھاری قرض بینکوں سے لیا ہوا ہے اور یہ سارے کے سارے بینک نجی ملکیت میں ہیں ۔ اگر ان بینکوں سے صرف اور صرف کرنسی چھاپنے کا اختیار لے لیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا سے جنگ ختم ہوگئی ہے ۔ یہ جنگیں ہی ہیں جو ملکوں کو قرضدار بناتی ہیں ۔ یہ بینک اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ ممالک کو جنگ میں دھکیل دیا جائے ۔ بینکوں کے اس کردار پر میں اپنی کتاب "جنگوں کے سوداگر ” میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں ۔
کاغذی کرنسی میں بات یہیں تک محدود تھی کہ حکومتیں ان بینکاروں کے قابو میں تھیں ۔ اس کا نقصان یہ ضرور تھا کہ ان بینکوں کے دباؤ میں آکر حکومتیں ٹیکسوں میں بے محابا اضافہ کرتی تھیں ، ہر طرح کی مالی اور اخلاقی کرپشن کی کھلی آزادی رہی مگر ایک چھوٹے دائرے کے اندر فرد اخراجات اپنی مرضی سے کرنے کے لیے آزاد تھا ۔ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کے لیے آزاد تھا ۔ اسے اپنی خانگی زندگی میں آزادی تھی کہ چاہے جب شادی کرے اور چاہے جتنے بچے پیدا کرے اور چاہے جو پیشہ اختیار کرے ۔ ڈیجیٹل کرنسی اس سے ایک قدم آگے کی چیز ہے جس میں فرد کی یہ محدود آزادی بھی سلب کرلی جائے گی ۔ کس طرح ؟ اس پر گفتگو آئندہ کالم میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

