کچھ عرصہ پہلے سے میں نے لوگوں کے اندر ایک نئے رجحان کو جنم لیتے دیکھا ہے، کسی بھی دوسرے شخص کی جسمانی بو ، یا مواد ، یا تاثر کو لے کر گھن کا اظہار کرنا اور خود کو یوں ثابت کرنا گویا وہ صفائی
کے معاملات میں عقل کل ہیں اس لئے تمام لوگ ان کی نظر میں ہیچ ہیں اور وہ ان سے بات کرنا یا قریب آ نا پسند نہیں کرتے، اور یہ تاثر زیادہ تر خود سے مالی طور سے کمزور لوگوں کے لئے ہوتا ہے، حالیہ پنجاب میں ہونے والے کیس کو دیکھ
کر ہی کچھ سبق حاصل کرلیں جس میں امریکہ سے آ ئیے ہوئے ماں اور 3 بچے زہر خوانی کا شکار ہوکر دوسری دنیا کی جانب سفر کرگئے، ان کے بچے جنہیں والدین نے کس قدر ناز و نعم سے پالا ہوگا ، گھر کے واشنگ ایریا میں اس طرح پڑے تھے گویا جانور کو گھر نہ آ نے دیا جائے تو انہیں واشنگ ایریا میں رکھ دیا جائے، اس کے بعد میتوں کو سرد خانے منتقل کرکے انہیں غسل دیا جانا تھا، جائے غسل کی حالت، آکھڑا پلاسٹر، جابجا پانی پھیلا ہوا اور ایدھی کے رضاکاروں کے ہاتھوں
سے یہ غسل پاکر مٹی میں اترے ہوں گے، جہاں فطرت کے مطابق ، کیڑے مکوڑے، مٹی کے ڈھیلے، کچھ ریت اور خودرو پودے ان کا ماحول بنیں گے، تو یہی ہوتی ہے انسان کی حقیقت، کسی بڑے سے بڑے اسپتال چلے جائیں تو وہاں بھی بدبو کا عالم ہوگا، کوئ شخص جو ایک وقت میں عالم کو اپنی انگلی پہ نچایا کرتا تھا، اس وقت پیشاب روکنے پہ قادر نہ ہوگا، کوئ خاتون جنہوں نے50 سال اپنے بیٹوں۔بہوؤں پر راج کیا آ ج اس عالم میں ہیں کہ انھیں کسی ملازم سے کروٹ
دلائ جاتی ہے، پیمپر باندھے جاتے ہیں، نلکی کے ذریعے خوراک دی جاتی ہے، ایسی مثالیں جابجا ہیں، تو بہتر ہے ہم اس طرح کے کسی بھی فرد سے کراہیت کرنے کے بجائے ان سے خوش آ ئند بات کریں اور اپنے کسی عمل سے ظاہر نہ ہونے دیں کہ ہمیں ان کی جسمانی ساخت، بعد یا مواد پریشان کررہا ہے، یہ فطرت کا نظام ہے، آ نکھوں کے گرد گند، ناک سے مواد،
منہ سے بدبو یا گیس کا اخراج یہ سب اندر کے نظام کا ردعمل ہیں جو ہر انسان میں یکساں ہے، کسی بھی انسان کے اندر پھولوں کا باغ نہیں کھلا ہوا جو وہ دوسروں کے ریاح کے اخراج پہ ناک چڑھاتا ہے، اندرونی انٹ شنٹ سب کا ایک ہی ہے، اور اس میں زرا سی بے ترتیبی ہمیں بیماری کی اذیت میں اور ہمارے سامنے والے کو ناگواری میں مبتلا کرسکتی ہے
اللہ۔پاک۔سب کو بہترین صحت سے نوازے اور بڑے بول بولنے سے باز رکھے


