• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home Uncategorized

نعیم ابرار نہیں رہا ۔

تحریر (اخلاق احمد)

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 26, 2023
in Uncategorized
0
نعیم ابرار نہیں رہا ۔
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

صحافی ، شاعر ، بلا کا مترجم ، پتھروں کے خواص جاننے کا آرزو مند ، ستاروں کے علم کا جویا ، اور برسوں سے گوشہ نشین اور بیمار ۔

ہم سب (مجھ سمیت ، ہم سب) کیسے حرام زادے ہیں ، یہ جاننے کے لئے نعیم ابرار کی زندگی کے آخری چند سال ہی کافی ہیں ۔ وہ اکیلا تھا ، تقریبا” معذور اور بیمار تھا ، تنگ دست تھا ، تلخ تھا ، اپنی ساری صلاحیت کے باوجود بے روزگار اور بے سہارا تھا ۔ گنتی کے چند لوگوں کے سوا ، جو اسے یاد رکھتے تھے ، باقی تو اسے کبھی کا دفن کر چکے تھے ۔

میں کل ہی دفتری کام کے لئے ملک سے باہر آیا تھا ، یہاں پہنچا تو نعیم ابرار کے رخصت ہونے کی خبر ملی ۔ خیر ، اگر ملک میں بھی ہوتا تو کیا کر لیتا ۔ یہ زندگی مصنوعی جذبات کی جگالی کے سوا کیا ہے؟ اور یہ تعلق کا ڈھکوسلا ، یہ فیس بکیانہ قربت ایک لا یعنی بکواس کے سوا کیا ہے؟

وہ روزنامہ جنگ کی نائٹ ڈیسک کا پرندہ تھا ، رفتہ رفتہ نیوز ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچ چکا تھا ۔ پھر تقدیر اسے میرے پاس ہفت روزہ اخبار جہاں لے آئی ۔ برسوں ہم ساتھ کام کرتے رہے ۔ میں ایڈیٹر تھا ، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ڈپٹی ایڈیٹر بن گیا ۔ انٹرویوز ، ترجمے ، سرخیاں ، معلوماتی مضامین ، ہر مشکل کام کرنے پر تیار ۔ اب یاد بھی نہیں کہ کتنے برس ہم ساتھ کام کرتے رہے ۔ لوگ صحافیوں کو طاقت ور اور دولت مند اور با اختیار سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر صحافی متوسط طبقے کے لوگ ہوتے ہیں ۔ گزارے لائق تنخواہ ، سخت اور طویل اوقات کار ، سماجی زندگی سے دوری ، اور پریشانیوں سے ہر وقت معرکہ آرائی ۔ نعیم ابرار بھی ایسا ہی تھا ۔ اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل اور تعلیم کے لئے فکر مند ،صحافیوں کے لئے مختص ہونے والے ہاکس بے کے پلاٹ پر گھر بنانے کا آرزو مند ۔

کچھ برس ادھر کی بات ہے ، میں نے صحافت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ بالکل اچانک ، کسی دفتری ساتھی کو بتائے بغیر ۔ دفتر سے رخصت ہونے کے دو گھنٹے بعد ہی نعیم ابرار کا فون آ گیا ۔ اس کی آواز میں پریشانی تھی ۔ اس نے فوری ملاقات پر اتنا اصرار کیا کہ میں رات کو اس سے ملنے چلا گیا ۔ انتظامیہ نے اسے نیا ایڈیٹر بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یہی اس کی پریشانی کی وجہ تھی ۔ بولا "یار اخلاق صاحب ، میں نہیں چل پاؤں گا ان کے ساتھ ۔ یہ آپ نے مجھے کس مشکل میں پھنسا دیا ہے؟” میں نے اسے سمجھایا کہ یہ پریشانی نہیں ہے ، سنہری موقع ہے ۔ لوگ ایڈیٹر کے منصب تک پہنچنے کے خواب دیکھتے دیکھتے ریٹائر ہو جاتے ہیں ۔ اس جگہ کامیاب ہو کر دکھاؤ ۔ میں نے اس کی اتنی ہمت بندھائی کہ وہ راضی ہو گیا ۔

شاید چھ ماہ بعد مجھے خبر ملی کہ اسے فارغ کر دیا گیا ہے ۔ اور وہ بھی اس طرح ، کہ میرے لئے آج بھی اسے بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔ نعیم ابرار کی زندگی اس کے بعد ایک رولر کوسٹر رائڈ بن گئی ۔ میں پوری ایمان داری سے سمجھتا ہوں کہ جسے ہم کامیابی کہتے ہیں وہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ اتفاقات اور قسمت کا کھیل بھی ہوتی ہے ۔ وہ کچھ دن بعد ایک دوسرے اخبار میں چلا گیا ۔ کچھ وقت گزرا تو اس نئے اخبار نے اسٹاف کی چھانٹی کا فیصلہ کر لیا ۔ وہ پھر کئی مہینے کے لئے بے روزگار ہو گیا ۔

ایسے کئی مراحل سے گزرنے کے بعد ایک وقت ایسا آیا کہ وہ میرے پاس آ گیا ، ایڈورٹائزنگ کے شعبہ میں ایک جگہ خالی تھی ۔ چند ماہ گزارنے کے بعد ایک دن بولا "یار اخلاق صاحب ، ایک ٹی وی چینل سے آفر آئی ہے۔” صاف لگتا تھا کہ مچھلی پانی کے بغیر بے قرار ہے ۔ مین اسٹریم کی صحافت والا صحافتی دنیا میں لوٹنا چاہتا ہے ۔ میں نے اسے نہیں روکا ۔ بعد میں پتا چلا ، وہ چینل کے سنسر ڈپارٹمنٹ میں گیا ہے ، وہ بھی کم تنخواہ پر ۔

زندگی ایسی سفاک ہے کہ فرصت نہیں دیتی ۔ مدتوں اس کی خبر نہیں ملی ۔ یہ پتا چلتا رہا کہ وہ پھر پریشان ہے ۔ ہمارا دوست خالد حمید خان لندن سے آیا تو اس سے جا کر ملا ۔ خالد کی زبانی ہی معلوم ہوا کہ حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ پھر ایک اور قیامت ٹوٹی ۔ نعیم ابرار کو اسٹروک ہو گیا ۔ کراچی پریس کلب کے الیکشن والے دن اس سے ملاقات ہوئی تو ایک آدمی اسے سہارا دے کر چلا رہا تھا ۔ اس کی گفتگو سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔ پھر کسی نے بتایا کہ اب اس کی بیوی اور بیٹی اس کے ساتھ نہیں رہتیں ۔ پھر وہ ایک معذوروں والی زندگی گزارنے لگا ۔ جو لوگ اس سے ملنے جاتے تھے ، صدمہ سمیٹ کر واپس آتے تھے ۔

کل وہ دنیا چھوڑ گیا ۔ ٹی وی چینلز پر سینئر صحافی نعیم ابرار کے انتقال کی خبریں ٹیلی کاسٹ ہوئیں جو یونین آف جرنلسٹس کا پرانا رکن تھا ، پریس کلب کا ممبر تھا ۔ بس اتنی ہی خبر تھی ۔ کسی نے پوری کہانی نہ سنائی ۔ پوری کہانی بھلا کون سناتا ہے؟ اور کون سننا چاہتا ہے؟
میں سوچتا ہوں ، میں کتنا بے حس ہوں کہ میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئے ۔ تھوڑی دیر کی اداسی کے سوا میرے دامن میں کیا ہے؟ نعیم ابرار چلا گیا ہے اور میں یہ سوچتا ہوں ، شاید ہم سب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا ۔ کچھ دلوں میں ذرا دیر کی اداسی ، اور پھر وہی روزمرہ کی مصروفیت ۔

پچھلی پوسٹ

فروری میں عوام میں جائیں گے، اب سڑکوں پر بات ہو گی، خالد مقبول

اگلی پوسٹ

قوم کو تقسیم کرنے والے ملک کے دشمن، کرپٹ حکومتیں برائی کی جڑ ہیں۔ سراج الحق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کو آزاد کرکے مارکیٹ فورسز پر چھوڑنے کے فیصلے کے  نتیجے میں ڈالر کی قدر اضافہ ہوگیا۔

قوم کو تقسیم کرنے والے ملک کے دشمن، کرپٹ حکومتیں برائی کی جڑ ہیں۔ سراج الحق

Please login to join discussion

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper