کراچی ( نمائندہ خصوصی ) وزارت آئی ٹی نے وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں میں پولیس کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کردیا ہے۔وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کہا ہے کہ اسلام آباد ،صوبائی دارالحکومتوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرمیں پولیس نظام کو کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے جبکہ 15 لاکھ سے زائد مجرموں کے کوائف اور 65 لاکھ سے زائد جرائمزپرمبنی پہلےنیشنل کرائم ڈیٹا بیس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ صوبوں کی خواہش پر پنجاب آئی ٹی بورڈ کو فنڈ کردہ کرائم اینالیٹکس اینڈ اسمارٹ پولیسنگ سسٹم کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھایا جائے گا۔ انھوں نے یہ بات جمعہ کو وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اسمارٹ پولیسنگ پربین الصوبائی کانفرنس کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہی۔ تقریب میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کے ڈی آئی جیز ، ہیڈ آف پولیس آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ،ڈائریکٹر نینشنل پولیس بیورو،وزارت آئی ٹی کے حکام اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے عہدیداران نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد وفاقی وزارت آئی ٹی کے پائلٹ پروگرام کی کامیابی اور اس کی ملک گیر سطح پر توسیع سے متعلق امور میں اتفاق رائے سے تجاویز مرتب کرنا اور اسمارٹ پولیسنگ کے مثبت نتائج کو اجاگر کرنا تھا۔اپنے بیان میں وفاقی وزیر سید امین الحق کا کہنا تھا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن جہاں مختلف شعبوں اور ڈیپارٹمنٹس میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز تر کررہی ہے وہیں محکمہ پولیس کی اہم ذمہ داریوں اور مجرموں کے ریکارڈ کو "ایک کلک” پر کرنے کیلئےعملی اقدامات کیئے گئے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے وفاقی وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو فنڈنگ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت، ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں "کرائم اینالیٹکس اینڈ اسمارٹ پولیسنگ” کے نام سے ایک اہم ترین پائلٹ پروگرام کا آ?غاز کیا۔ اوران شہروں کے مجموعی طور پر 184 پولیس تھانوں کو کرائم اینالیٹکس کے لحاظ سے ڈیجیٹلائزڈ کیا گیا۔
ان میں اسلام آباد کے 23، کوئٹہ کے 26، مظفرآباد کے 10، گلگت کے 11 اور کراچی کے 114 تھانوں میں اس ڈیجیٹل سسٹم نافذ کیا جاچکا ہے۔ امین الحق نے کہا کہ اسمارٹ پولیسنگ کے پائلٹ پروگرام میں شامل مختلف ماڈیولز کے تحت اب تک اہم شہروں کے پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے تھانوں میں موجود 25 مختلف اقسام کے رجسٹرز کو آٹومیٹ کیا گیا اور اب تک ایک لاکھ 69 ہزار 377 ایف آئی آرز اس سسٹمز کے تحت رجسٹرڈ کی گئیں۔ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے تحت پولیس افسران و اہلکاروں کی ٹرانسفرز پوسٹنگز، ان کی چھٹیوں سمیت ہیومن ریسورسز کے تمام امور اور آرڈر جنریشن کو آٹو میٹ کیا گیا۔ اب تک اس ضمن میں ایک لاکھ 74 ہزار 23 سروس رولز اور 16 ہزار 131 آرڈر جنریشن کے عمل کو آٹومیٹ کیا جاچکا ہے۔کمپلینٹس مینجمنٹ سسٹمز کے ذریعے پولیس تھانوں میں عوامی شکایات کا کمپیوٹرائزڈ اندراج متعارف کرایا گیا ہے۔ جس میں اب تک 8 لاکھ 95 ہزار 899 عوامی شکایات درج کرائی جاچکی ہیں۔کرمنل ریکارڈ آفس میں مجرموں کی شناخت اور ان کے جرائم کے ریکارڈ کا اندراج کیا گیا ہے، اس میں بائیومیٹرک سسٹم، جسمانی ساخت، سابقہ کرمنل ریکارڈ وغیرہ سمیت مجرموں سے متعلق دیگر معلومات کا ڈیٹا بنایا گیا ہے۔کرائم اینالیٹکس اینڈ اسمارٹ پولیسنگ” کے اہم نتائج کے حوالے سے وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ نہ صرف صوبے ایک دوسرے سے ڈیٹا شیئرنگ کرکے مجرموں کا سراغ لگا سکتے ہیں بلکہ کسی شہری کو کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کے اجرائ سے قبل یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کہیں اس کا کوئی کرمنل ریکارڈ تو نہیں ہے۔ اس سسٹم کے تحت اب تک 5 لاکھ 24 ہزار 30 مجرموں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔ جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح ہوٹلز میں چیک ان ، چیک آو¿ٹ اور کرایہ داروں کے کوائف کے اندراج کا ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔ن تمام سسٹمز کے ساتھ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ان شہروں کے تھانوں کو کمپیوٹر سمیت دیگر ضروری ہارڈویئرز فراہم کردیئے ہیں۔ سسٹم کے تحت تمام صوبوں کو ایک سنگل پلیٹ فارم کے ذریعے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔ جس سے بین الصوبائی روابط و ڈیٹا شیئرنگ کے عمل کو مستحکم و جدید تقاضوں کے مطابق کیا جاسکے گا۔ اس جدید نظام سے صوبوں کی پولیس نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے عمل کو تیز کرسکے گی بلکہ کرمنلز ڈیٹا مرتب ہونے سے جرائم میں نمایاں کمی بھی کی جاسکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ "کرائم اینالیٹکس اینڈ اسمارٹ پولیسنگ” کے قیام کا مقصد: 15 لاکھ سے زائد مجرموں کے کوائف اور 65 لاکھ سے زائد جرائمز کے ریکارڈ پرمبنی پہلے نیشنل کرائم ڈیٹا بیس کا قیام ، صوبائی سطح پر محکمہ پولیس میں ہم آہنگی و کرمنلز ریکارڈز تک بآسانی اور تیز ترین رسائی، کاغذی کارروائی کو کم سے کم کرتے ہوئے ای گورننس کے فروغ اورعوامی شکایات کے تیز تر ازالے سمیت دیگر امور میں جدت کے ساتھ نمایاں تبدیلیاں لانا ہیں۔ سید امین الحق نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے پولیس ڈیپارٹمنٹس کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کے اس عمل میں وزارت آئی ٹی کے پروگرام کو اپنائیں اور ہم ایک کرائم فری اسٹیٹ کا دیرینہ خواب پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں

