• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

شاعر پھانسی پر جھول گیا لیکن شاعری آج بھی زندہ ہے سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے! کا خالق رام پرشاد بسمل 1927ء میں پھانسی پر جھول گیا!

تحریر:جاوید ملک

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 23, 2023
in پاکستان, کالمز
0
شاعر پھانسی پر جھول گیا لیکن شاعری آج بھی زندہ ہے سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے! کا خالق رام پرشاد بسمل 1927ء میں پھانسی پر جھول گیا!
0
SHARES
55
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 

برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے پھانسی کا پھندہ چوم لینے والے شہید بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی زباں پر نعرہ بن کر گونجنے والی نظم ” سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ” بھگت سنگھ اور اس کے انقلابی ارادوں کی طرح آج بھی زبان زد عام ہے لیکن اس نظم کو تحریر کرنے والے شاعر کے متعلق تحقیق دانوں میں مختلف آرا چلی آرہی ہیں تاہم تحقیق کرنے والوں کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ بسمل عظیم آبادی تخلص کرنے والے ایک شاعر نے یہ نظم تحریر کی تھی تاہم امجد سلیم علوی نے بسمل عظیم آبادی کے متعلق جب معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں تو حیرت انگیز واقعات پہلی دفعہ منظر عام پر آئے ۔یہ نظم پڑھنے والے بھگت سنگھ تو 23 مارچ 1931ء کو لاہور میں اپنے ساتھیوں سمیت پھانسیوں پر چڑھا دیئے گئے جبکہ اس نظم کے خالق جن کا اصل نام تو رام پرشاد بسمل شاہ جہان پوری تھا جو کے ایک انقلابی تھے اور یہی نظم انہیں بھگت سنگھ سے چار سال پہلے ہی تختہ دار پر پہنچا چکی تھی رام پرشاد بسمل 1897ء میں پیدا ہوئے اور 19 دسمبر1927ء کو پھانسی پر لٹکائے گئے اسی دن ان کے ساتھی اشفاق اللہ خاں اور دیگر انقلابیوں کو بھی پھانسی دی گئی ۔ممتا ز ناول نگار اور افسانہ نگار انتظار حسین کے نام تحریر کردہ اپنے ایک مکتوب میں امجد سلیم علوی نے بتایا ہے کہ رام پرشاد بسمل کی دیگر دو سو نظمیں اور نصری تحریریں موجود ہیں انہوں نے بھگت سنگھ کی پسندیدہ نظم کے وہ تمام اشعار بھی تحریر کر دیئے ہیں جو انہیں دستیاب ہوسکے دنیا اور پاکستان کے انقلابیوں کی دلچسپی کے لیے یہ نظم یہاں تحریر کی جارہی ہے ۔

 

سرفروشی کی تمنااب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
ایک سے کرتا نہیں کیوں دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہید ملک وملت میں تیرے اوپر نثار
اب تری اہمیت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
کھینچ کر لائی ہے سب کو قتل ہونے کی امید
عاشقوں کا آج جمگھٹ کوچہ ،قاتل میں ہے
سرجو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکار سے
اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے
جاں ہتھیلی پر لیے لو بڑھ چلے ہیں یہ قدم
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
شاعر پرشاد بسمل

 

 

پچھلی پوسٹ

’روٹی یا مدد مانگتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں ہمارے ساتھ سیکس کرو‘ شہزادی رائے

اگلی پوسٹ

اوئے روزہ بند کر دیو ۔۔!! دی لیجنڈز آف مولانا جٹ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
اوئے روزہ  بند کر دیو ۔۔!! دی لیجنڈز آف مولانا جٹ

اوئے روزہ بند کر دیو ۔۔!! دی لیجنڈز آف مولانا جٹ

Please login to join discussion

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper